کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3730
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، قَالَ: ((صَلِّ كَذَا وَكَذَا وَصُمْ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَكُلْ وَاشْرَبْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ))، فَأَخَذْتُ خَيْطَيْنِ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَأَبْيَضَ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ فِيهِمَا فَلَا يَتَبَيَّنُ لِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ: ((يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں نماز پڑھا کرو اور (اس طرح) روزے رکھا کرو، جب سورج غروب ہو جائے تو (ساری رات) کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ سفید دھاگہ، سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے اور (رمضان کے) پورے تیس روزے رکھا کرو، الّا یہ کہ چاند اس سے پہلے نظرآجائے۔ پس میں نے ایک سیاہ اور ایک سفید دھاگہ لیا اور(سحری کے وقت) ان کی طرف دیکھنے لگا، لیکن وہ میرے لیے واضح نہیں ہو رہے تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر مسکرا پڑے اور فرمایا: سفید دھاگے سے مراد (طلوع فجر کے وقت) دن کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ممتاز ہونا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی ایک روایت اس طرح ہے: سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ} (اور سحری کے وقت کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ واضح ہو جائے)(سورۂ بقرہ: ۱۸۷) تو میں نے دو رسیاں لیں، ایک سیاہ تھی اور دوسری سفید، میں نے ان کو اپنے تکیے کے نیچے رکھا، پھر ان کو دیکھنے لگا، لیکن نہ تو میرے لیے سفید سے سیاہ رسی اور نہ سیاہ سے سفید رسی واضح ہو رہی تھی، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کیے کے بارے میں بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنْ کَانَ وِسَادُکَ لَعَرِیضًا، اِنَّمَا ذَالِکَ بَیَاضُ النَّھَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ)) ’’تیرا تکیہ تو پھر بڑا وسیع ہوا، ارے اس سے مراد تو رات کی سیاہی سے دن کی سفیدی کا واضح ہونا ہے۔‘‘ اس کو امام بخاری(۱۹۱۶) اور امام مسلم (۱۰۹۰) نے بھی روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آیات ِ قرآنی اور احادیث ِ نبوی کو سمجھنے کیلئے صرف عقل کافی نہیں ہے، بلکہ دوسری آیات و احادیث کی طرف رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3730
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2970، 2971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19593»
حدیث نمبر: 3731
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبِيتَ عِنْدَكَ اللَّيْلَةَ فَأُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: ((لَا تَسْتَطِيعُ صَلَاتِي))، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فَيُسْتَرُ بِثَوْبٍ وَأَنَا مَحَوَّلٌ عَنْهُ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى جَعَلْتُ أَضْرِبُ بِرَأْسِي الْجُدْرَانَ مِنْ طُولِ صَلَاتِهِ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ: ((أَفَعَلْتَ؟))، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((يَا بِلَالُ! إِنَّكَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ وَلَيْسَ ذَلِكَ الصُّبْحُ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا))، ثُمَّ دَعَا بِسَحُورٍ فَتَسَحَّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : میں آج رات آپ کے ہاں بسر کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں رات کی نماز پڑھ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے والی نماز کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور کپڑے کی اوٹ میں غسل کیا، جبکہ میرا رخ دوسری جانب تھا، پھر میں نے بھی اسی طرح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کر دی، (اور اتنا لمبا قیام کیا کہ) میں (تھکاوٹ یا نیند کے غلبہ کی وجہ) سے اپنا سر دیوار پر مارتا تھا،پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذان دے چکے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! تم جس وقت اذان کہتے ہو اس وقت روشنی آسمان کی طرف سیدھی جا رہی ہوتی ہے اوراس وقت صبح صادق نہیں ہوتی، صبح صادق تو اس وقت ہوتی ہے کہ جب روشنی (افق کے کناروں پر) پھیلتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا منگوا کر سحری کھائی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی طویل قیام کرتے تھے اور فجر کی بھی دو ہی اقسام ہیں: فجر کاذب اور فجر صادق۔ نمازِ فجر اور روزہ کے وقت کی ابتدا فجر صادق سے ہوتی ہے، فجر کاذب تو رات کا ہی حصہ ہے، جس میں سحری کرنا جائز ہوتا ہے اور نماز فجر ادا کرنا حرام، درج ذیل دو احادیث میں ان دو اقسام کی وضاحت کی گئی ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ، فَجْرٌ یُقَالُ لَہُ: ذَنَبُ السَّرْحَانِ، وَھُوَ الْکَاذِبُ یَذْھَبُ طُوْلاً، وَلَا یَذْھَبُ عَرْضاً، وَالْفَجْرُ الآخَرُ یَذْھَبُ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ یَحْرُمُ فِیْہِ الطَّعَامُ، وَتَحِلُّ فِیْہِ الصَّلَاۃُ، وَفَجْرٌ تَحُرُمُ فِیْہِ الصَّلَاۃُ، وَیَحِلُّ فِیْہِ الطَّعاَمُ۔)) ’’فجر کی دوقسمیں ہیں:(۱) فجر (صادق) ہے، جس میں(سحری کا کھانا) کھانا حرام ہوتا ہے اور نمازِ (فجر) پڑھنا درست ہوتا ہے اور (۲) فجرِ (کاذب) ہے، جس میں نمازِ (فجر) کی ادائیگی حرام ہوتی ہے اور (سحری کا کھانا) کھانا درست ہوتا ہے۔‘‘ (صحیح ابن خزیمۃ: ۱/۵۲/۲، حاکم: ۱/۴۲۵، بیہقی: ۱/۳۷۷، ۴۵۷، ۴/۲۱۶،صحیحہ:۶۹۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3731
