حدیث نمبر: 3634
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ، انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ، إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے سارے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، البتہ تین عمل باقی رہتے ہیں: (۱) صدقہ جاریہ، (۲) ایسا علم، جس سے نفع اٹھایا جاتا ہے اور (۳) نیک اولاد، جو اس کے لیے دعا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے لوگوں کی دعائیں بھی فائدہ بخش ہوتی ہیں، نیک اولاد کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ اولاد زیادہ رغبت کے ساتھ دعا کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ اولاد کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ انھوں نے ہی زیادہ عرصہ تک اپنے والدین کو یاد رکھنا ہے۔
حدیث نمبر: 3635
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَرْبَعٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ، رَجُلٌ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ عَلَّمَ عِلْمًا فَأَجْرُهُ يَجْرِي عَلَيْهِ مَا عُمِلَ بِهِ، وَرَجُلٌ أَجْرَى صَدَقَةً فَأَجْرُهَا يَجْرِي عَلَيْهِ مَا جَرَتْ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کے آدمیوں کو ان کی موت کے بعد بھی ثواب ملتا رہتا ہے: (۱)وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر گیا، (۲) وہ آدمی جو لوگوں کو علم سکھائے،تو جب تک اس پرعمل ہوتا رہے گا، اسے اجر ملتا رہے گا، (۳) وہ آدمی جو صدقہ کرے تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اسے اجر و ثواب ملتا رہے گا اور (۴) وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ جائے، جو اس کے حق میں دعا کرتی رہے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی صورت یعنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے اثرات بھی عام طور پر آدمی کے بعد باقی رہتے ہیں، اخلاص کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے سے بعد والے لوگوں ایمانی حرارت اور کافروں کے خلاف غیظ و غضب کے جذبات میں تیزی آتی ہے، ایمان والوں کی عملی زندگیوں میں تبدیلیاں آتی ہیں، وہ اسلام کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور دعوت و جہاد کے راستے کھلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3636
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنَّى لِي هَذِهِ؟ فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کا جنت میں درجہ بلند کرے گا، تو وہ پوچھے گا:اے میرے رب! یہ درجہ میرے لیے کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے حق میں تمہارے بیٹے کی دعائے مغفرت کی وجہ سے۔
وضاحت:
فوائد: … اتنی بڑی منقبت کے باوجود عصرِ حاضر میں عجلت پسندی اور مفاد پرستی کا ایسا بھوت رقص کناں ہے کہ لوگوں نے اپنے آباء و اجداد اور امہات و جدات کو بری طرح بھلا دیا ہے۔ ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ جن کے لب اپنے باپ اور ماں کی وفات کے دوسرے دن بھی ان کے حق میں حرکت نہیں کر سکتے۔
حدیث نمبر: 3637
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ بَنَى بُنْيَانًا مِنْ غَيْرِ ظُلْمٍ وَلَا اعْتِدَاءٍ أَوْ غَرَسَ غَرْسًا فِي غَيْرِ ظُلْمٍ وَلَا اعْتِدَاءٍ، كَانَ لَهُ أَجْرٌ جَارٍ مَا انْتُفِعَ بِهِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی عمارت تعمیر کرتا ہے یا ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی درخت لگاتا ہے، تو جب تک اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتی رہے گی، اسے اجر ملتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 3638
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدِهِ إِلَّا أَجْرَى اللَّهُ عَلَيْهِ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زبان کو ایسی نیکی کے لیے استعمال کرتا ہے کہ جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تک ثواب سے نوازتا رہتا ہے اور قیامت کے روز اسے پورا پورا ثواب عطا کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ سیوطی نے مختلف احادیث سے ثابت ہونے والے دس ایسے اعمال کو نظم کی صورت میں پیش کیا ہے، جن کا ثواب انسان کو اس کے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، وہ اشعار درج ذیل ہیں: اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ لَیْسَیَجْرِیْ عَلَیْہِ مِنْ فِعَالٍ غَیْرِ عَشْرٍ
عُلُوْمٌ بَثَّھَا وَ دُعَائُ نَجْلٍ وَغَرْسُ النَّخْلِ وَ الصَّدَقَاتُ تَجْرِیْ
وِرَاثَۃُ مُصْحَفٍ وَرِبَاطُ ثغْرٍ وَحَفْرُ الْبِئْرِ اَوْاِجْرَائُ نَھْرٍ
وَبَیْتٌ لِّلْغَرِیْبِ بَنَاہُ یَأْوِیْ اِلَیْہِ اَوْبِنَائُ مَحَلِّ ذِکْرٍ
وَ تَعْلِیْمٌ لِقُرْآنٍ کَرِیْمٍ فَخُذْھَا مِنْ اَحَادِیْثَ بِحَصْرٍ
ترجمہ: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کو صرف دس اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے ایسا علم جو وہ لوگوں کو سکھا جائے، اولاد کی دعا، درخت لگانا، صدقہ جاریہ، قرآن کریم کی وراثت، اللہ کی راہ میں پہرہ دینا، کنواںکھدوا نا، نہر کھدوا دینا، کسی غریب کے لئے مکان بنا دینا،تاکہ وہ اس میںپناہ لے سکے یا ذکر ِ الٰہی کا محل بنا دینا قرآن مجید کی تعلیم دینا، لیجیے صرف یہ احادیث سے ثابت ہیں۔ صدقہ جاریہ کی تمام اقسام میت کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ‘‘
عُلُوْمٌ بَثَّھَا وَ دُعَائُ نَجْلٍ وَغَرْسُ النَّخْلِ وَ الصَّدَقَاتُ تَجْرِیْ
وِرَاثَۃُ مُصْحَفٍ وَرِبَاطُ ثغْرٍ وَحَفْرُ الْبِئْرِ اَوْاِجْرَائُ نَھْرٍ
وَبَیْتٌ لِّلْغَرِیْبِ بَنَاہُ یَأْوِیْ اِلَیْہِ اَوْبِنَائُ مَحَلِّ ذِکْرٍ
وَ تَعْلِیْمٌ لِقُرْآنٍ کَرِیْمٍ فَخُذْھَا مِنْ اَحَادِیْثَ بِحَصْرٍ
ترجمہ: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کو صرف دس اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے ایسا علم جو وہ لوگوں کو سکھا جائے، اولاد کی دعا، درخت لگانا، صدقہ جاریہ، قرآن کریم کی وراثت، اللہ کی راہ میں پہرہ دینا، کنواںکھدوا نا، نہر کھدوا دینا، کسی غریب کے لئے مکان بنا دینا،تاکہ وہ اس میںپناہ لے سکے یا ذکر ِ الٰہی کا محل بنا دینا قرآن مجید کی تعلیم دینا، لیجیے صرف یہ احادیث سے ثابت ہیں۔ صدقہ جاریہ کی تمام اقسام میت کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ‘‘