حدیث نمبر: 3664
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلَّقُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جنت کے دروازوں کا کھلنا، جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہو جانا۔ ان الفاظ کو حقیقی معنوں پر ہی محمول کرنا چاہیے۔ صرف مؤخر الذکر چیز سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے تو پھر ماہِ مقدس میں نافرمانیوں کا سلسلہ کیوں جاری رہتا ہے؟
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا: (۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ’’بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔‘‘
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا: (۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ’’بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔‘‘
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
حدیث نمبر: 3665
عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ عُتْبَةُ هَابَهُ فَسَكَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فِي رَمَضَانَ تُغْلَقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، قَالَ: وَيُنَادِي فِيهِ مَلَكٌ: يَا بَاغِي الْخَيْرِ! أَبْشِرْ، وَيَا بَاغِي الشَّرِّ! أَقْصِرْ، حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک کے رمضان گزر جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان المبارک اس اعتبار سے منفرد مہینہ ہے کہ اس میں کئی لوگوں کو ان کے مزاج برائیوں سے دور کر کے نیکیوں کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ نیکی کے متلاشی کو خوشخبری دینے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ آسانی کے ساتھ نیکیوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا، اور دوسرییہ کہ نیکی کا کئی گنا زیادہ ثواب ملے گا، اس پر مستزاد یہ کہ نیکیوں کا ماحول اور معاشرے سے طبعی شرم و حیا بھی راہِ راست پر چلنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ برائی کو چاہنے والے کو آوازدینے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اب تو برائیوں سے رک جا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر، کیونکہیہ توبہ کی قبولیت کا زمانہ ہے اور مغفرت کے اسباب کے لیے مستعد ہو جانے کا وقت ہے، ایسے موسم میں تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو اپنی برائیوں پر اڑا رہے۔
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
حدیث نمبر: 3666
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے تو سخاوت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مستقل وصف تھا، لیکن جب سید الملائکہ جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوتی، نئے علوم و تجلیات سے واسطہ پڑتا، مزاج میں مزید رفعت پیدا ہو جاتی، محسنِ حقیقی کے مخصوص احسانات وصول ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود جودو سخا والے عنصر کو ترقی ملتی اور بندگانِ خدا کے ساتھ انعام و احسان کا سلسلہ پہلے سے بڑھ کر شروع ہو جاتا، اس وصف میں اضافے کا سبب خود ماہِ رمضان بھی ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ جبرائیل رضی اللہ عنہ کی ملاقات سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احساس اور مزاج میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی تھی، اس چیز کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جنسیں مختلف ہیں، ایک طرف سے سید البشر ہیں اور دوسری طرف سے سید الملائکہ ہیں، جب کہ ہم صرف اپنے ہم جنسوں سے مانوس ہونے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔
عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3667
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ، خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا، وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّةً، ثُمَّ يَقُولُ: يَوشِكُ عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ أَنْ يَلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، فَلَا يَخْرُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْرُصُونَ فِي غَيْرِهِ، وَيَغْفِرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ))، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرُهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاں دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیل یہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاں کرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جب وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3668
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ فَانْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جائے، جس نے ماہِ رمضان کو پایا، لیکن یہ مہینہ اس کی بخشش سے پہلے گزر گیا۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی بخشش کے کئی اسباب سے متصف ہے، لیکن جو آدمی اس ماہِ مقدس میں بھییہ اسباب جمع نہ کر سکا، وہ اس اہل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے بد دعا کریں۔
حدیث نمبر: 3669
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: ((اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ))، وَكَانَ يَقُولُ: ((لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمک دار ہے۔
حدیث نمبر: 3670
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَتَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَا أَتَى عَلَى الْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَذَلِكَ لِمَا يُعِدُّ الْمُؤْمِنُونَ فِيهِ مِنَ الْقُوَّةِ لِلْعِبَادَةِ، وَمَا يُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِهِمْ، هُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس چیز کی قسم اٹھائی، اسی کی قسم! مسلمانوں کے لئے ماہِ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقین کے لئے اس سے زیادہ برا مہینہ کوئی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مہینے میں عبادت کے لئے قوت تیار کرتے ہیں، جبکہ منافق اس ماہ میں لوگوں کے عیوب اور کوتاہیاں ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتے ہیں،یہ مہینہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لئے بھی فرصت کا موقع ہے۔
حدیث نمبر: 3671
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ، وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَذَكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ لِلْعِبَادَةِ مِنَ النَّفَقَةِ، وَيُعِدُّ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ، فَهُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ، يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مؤمن کی روٹینیہ ہوتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں ضرورت پڑنے والے اسبابِ معیشت کا پہلے سے ہی انتظام و انصرام کر لیتا ہے، تاکہ ماہِ مبارک کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ ہو جائے۔مثلا: سحری و افطاری، صدقہ و خیرات، رات کا قیام، اعتکاف اور مزید فرائض و نوافل۔ لیکن مؤمن کی اس ظاہری غفلت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منافق بیچارہ اپنے شرّ میں اضافے کے بارے میں سوچتا ہے کہ اہل ایمان کو کس کس انداز میں نقصان پہنچا سکتا ہے یا پریشان کر سکتا ہے۔