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف، وسليمان بن ابي عثمان و حاتم بن ابي عدي مجھولان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21835»
حدیث نمبر: 3732
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَمَرَرْتُ بِمَنْزِلِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِلَقْحَةٍ، فَحُلِبَتْ وَبِقِدْرٍ فَسُخِّنَتْ ثُمَّ قَالَ: أَدْنُ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ: هَكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ) هَكَذَا صَنَعْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَبَعْدَ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ الصُّبْحُ غَيْرَ أَنْ لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زربن حبیش کہتے ہیں: میں نے سحری کا کھانا کھایا اوراس کے بعد مسجد کی طرف چل دیا، میرا گزر سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا، میں ان کے ہاں چلا گیا، انہوں نے حال میں ہی بچہ جنم دینے والی ایک اونٹنی کا دودھ دوہنے اور ہنڈیا کو گرم کرنے کا حکم دیا اور مجھ سے کہا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا: میں آج روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، سو ہم نے کھانا کھایا اور دودھ پیا اور پھر ہم مسجد کی طرف چلے گئے، اتنے میں نماز کی اقامت کہہ دی گئی (اور ہم نے نماز پڑھی)، پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ ایسے ہی کیا تھا۔ دوسری روایت میں ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ ایسے ہی کیا تھا۔میں نے کہا: کیا صبح ہو جانے کے بعد؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، صبح ہو چکی تھی، بس ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اِس حدیث کامذکورہ بالا آخری جملہ، حدیث کا آخری حصہ نہیں ہے، بلکہ اس حدیث کا آخری حصہ یہ ہے: قال: وَبَیْنَ بَیْتِ حُذَیْفَۃَ وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ کَمَا بَیْنَ مَسْجِدِ ثَابِتٍ وَبُسْتَانِ حُوْطٍ۔ راوی نے کہا: اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور مسجد کے درمیان اتنا فاصلہ تھا، جیسا سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی مسجد اور حوط کے باغ کے درمیان ہے۔ آنے والی دو احادیث بھی مذکورہ بالا حدیث ہی ہیں، لہذا ان کو بھی اس جملے کی روشنی میں سمجھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3732
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير عاصم بن بھدلة، فھو صدوق حسن الحديث، لكنه قد خولف في رفع الحديث، فقد رواه من ھو اوثق منه فوقفه۔ اخرجه النسائي: 4/ 142، ورواه ابن ماجه: 1695 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23753»
حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَمَّلٌ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ نَصْرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ وَإِنِّي لَأُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِي، قُلْتُ: أَبَعْدَ الصُّبْحِ؟ قَالَ: بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت سحری کھا رہے ہوتے تھے، جبکہ میں اس وقت اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا، میں (نصر) نے کہا: کیا صبح کے بعد؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، صبح کے بعد، البتہ ابھی سورج طلوع نہ ہوا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3733
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23784»
حدیث نمبر: 3734
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ: أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عاصم نے کہا: میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی؟ انہوں نے کہا: بس دن ہو چکا تھا، البتہ سورج طلوع نہ ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کی سندوں میں کچھ کلام ہے، بہرحال ان کے ظاہری مفہوم کا ادراک نہیں کیا جا رہا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ممکن ہے کہ سحری کے آخری وقت کھانے کو مبالغہ اس انداز سے بیان کر دیا ہو کہ بس سمجھو کہ سورج ہی چڑھ چکا تھا جبکہ حقیقت میں سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3734
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23792»
حدیث نمبر: 3735
عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُؤَذِّنُهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقَانِي، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاةِ فَقَامَ يُصَلِّي بِغَيْرِ وَضُوءٍ يُرِيدُ الصَّوْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنابلال بن رباح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ منگوا کر خود بھی پیا اور مجھے بھی پلایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور وضو کے بغیر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کا ارادہ رکھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … وضو کے بغیر نماز پڑھنا، یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا اپنا فہم ہے، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یا تو سونے سے پہلے وضو کیا ہوا ہو گا، جبکہ نیند سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو متأثر نہیں ہو تاتھا، یا ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیدار ہونے کے بعد وضو کیا ہو، لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اس کا پتہ نہ چل سکا ہو۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ روزے کی ابتداء و انتہاء سے متعلقہ انتہائی واضح احکام موجود ہیں، ان کی روشنی میں ہی اس قسم کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مثلاً اِس حدیث کییہ تاویل ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھنے کا قصد رکھتے ہوں، لیکن وقت پر بیدار نہ ہو سکے ہوں، اس لیے جب آنکھ کھلی تو چونکہ وقت ختم ہو چکا تھا، لیکن اس رخصت سے مستفید ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختصر سی سحری کھالی، جس رخصت کا ذکر حدیث نمبر (۳۷۳۷) اور اس کے فوائد میں کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3735
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، الا ان عبد الله بن معقل المزني لايعرف له سماع من بلال۔ اخرجه الطبراني: 1082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24386»
حدیث نمبر: 3736
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي السَّحَرِ: ((يَا أَنَسُ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا))، قَالَ: فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ: ((يَا أَنَسُ! انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي))، قَالَ: فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ فَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ))، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سحری کے وقت فرمایا: انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کوئی چیز کھلاؤ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، جبکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہہ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انس! کوئی آدمی ڈھونڈ کر لاؤ جو میرے ساتھ کھانا کھائے ۔ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ستو پی چکا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کی، اس کے بعد نکلے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی۔
وضاحت:
فوائد: … اذانِ بلال سے مراد پہلی اذان ہے، جو فجر صادق کے طلوع ہونے سے کچھ وقت پہلے دی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3736
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13064»
حدیث نمبر: 3737
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ لِيَشْرَبَ مِنْهُ فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ قَالَ جَابِرٌ: كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِيَشْرَبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے اور کوئی چیز پینے کے لیے برتن اس کے ہاتھ میں ہے، لیکن اسی وقت اذان کی آواز آ جاتی ہے (تو وہ کیا کرے)؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں یہ بیان کیا جاتا تھا کہ (ایسی صورت حال کے بارے میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: وہ پی لے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت زیادہ واضح ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعَ اَحَدُکُمُ الْاَذَانَ وَالْاِنَائُ عَلٰییَدِہٖ، فَلَا یَدَعْہُ حَتّٰییَقْضِیَ مِنْہُ۔)) ’’جب تم میں سے سحری کھانے والا اذان سنے، جبکہ پیالہ اس کے ہاتھ پر ہو، تو وہ ضرورت پوری کرنے تک اسے نہ رکھے۔‘‘ (مسند احمد: ۲/ ۴۲۲، ابوداود: ۲۳۵۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3737
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14814»
حدیث نمبر: 3738
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَكَانَ لَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موذن اذان کہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ادا فرماتے اور (روزے دار کے لیے) کھانا حرام کر دیتے، اور جب تک صبحِ (صادق) طلوع نہ ہو جاتی تھی، اس وقت تک اذان نہیں دی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3738
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه البخاري: 1181، ومسلم: 723 دون ذكر تحريم الطعام ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26962»
حدیث نمبر: 3739
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلَكِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور صبح کاذب تم کو سحری کھانے سے نہ روکے،ہاں جب افق میں پھیلنے والی روشنی یعنی صبح صادق ہو جائے (تو کھانے سے رک جاؤ)۔
وضاحت:
فوائد: … کیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے، جو طلوع فجر سے کچھ دیر پہلے رات کو دی جاتی ہے۔ جب روشنی بھیڑیے کی دم کی طرح مشرقی افق میں بلند ہوتی ہے تو اسے فجر کاذب کہتے ہیں
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3739
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20420»
حدیث نمبر: 3740
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ وَهَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ أَوْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور یہ (صبح کاذب) والی سفیدی تم کو کسی شک و شبہ میں نہ ڈالے، البتہ جب فجر پھٹ جائے یا طلوع ہو جائے (تو سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … ہم حدیث نمبر (۳۷۳۱) کی شرح میں فجر کی ان دو قسموں کی وضاحت کر آئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3740
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20339»