کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3718
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان کا مہینہ انتہائی باسعادت ہے، اللہ تعالیٰ کے راضی ہوجانے، جنت کے مل جانے اور جہنم سے دور ہو جانے کا اس مہینہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جب روزے دار بڑی خوشی کے ساتھ افطاری کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ جہنم سے آزادیاں عطا کر رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3718
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8088، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3605 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22555»
حدیث نمبر: 3719
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی روزہ دار کا روزہ افطار کراتا ہے تو اسے بھی روزے دار کے برابر ثواب ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ روزے دار کو روزہ افطار کرانا بھی انتہائی مبارک اور فضیلت والا عمل ہے۔ مؤلف نے افطاری کی کسی دعا کا ذکر نہیں کیا، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر افطاری کی جائے جیسا کہ کھانے کے آداب والی احادیث سے پتہ چلتا ہے، پھر افطاری کر کے درج ذیل دعائیں پڑھی جائیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: ((ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افطاری کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ’’ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔‘‘ (پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔) (ابوداود، نسائی) سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں روزہ افطار کیا اور یہ دعا کی: ((اَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ وَاَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (تمہارے ہاں روزے دار افطاری کرتے رہیں، نیکوکار لوگ تمہارا کھانا کھاتے رہیں اور فرشتوں تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے رہیں)۔ (ابوداود، ابن ماجہ) عوام الناس میں معروف دعا ’’اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ … ‘‘ کی تمام اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3719
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بالشواهد۔ اخرجه مطولا ومختصرا الترمذي: 807، ا1630، وابن ماجه: 2759 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17158»