کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روزہ افطارکرنے کا وقت
حدیث نمبر: 3709
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ: ((انْزِلْ يَا فُلَانُ فَاجْدَحْ لَنَا))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلَيْكَ نَهَارٌ، قَالَ: ((انْزِلْ فَاجْدَحْ))، قَالَ: فَفَعَلَ فَنَاوَلَهُ فَشَرِبَ فَلَمَّا شَرِبَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَغْرِبِ فَقَالَ: ((إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَاهُنَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ماہِ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر پر تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! اترو اور ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی دن باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: اترو اور ستو تیار کرو۔ چنانچہ اس نے یہ کام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستو لے کر پیئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب اس طرف سورج غروب ہو جائے اور اُدھر (مشرق) سے رات آجائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3709
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1955، 1956،ومسلم: 1101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19614»
حدیث نمبر: 3710
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِهِ بِشَرَابٍ، فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِهِ: لَوْ أَمْسَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: لَوْ أَمْسَيْتَ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ حَلَّ الْإِفْطَارُ أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا (وَفِي لَفْظٍ) إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اس لیے (افطاری کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کا انتظام کرنے والے کو بلایا اور مشروب لانے کا حکم دیا۔ آگے سے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ بلایا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ تین بار ایسے ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب (مشرق) سے رات آجائے تو افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم دیکھو کہ (مشرق) سے رات آ گئی ہے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنے والے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ ’’شام تو ہو لینے دیں۔‘‘ یہ جملہ کہنے والے کا خیال تھا کہ جو روشنی اور سرخی نظر آ رہی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ دن ختم ہو چکا ہے اور رات شروع ہو چکی ہے۔ یہ حدیث ِ مبارکہ یہ درج ذیل تین اہم امور پر دلالت کرتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کرنے میں غروبِ آفتاب کے فوراً بعد اس قدر جلدی فرمائی کہ صحابییہ سمجھ رہا تھا کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی تین دفعہ مراجعت کے باوجود حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے نرمی و ملاطفت سے کام لیا۔ اگر کسی آدمی کو یہ اندیشہ ہونے لگے کہ عالم سے نسیانیا غلطی ہو رہی ہے اور اس بنا پر وہ یاددہانی کرائے تو عالم کو چاہیے کہ اگر اس آدمی کو ہونے والے اشکال کی گنجائش موجود ہو تو اس کی بات محسوس نہ کرے اور اصل مسئلہ کی وضاحت کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3710
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19633»
حدیث نمبر: 3711
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَقَالَ مَرَّةً جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ))، يَعْنِي الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات (مشرق) سے آجائے اور دن (مغرب) کی طرف سے چلا جائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد مشرق اور مغرب تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3711
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1954،ومسلم: 1100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 192»
حدیث نمبر: 3712
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات آ جائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3712
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 338»
حدیث نمبر: 3713
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ افطار کر لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’جب رات آجائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے‘‘ ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے اور اول الذکر دونوں چیزوں کا انحصار غروبِ آفتاب پر ہے، جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو مشرق سے رات کی آمد شروع ہو جاتی اور دن تو ویسے ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس باب کی احادیثسے معلوم ہوا کہ جب سورج کی ٹکیہ غروب ہو جائے تو اسی وقت روزہ افطار کر دینا چاہیے اور مزید انتظار نہیںکرنا چاہیے، وگرنہ یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت لازم آئے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حنفی لوگ سورج غروب ہو جانے کے بعد مزید انتظار کرتے ہیں، بلکہ ایک حنفی عالم کو ہم نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مزید انتظار کرنا تقوی ہے۔ لیکنیہ عجیب تقوی ہے، جو احادیث ِ رسول پر عمل کرنے میں کوتاہی کا سبب بن رہا ہے۔ ہر کوئییہ کلیہ تو تسلیم کرتا ہے کہ افطاری کا وقت یہی ہے، لیکن معلوم نہیں کہ عملاً تاخیر کرنے کا سبب کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3713
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن قطبة بن قتادة، ومحمد بن بن ثعلبة مستور الحال۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 38 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16838»