کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3693
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ خَطَبَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنِّي قَدْ جَلَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُمْ، أَلَا وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ، وَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں: میں نے ایسے دن میں خطبہ دیا کہ جس کے بارے میں یہ شک کیا جا رہا تھا کہ (وہ شعبان کا ہے یا رمضان کا)، میں نے کہا: میں صحابۂ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ان سے سوالات کیے ہیں، انہوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو اور اسی کے حساب سے دوسری عبادات ادا کرو، اگر کسی وجہ سے چاند چھپ جائے، تو تیس دن پورے کر لو اور اگر دو مسلمان چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی گواہی دے دیں تو اس بنیاد پر روزہ رکھنا شروع کر دو اور ترک کردو۔
حدیث نمبر: 3694
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّاهُ بِالْأَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ لوگوں نے رمضان کی تیس تاریخ کو روزے کی حالت میں صبح کی، اتنے میں دو بدّو آئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اسی وقت روزہ افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 3695
عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسَ حَدَّثَنِي عُمُومَةٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غُمَّ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں: مجھے میرے انصاری چچوں، جو کہ صحابہ میں سے تھے، نے بیان کیاکہ (۲۹ رمضان کو) ان کو شوال کا چاند نظر نہ آیا، اس لیے لوگوں نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر دن کے پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر چاند کی خبر ملنے پر نماز عید کا وقت ختم ہو چکا ہو تو دوسرے دن یہ نماز ادا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3696
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چچوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چاند نظر آ جانے کی گواہی دی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور کل کو عید کے لیے نکلیں۔
حدیث نمبر: 3697
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ هِلَالَ شَوَّالٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْطِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے کل شوال کا چاند دیکھ لیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! روزہ توڑ دو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی صحیح اور مرفوع احادیث سے معلوم ہوا کہ رؤیت ِ ہلال کے لیے کم از کم دو عادل مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے ایک مسلمان کی شہادت کی قبولیت کا ثبوت مل رہا ہے: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تَرَائَ ی النَّاسُ الْھِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِنِّیْ رَأَیْتُہٗ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہٖ۔ لوگوں نے (رمضان کا) چانددیکھنے کی کوشش کی، میں نے اللہ کے رسول کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (ابوداود: ۲۳۴۲)
اب رؤیت ِ ہلال کے لیے ایک شخص پر اعتبار کیا جائے یا دو کی گواہی ضروری ہے، اس بارے میں کل تین آراء سامنے آ گئیں: (۱) ایک مسلمان کی شہادت بھی جائز اور درست ہے، کیونکہ جن احادیث میں دو افراد کی گواہی کا حکم دیا ہے گیا، ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایک کی شہادت قبول نہ کی جائے، جبکہ مذکورہ بالا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کا منطوق یہ ہے کہ ایک کی گواہی بھی قبول کی جا سکتی ہے اور اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب مفہوم اور منطوق میں تضاد آ جائے تو منطوق کو ترجیح دی جائے گی۔
(۲)دو افراد کی شہادت ضروری ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث کا تقاضہ ہے، جن احادیث میں ایک فرد کی گواہی کا ذکر ہے، اِن کے نزدیک ان کی تاویل کی جاتی ہے کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے لوگوں نے بھی چاند کے نظر آنے کی اطلاع دی ہو۔
(۳)ابتدائے رمضان کے لیے ایک فرد کی شہادت کافی ہے، لیکن انتہائے رمضان کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، تاکہ جھوٹ کی تہمت کا شبہ دور ہو جائے، کیونکہ طبعی طور پر لوگوں کا میلانیہ ہوتا ہے کہ رمضان (۲۹) تاریخ
کی شام کو ہی ختم ہو جائے۔ ہمارے نزدیک پہلا قول راجح ہے، دوسرے مسلک والوں نے ایک فرد کی شہادت والی احادیث کی جو تاویل کی ہے، یہ خواہ مخواہ کا احتمال ہے، اِن احادیث کے ظاہری الفاظ اس کی اجازت نہیں دیتے، اسی طرح رمضان کی ابتداء و انتہاء میں فرق کرنا بلا دلیلہے، جیسے ایک فرد کی شہادت کی بنا پر رمضان کو شروع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ عادل: اس شخص کو عادل کہتے ہیں، جو مسلمان ہو، عاقل ہو، بالغ ہو اور فسق و فجور سے محفوظ ہو۔
اب رؤیت ِ ہلال کے لیے ایک شخص پر اعتبار کیا جائے یا دو کی گواہی ضروری ہے، اس بارے میں کل تین آراء سامنے آ گئیں: (۱) ایک مسلمان کی شہادت بھی جائز اور درست ہے، کیونکہ جن احادیث میں دو افراد کی گواہی کا حکم دیا ہے گیا، ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایک کی شہادت قبول نہ کی جائے، جبکہ مذکورہ بالا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کا منطوق یہ ہے کہ ایک کی گواہی بھی قبول کی جا سکتی ہے اور اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب مفہوم اور منطوق میں تضاد آ جائے تو منطوق کو ترجیح دی جائے گی۔
(۲)دو افراد کی شہادت ضروری ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث کا تقاضہ ہے، جن احادیث میں ایک فرد کی گواہی کا ذکر ہے، اِن کے نزدیک ان کی تاویل کی جاتی ہے کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے لوگوں نے بھی چاند کے نظر آنے کی اطلاع دی ہو۔
(۳)ابتدائے رمضان کے لیے ایک فرد کی شہادت کافی ہے، لیکن انتہائے رمضان کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، تاکہ جھوٹ کی تہمت کا شبہ دور ہو جائے، کیونکہ طبعی طور پر لوگوں کا میلانیہ ہوتا ہے کہ رمضان (۲۹) تاریخ
کی شام کو ہی ختم ہو جائے۔ ہمارے نزدیک پہلا قول راجح ہے، دوسرے مسلک والوں نے ایک فرد کی شہادت والی احادیث کی جو تاویل کی ہے، یہ خواہ مخواہ کا احتمال ہے، اِن احادیث کے ظاہری الفاظ اس کی اجازت نہیں دیتے، اسی طرح رمضان کی ابتداء و انتہاء میں فرق کرنا بلا دلیلہے، جیسے ایک فرد کی شہادت کی بنا پر رمضان کو شروع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ عادل: اس شخص کو عادل کہتے ہیں، جو مسلمان ہو، عاقل ہو، بالغ ہو اور فسق و فجور سے محفوظ ہو۔