کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر¤رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
حدیث نمبر: 3703
عَنْ حَفْصَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ مَعَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر کے ساتھ روزے کی نیت نہیں کی، اس کا کوئی روزہ نہیں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود اور ترمذی میں ’’مَعَ الْفَجْرِ‘‘ کی بجائے ’’قَبْلَ الْفَجْرِ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہیں کر لے گا، اس کا روزہ نہیں ہو گا، لیکن اگلی روایات اور ان کی شرح سے یہ معلوم ہو گا کہ اس حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے، جس نے فرضی روزہ رکھنا ہو اور اس کو اس روزے کا علم بھی ہو اور وہ جاگ بھی رہا ہو۔ مزید آپ بغور اگلی روایات اور ان کی شرح کا مطالعہ کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3703
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فيه ابن لھيعة سييء الحفظ، ثم انه اختلف عليه۔ اخرجه ابوداود: 2454، والترمذي: 730، والنسائي: 4/ 196، وابن ماجه: 1700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26989»
حدیث نمبر: 3704
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، فَيَقُولُ: ((أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونِيهِ؟))، فَتَقُولُ: لَا، مَا أَصْبَحَ عِنْدَنَا شَيْءٌ كَذَاكَ، فَيَقُولُ: ((إِنِّي صَائِمٌ))، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَخَبَّأْنَاهَا لَكَ، قَالَ: ((مَا هِيَ؟))، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ: ((قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا))، فَأَكَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تو پھر میں روزے دار ہوں۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھا لیا۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھا لیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بڑا تعجب ہوا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے پاس روزے کی حالت میں تشریف لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حَیْس کھا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، یَا عَائِشَۃُ! اِنَّمَا مَنْزِلَۃُ مَنْ صَامَ فِیْ غَیْرِ رَمَضَانَ أَوْ غَیْرِ قَضَائِ رَمَضَانَ اَوْ فِیْ التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ اَخْرَجَ صَدَقَۃَ مَالِہٖفَجَادَمِنْھَابِمَاشَائَفَاَمْضَاہُوَبَخِلَمِنْھَابِمَابَقِیَ فَاَمْسَکَہٗ۔)) ’’جی ہاں، عائشہ! جس آدمی نے رمضان اور قضائے رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال میں سے صدقہ کے لیے (کچھ رقم) نکالے، لیکن پھر اس میں سے جتنی مقدار چاہے صدقہ کر دے اور جتنی مقدار چاہے روک لے۔‘‘ نسائی کی ایک اور روایت میں ہے: فَاَکَلَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا مِثْلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مِثْلُ الرَّجُلِ یُخْرِجُ مِنْ مَالِہٖ الصَّدَقَۃَ فَاِنْ شَائَ اَمْضَاھَا وَاِنْ شَائَ حَبَسَھَا۔) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھایا اور فرمایا: ’’نفلی روزہ رکھنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال سے صدقہ کے لیے کچھ مال نکالتا ہے، لیکن پھر چاہے تو اسے صدقہ کر دے اور چاہے تو روک لے۔‘‘ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی صدقہ کی نیت سے اپنے مال میں سے کچھ مال علیحدہ کرتا ہے، لیکن ابھی تک اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سارے معین مال کا صدقہ کر دے یا سارے کو روک لے، یا کچھ روک لے اور کچھ صدقہ کر دے۔ بالکل اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ روزہ توڑ بھی سکتا ہے اور پورا بھی کر سکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کسی جا سکتی ہے، لیکنیہ اس صورت میں ہو گا کہ متعلقہ آدمی نے سحری سے لے کر اس وقت تک کھایا پیا نہ ہو اور دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ نفلی روزہ بلا عذر توڑا جا سکتا ہے، اگرچہ افضل یہی ہے کہ اس کو پورا کیا جائے۔
