کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان
حدیث نمبر: 3639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا يَجْهَلْ بَدَلَ وَلَا يَصْخَبْ) فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصِيَامِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، ما سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ (جہنم سے بچانیوالی) ڈھال ہے، جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے،نہ شور مچائے اور نہ جاہلانہ کلام کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ محبوب اور پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، وہ ان کی وجہ سے خوش ہوتا ہے، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو افطاری کی وجہ سے خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے شروع کے حصے پر غور کریں، صرف روزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا، حالانکہ ساری عبادات ہی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں، اس نسبت کی وجوہات درج ذیل ہیں: (۱) کسی دور میں کسی باطل معبود کی تعظیم روزے کی صورت میں نہیں کی گئی، جبکہ مختلف مشرکوں کو نماز، سجدہ، صدقہ اور ذکر وغیرہ کے ذریعے معبودانِ باطلہ کا قرب حاصل کرتے ہوئے پایا گیا۔
(۲) روزہ، ریاکاری جیسی خرابی سے دور ہوتا ہے، جبکہ نماز، حج، صدقہ اور جہاد وغیرہ میں اس عنصر کے پائے جانے کا شبہ رہتا ہے، اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی ہے کہ ممکن ہے کہ روزہ کے علاوہ دیگر عبادات میں کسی اور کا ڈر اور خوف بھی کارفرما ہو، مثلا بعض لڑکوں کو دیکھا گیا کہ وہ والدین اور اساتذہ کے ڈر اور پوچھ گچھ کی وجہ سے نماز پڑھتے ہیں، وگرنہ وہ نماز کو ترک کر لینے میں کوئی عار نہیں سمجھتے، لیکن روزے کا اس قسم کے ڈر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس چیز کا قطعی طور پر امکان ہے کہ ایسے لوگ بظاہر اپنے آپ کو روزے دار ثابت کرتے رہیں، جبکہ خلوت میں کھانے پینے کی چیزیں استعمال کر لیتے ہوں، اس لیے جو آدمی روزہ پورا کرے گا، اس کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہو گا۔
(۳) اس کے ثواب کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، باقی عبادات کے اجر و ثواب کا تعین کر دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3639
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1904، ومسلم: 1151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7679»