حدیث نمبر: 3655
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَمَا تَأَخَّرَ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کے حصول کے لئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … کسی نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان کا شرطِ اوّل ہونا تو واضح ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ ہر نیکی کی بنیاد اجرو ثواب کا حصول ہو، اس سلسلے میں ریاکاری، مفاد پرستی، دنیا پرستی اور خوشامد جیسے امور سے محفوظ رہنا چاہیے
حدیث نمبر: 3656
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو رمضان کے قیام کی رغبت ضرور دلاتے تھے، البتہ حتمی حکم نہیں دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کرے گا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 3657
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود لوگوں کو قیام کے لیے جمع نہیں کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … قیامِ رمضان کے لیے مستقل جماعت کا سلسلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 3658
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اور اجرو ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اسی طرح جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی خاطر شب ِ قدر کا قیام کیا تو اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 3659
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُودَهُ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي بِهِ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ، كَفَّرَ مَا كَانَ قَبْلَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اس کی حدود کا خیال رکھا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ حصولِ ثواب کی رغبت رکھتے ہوئے اور عذاب سے ڈرتے ہوئے روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 3660
عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کے روزے رکھے گا تو یہ ایک ماہ کے روزے (اجر میں) دس مہینوں کے روزوں کے برابر جائیں گے، پھر جس نے عید الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے رکھے تو یہ سارا عمل سال بھر کے روزوں کے برابر ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ کل پینتیس چھتیس روزے بن جاتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا تو ہوتا ہی ہے، اس اعتبار سے روزوں کی اس مقدار کا ثواب (۳۵۰) یا (۳۶۰) روزوں تک جا پہنچتا ہے، اس اعتبار سے اس حدیث میں سال بھر کے روزوں کے ثواب کی بات کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3661
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، يُصَلِّي الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ))، قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((دَعْهُمْ يَعْمَلُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہوا کہ مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عبادات کی اپنی مخصوص عادت کو اپنے حق میں کافی سمجھنے لگے، دیکھیں اگر ایک آدمی اس حدیث کو سامنے رکھ کرمشرف باسلام ہوتا ہے، نماز ادا کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے روک دیا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ان تین اعمال کے ہی ہو کر رہ جائیں اورمزید کوئی عمل نہ کریں۔
حدیث نمبر: 3662
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَرِيفٌ مِنْ عُرَفَاءِ قُرَيْشٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ فَلْقٍ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالًا وَالْأَرْبَعَاءَ وَالْخَمِيسَ وَالْجُمُعَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’فَلْقِ فِیْ‘‘ میں ’’فَلْق‘‘ کے معانی پھٹن اور شگاف کے اور ’’فِیْ‘‘ کے معانی منہ کے ہیں، صحابی کا مقصود یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔
حدیث نمبر: 3663
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک بدّو بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ کے تین روزے سینے کے کینے اور وسوسے کو ختم کر دیتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … صبر والے مہینے سے مراد ماہِ رمضان ہے۔ ہر عبادت کی برکت ہوتی ہے، جب آدمی روزے کی وجہ سے جھوٹ اور غیبت اور دوسرے حرام امور سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جائز خواہشات تک کوکنٹرول کرتا ہے، تو اس سے مزید نیکی کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے اور اس سے بندہ کئی برائیوں کو ترک کرنے کا اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے کا عزم کر لیتا ہے۔