درج ذیل احادیث میں ایک انتہائی مسئلے کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ جس آدمی پر سحری کے وقت کے گزر جانے کے بعد روزہ فرض ہو، مثلا: سحری کا وقت گزر جانے کے بعد کسی وقت میں پاگل کی دیوانگی کا دور ہو جانا، بچے کا بالغ ہو جانا، کافر کا مشرّف باسلام ہونا اور رمضان کے چاند کے نظر آنے کی اطلاع موصول ہونا، ایسی صورتوں میں متعلقہ لوگ کیا کریں گے؟ درج ذیل احادیث میں ان سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24724»
حدیث نمبر: 3705
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: ((مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا؟))، قَالَ: قَالُوا: مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: ((فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَأَرْسِلُوا إِلَى مَنْ حَوْلَ الْمَدِينَةِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خالد بن ذکوان کہتے ہیں: میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے یومِ عاشورکے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن پوچھا تھا: تم میں سے کس کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بقیہ دن کا روزہ پورا کرو اور مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں بھی اعلان کرا دو کہ وہ بھی بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3705
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، لكن انظر الحديث بالطريق الثاني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27566»
حدیث نمبر: 3706
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَتْنِي رُبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ قَالَ: ((مَنْ كَانَ مِنْكُمْ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ عَشِيَّةِ يَوْمِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی بستیوں میں یہ اعلان کرنے کے لیے ایک بندے کو بھیجا: جس نے روزہ رکھاہوا ہو، وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ بھی دن کے پچھلے پہر یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3706
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1960، ومسلم: 1136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27025) ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27565»
حدیث نمبر: 3707
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3707
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8701»
حدیث نمبر: 3708
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي الْمِنْهَالِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْلَمَ: ((صُومُوا الْيَوْمَ))، قَالُوا: إِنَّا قَدْ أَكَلْنَا، قَالَ: ((صُومُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ))، يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ا بو منہال عبد الرحمن اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ عاشورا کو بنو اسلم کے قبیلہ کے لوگوں سے فرمایا: آج روزہ رکھو۔ انہوں نے کہا: ہم نے تو کھا پی لیا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بقیہ دن کا روزہ رکھ لو۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ دو اہم فوائد پر مشتمل ہے: (اول): … ابتدائے اسلام میں عاشورا (محرم کی دس تاریخ) کا روزہ فرض تھا، جیسا کہ اس کے لیے کیے گئے اہتمام اور کھانا کھا لینے والوں کو دن کے باقی حصے کا روزہ رکھنے کے حکم سے عیاں ہو رہا ہے، کیونکہ نفلی روزے میں اس قسم کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا کہ صبح کھانا کھا لینے کے بعد اس کی تکمیل کی جائے، جیسا کہ ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (تہذیب السنن: ۳/ ۳۲۷)میں اس کی وضاحت کی ہے۔ نیز اس موضوع کی دیگر احادیث سے بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ عاشورا کا روزہ فرض تھا، رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا۔
(دوم): … جس آدمی پر روزہ سحری کے وقت کے گزر جانے کے بعد فرض ہو، مثلا: سحری کا وقت گزر جانے کے بعد کسی وقت پاگل کی دیوانگی کا دور ہو جانا، بچے کا بالغ ہو جانا، کافر کا مشرّف باسلام ہونا اور رمضان کے چاند کے نظر
