کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صبح صادق اور کاذب کی کیفیت اور سیدنا بلال اور سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کا بیان
حدیث نمبر: 3741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے، کیونکہ ان کی نظر میں کچھ خلل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’کیونکہ اس کی نظر میں کچھ خلل ہے۔‘‘ اس وجہ کااذانِ بلالی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس وجہ کا تعلق سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو سحری والی اذان کا ذمہ دار بنانے سے ہے، کیونکہ جب وہ طلوعِ فجر کے بعد والی اذان دیتے تھے تو بسا اوقات ان سے خطا ہو جاتی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے طلوعِ فجر سے پہلے اذان دے دی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ آواز لگائیں: ((اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔)) ’’خبردار! بندہ سو گیا تھا، خبردار! بندہ سو گیا تھا۔‘‘ پس وہ لوٹے اور یہ اعلان کرنے لگے: اَ لَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔ (ابوداود: ۵۳۲) اور دوسری اذان سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی گئی، چونکہ وہ نابینا تھا، اس لیے طلوع فجر پر ان کو متنبہ کیا جاتا تھا، پس وہ اذان شروع کر دیتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 3742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔
حدیث نمبر: 3743
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ))، قَالَتْ: فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ سیدہ کہتی ہیں: میرے علم کے مطابق (ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ) ایک اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کہنے کے لیے چڑھ جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 3744
عَنْ خُبَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي تَقُولُ وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ، إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ))، وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَنَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خبیب کہتے ہیں: میں نے اپنی پھوپھی (سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا )، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا تھا، سے سنا وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان تک کھاتے پیتے رہا کرو۔ (دونوں اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، بس) ایک اذان کہہ کر نیچے آتا تو دوسرا کہنے کے لیے چڑھ جاتا، (بسا اوقات) ہم دوسرے موذن کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے کہ ذرا رک جاؤ تاکہ ہم سحری کھا لیں۔
حدیث نمبر: 3745
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا))، قَالَتْ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا فَتَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) خبیب اپنی پھوپھی سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا سے بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے تو کھاتے پیتے رہا کرو، لیکن جب بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے تو کھانا پینا چھوڑ دیا کرو۔ سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب کسی عورت کی سحری باقی ہوتی تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی:ذرا رک جاؤ، تاکہ میں سحری سے فارغ ہو جاؤں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا مفہوم تو یہی ہے کہ اِن دو اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، لیکن الفاظ ایسے ہیں کہ اس وقفے کی مقدار کا تعین نہیں کیا جا سکتا، البتہ درج ذیل حدیث، جس میں اس اذان کا مقصد بیان کیا گیا ہے، اس سے اس وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُوْرِہٖفَاِنَّہٗیُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ لِیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَ لِیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ۔)) ’’سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کسی کو سحری سے نہ روکنے پائے، کیونکہ وہ تو رات کو اس لیے اذان دیتے ہیں، تاکہ قیام کرنے والے کو لوٹا دے اور سونے والوں کو بیدار کر دے۔‘‘ (بخاری، مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ اذان اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ قیام کرنے والے قیام بند کر دیں اور سونے والے نماز فجر کی تیاری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر کی دو اذانوں کے مؤذن سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے، اس باب کی اکثر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سحری والی اذان دیتے تھے، لیکن سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا سحری والی اذان دینا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا فجر والی اذان دینا بھی ثابت ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ اذان اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ قیام کرنے والے قیام بند کر دیں اور سونے والے نماز فجر کی تیاری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر کی دو اذانوں کے مؤذن سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے، اس باب کی اکثر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سحری والی اذان دیتے تھے، لیکن سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا سحری والی اذان دینا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا فجر والی اذان دینا بھی ثابت ہے۔