کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3640
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّمَا يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي، فَصِيَامُهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے کھانا پینا چھوڑتا ہے،اس لیے اس کا روزہ بھی میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا، ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایسی عبادت ہے، جو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … روزے دار لوگوں سے متعلقہ ایک اہم گزارش یہ ہے کہ روزے کا تعلق صرف کھانے پینے کو ترک کر دینے سے نہیں ہے، غور کریں کہ روزے دار نہ شور مچا سکتا ہے اور نہ جاہلانہ گفتگو کر سکتا ہے، اگر کوئی اسے گالی دیتا ہے یا اس سے لڑتا ہے تو وہ یوں جواب دیتا ہے: میں تو روزہ دار ہوں، میں تو روزہ دار ہوں، اس وجہ سے میں گالی کا گالی کی صورت میں اور لڑائی کا جواب لڑائی کی صورت میں نہیں دوں گا۔ بھلا کیا ایسے روزہ داروں کا وجود ملتا ہے؟ الا ماشاء اللہ
حدیث نمبر: 3641
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَةَ ابْنِ آدَمَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کی ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک مقرر کر رکھا ہے، ما سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی روزہ افطار کرنے کے وقت ہوتی ہے اور دوسری قیامت کے دن ہو گی، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3642
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ، وَفِيهِ: ((إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اور وہ اِس کو بدلہ دے گا تو یہ خوش ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … افطاری کے وقت خوشی کا سبب عبادت کامکمل ہونا، مفسدات سے پاک ہونا اور اجر و ثواب کی امید ہونا اور مختلف ماکولات و مشروبات سے بھوک پیاس کو دور کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت خوشی کا سبب اِس عمل کی جزا کو دیکھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کویاد کرنا ہے، جس کی وجہ سے اس عبادت کی توفیق ملی تھی۔
حدیث نمبر: 3643
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 3644
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ، قَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن ابی ہند کہتے ہیں: بنو عامر کے ایک آدمی مطرف نے بیان کیا کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی نے اسے پلانے کے لیے دودھ منگوایا، لیکن مطرف نے کہا کہ وہ تو روزے دار ہے تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جہنم سے بچنے کے لیے روزہ ایسی ہی ڈھال ہے، جیسے لڑائی میں آدمی ڈھال استعمال کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … روزہ ڈھال ہے، اس کے ذریعے بندہ دنیا میں بدگوئی، فحش کلامی، گناہوں اور جہنم کے دوسرے اسباب سے اور آخرت میں آگ کے عذاب سے بچتا ہے۔ روزہ جہنم سے بچنے کے لیے اس طرح سے ڈھال بھی ہے کہ جہنم کے ارد گرد شہوات کا گھیرا ہے اور روزہ سرے سے شہوات سے ہی روکتا ہے، اس طرح مسلمان روزے کے سبب سے جہنم سے دور رہ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3645
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَالَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ وَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے رب کا ارشاد ہے: روزہ ایک ڈھال ہے، جس کے ذریعہ بندہ جہنم سے بچتا ہے اور یہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
حدیث نمبر: 3646
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، قَالَ: يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ، هَلُمُّوا إِلَى الرَّيَّانِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ، أُغْلِقَ ذَلِكَ الْبَابُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے ایک دروازے کا نام رَیَّان ہے، قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ اِدھر بابِ ریان کی طرف آ جاؤ، جب ان کا آخری بندہ گزر جائے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’رَیَّان‘‘ کے معانی سیر و سیراب کے ہیں،یہ ’’عَطْشَان‘‘ (پیاسے) کی ضد ہے، اس اعتبار سے روزے داروں کے دروازے کا لفظاً اور معنًییہی نام مناسب تھا۔
حدیث نمبر: 3647
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) فَإِذَا دَخَلُوهُ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ غَيْرُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب روزے دار اس دروازے سے داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی اس سے اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔
حدیث نمبر: 3648
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُدْعَوْنَ بِذَلِكَ الْعَمَلِ، وَلِأَهْلِ الصِّيَامِ بَابٌ يُدْعَوْنَ مِنْهُ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ))، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَحَدٌ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والوں کے لئے جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہو گا، کہ ان کو جس سے داخل ہونے کی آواز دی جائے گا، روزے داروں کے لئے بھی ایک رَیَّان نامی مستقل دروازہ ہو گا، اس سے ان کو بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا،جسے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو گے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میں ہر قسم کی عبادت بدرجۂ اتم موجود تھی، اس لیے امید ہے کہ جنت کے ہر دروازے سے بلائے جانے والوں کی فہرست میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام بھی ہوگا۔
حدیث نمبر: 3649
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کے سبب سے اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں نے ’’فوائد ابی الطاھر الذھلی‘‘ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ …۔)) ’’جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور ایک اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔‘‘ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
حدیث نمبر: 3650
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ، قَالَ: ((عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ))، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: ((عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل کرنے کا حکم دیں کہ جو مجھے جنت میں پہنچا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کے مثل نہیں ہے۔ جب میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (یہی مطالبہ رکھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں روزے کو ہی افضل سمجھا کہ دونوں دفعہ اسی کا حکم دیا، جبکہ اس قسم کے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے سائلین کے لیے روزوںکے علاوہ دوسرے اعمال کی نشاندہی کی، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکیم تھے اور ایک طبیب کی طرح تھے، ہر انسان کی کیفیت کے مطابق دوا تجویز کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3651
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ: فَيُشَفَّعَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا: میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3652
عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا: ((كُلِي))، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا، رُبَّمَا قَالَ: حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3653
عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَوْلَاتِهِ لَيْلَى عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ عُمَارَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَيْهَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِمْ تَمْرًا فَأَكَلُوا فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا شَأْنُهُ؟))، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ صَائِمٍ يُؤْكَلُ عِنْدَهُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3654
عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعامر بن مسعود جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سردیوں کے روزے تو بلا مشقت حاصل ہونے والی غنیمت ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حقیقت کو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ سردیوں کے دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں، موسم کی وجہ سے آدمی پیاس سے بھی محفوظ رہتا ہے، لیکن اس غنیمت سے مستفید ہونے والے لوگ کم ہیں۔