ٓنے کی اطلاع موصول ہونا۔ ان تمام صورتوں میں ان تمام افراد پر جب روزہ فرض ہو گا، اسی وقت ان کا نیت کر لینا کافی ہو گا، اگرچہ انھوں نے کھا پی بھی لیا ہو، مجبوری کییہ حالتیں درج ذیل حدیث سے مستثنی ہوں گی: ((مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِیَامَ لَہٗ۔)) ’’جسنےطلوعفجرسےپہلےپہلےروزےکی نیت نہ کی، اس کا کوئی روزہ نہیں ہو گا۔‘‘ یہ صحیح حدیث ہے، میں نے (صحیح أبی داود: ۲۱۱۸) میں اس کی تحقیق پیش کی ہے۔ ہم نے اس حدیث سے جو استدلال پیش کیا ہے، امام ابن حزم، امام ابن تیمیہ امام شوکانی اور دیگر محققین کی بھییہی رائے ہے۔
اعتراض: … اس حدیث کا تعلق تو یوم عاشورا سے ہے، جبکہ اس سے استدلال کر کے رمضان کے بارے میں جو دعوی پیش کیا گیا ہے، وہ عام ہے؟
جواب: … لفظوں کی حد تک یہ اعتراض درست ہے، حقیقتیہ ہے کہ عاشورا کا روزہ بھی فرض تھا اور رمضان کے روزے بھی فرض ہیں، دونوں کا مشترک وصف فرضیت ہے، اس لیے ہمارا استدلال درست ہے۔ ابو الحسن سندھی نے سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں کہا: جو احادیث عاشورا کے روزے کی فرضیت پر دلالت کرتی ہیں، ان میں سے ایک حدیثیہ بھی ہے، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روزے کا اتنا اہتمام کیا کہ اس سے اس کا فرض ہونا لازم آتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ دوسری احادیث اس روزے کے منسوخ ہونے کی شہادت دیتی ہیں اور اس کی منسوخیت پر علمائے امت کا اتفاق ہے۔ لیکن اس روزے کے منسوخ ہونے کے باوجود اس سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ دن کو فرضی روزے کی نیت کی جا سکتی ہے۔ اس استدلال کے جواب میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ عاشورا کا روزہ تو منسوخ ہو چکا ہے، اس لیے اس حدیث سے کوئی استدلال کرنا بے معنی ہو گا، کیونکہ ہم یہکہتے ہیں کہ یہ حدیث دو امور پر دلالت کرتی ہے: (۱) عاشورا کا روزہ فرض ہے اور
(۲) دن کو بھی فرضی روزے کی نیت کی جا سکتی ہے۔
پہلا حکم منسوخ ہو چکا ہے، لیکن اس کے نسخ سے دوسرے حکم کا منسوخ ہونا لازم نہیں آتا۔
ابھی تک ایک مسئلہ باقی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں پر رات کو روزے کی نیت کرنا اس وقت فرض ہوتا ہے، جب ان کو روزے کا علم ہو، اگر طلوع فجر کے بعد دن کے کسی حصے میں پتہ چلے کہ آج تو یکم رمضان ہے، تو ایسی صورت میں اسی وقت نیت کرنا ضروری ہو جاتا ہے، اگر رات کو ہیرمضان کا چاند نظر آنے کا علم ہو جائے تو سحری سے پہلے روزے کی نیت کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ مختلف نصوصِ شرعیہ میں یہی جمع و تطبیق حق ہے۔ امام ابن حزم کی (المحلی: ۶/ ۱۱۶) میں پیش کی گئی بحث کا خلاصہ بھییہی ہے، انھوں نے اپنی بحث کے آخر میں کہا: سلف کی ایک جماعت کابھییہی مسلک ہے، جیسا کہ عبد الکریم جزری بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے یکم رمضان کی صبح ہو جانے کے بعد یہ گواہی دی کہ انھوں نے رات کو چاند دیکھا تھا۔ ان کی اس شہادت کو معتبر سمجھتے ہوئے عمر بن عبد العزیز نے یہ حکم نافذ کیا: جس نے کچھ کھا پی لیا ہے، وہ دن کے بقیہ حصے میں (کھانے پینے سے) رکا رہے اور جس نے کھایا پیانہیں، وہ اس دن کا روزہ پورا کرے۔ (المصنف لابن ابی شیبہ: ۳/ ۶۹ وسندہ صحیح علی شرط الشیخین)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھییہی مسلک ہے، وہ (الاختیارات العلمیۃ: ۴/۶۳) میں کہتے ہیں: دن کو فرض روزے کی نیت کر لینا بھی درست ہے، لیکنیہ حکم اس شخص کے لیے جسے رات کو روزوں کی فرضیت کا علم نہ ہو سکا اور طلوع فجر کے بعد دن کے کسی وقت میں شہادتوں کے ذریعے رات کو رمضان کا چاند نظر آنے کا پتہ چلا، ایسا شخص بقیہ دن کا روزہ پورا کرے، اس پر کوئی قضا نہیں ہو گی، اگرچہ اس نے کچھ کھا پی بھی لیا ہو۔‘‘
پھر امام ابن قیم اور امام شوکانی نے بھییہی مسلک اختیار کیا، تفصیلی بحث کا خواہشمند درج ذیل کتب کامطالعہ کرے: مجموع الفتاوی: ۲۵/۱۰۹، ۱۱۷۔ ۱۱۸، زاد المعاد: ۱/۲۳۵، تھذیب السنن: ۳/۳۲۸، نیل الاوطار: ۴/۱۶۷ (صحیحہ: ۲۶۲۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3708
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2447، والنسائي: 2850 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20595»