کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3628
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ الزُّبَيْرَ رَجُلٌ شَدِيدٌ وَيَأْتِينِي الْمِسْكِينُ فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((ارْضَخِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میرا شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سخت مزاج آدمی ہے، تو کیا جب میرے پاس کوئی مسکین آجائے تو میں اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے تھوڑی سی چیز دے دیا کرو اور بخل نہ کرو، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بخل کرنے لگے گا۔
حدیث نمبر: 3629
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ بَيْتِي؟ قَالَ: ((أَنْفِقِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میرے پاس وہی کچھ ہے جو میرا خاوند سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میرے گھر میں لاتا ہے،(تو کیا میں اس سے صدقہ کر دیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرچ کیا کر اور نہ رک، وگرنہ تجھ سے بھی روک لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3630
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) انْفَحِي أَوْ ارْضَخِي أَوْ أَنْفِقِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرچ کیا کر اور بچا بچا کر نہ رکھا کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے بچا بچا کر رکھے گا، اورگن گن کر نہ دے، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی گن گن کر تجھے دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … گن گن کر دینے سے مراد معمولی چیز کا صدقہ کرنا ہے، یعنی مسلمان کو چاہیے کہ وہ دل کھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کیا کرے۔ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر مال و دولت میں تصرّف کر سکتی ہے یا نہیں، پہلے آپ دوسری احادیث بھی ملاحظہ کر لیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَلَکَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ، لَمْ تَجُزْ عَطِیَّتُھَا إِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔)) ’’جبمرد (نکاحکےذریعے) کسی عورت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا (کسی کو) عطیہ دینا جائز نہیں ہوتا۔‘‘ (ابو داود: ۱/ ۱۱۰، والنسائی: ۱/۳۵۲، صحیحہ: ۲۵۷۱)
سیدنابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ((لَاتُنْفُِِق اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِھَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَلَاالطَّعَامَ؟ قَالَ: (ذٰلِکَ مِن اَفْضَلِ اَمْوَالِنَا۔)) ’’کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ رسول! کسی کو کھانابھی نہیں دے سکتی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تو ہمارے افضل (اور قیمتی) اموال میں سے ہے۔‘‘(ترمذی، ابن ماجہ)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَصَدَّقُ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔)) ’’عورتاپنےخاوندکےگھرسےاسکی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی وفیہ رشیدین بن کریب ضعفہ احمد و جماعۃ، لکن لہ شواہد)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہٖمِنْغَیْرِ أَمْرِہٖفَاِنَّنِصْفَأَجْرِہٖلَہٗ۔)) ’’جبعورتاپنےخاوندکی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر خرچ کرتی ہے تو اسے نصف اجر ملتاہے۔‘‘ (بخاری، مسلم، واللفظ لہ)
ان احادیث میں جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جن احادیث میں عورت کو خاوندکی اجازت کے بغیر خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ان کا تعلق ان معمولی چیزوں سے ہے جو عام طور پر صدقہ کی جاتی ہیںیا جن کے بارے میں بیوی کو یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ خاوند بھی رضامند ہو جائے گا، اسی طرح اگر خاوند بہت سخت مزاج اور بخیل ہو تو پھر بھی اس کے فائدے کے لیے اس کی بیوی کو تھوڑا بہت خرچ کرنے کی اجازت ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۶۲۸) سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر مذکورہ بالا دو صورتیں نہ ہوں تو ہر صورت میں عورت کو پہلے اپنے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔ اس موضوع پر شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک خوبصورت بحث کی ہے، ہم قارئین کے فائدے کے لیے اس کو نقل کر دیتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہدM کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: ’’لیث بن سعد رحمتہ اللہ علیہ کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالیمعاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘‘
امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا ہے، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے خطبہ میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی درج ذیل اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَلَکَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ، لَمْ تَجُزْ عَطِیَّتُھَا إِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔)) (صحیحہ: ۲۵۷۱) … ’’جب مرد (نکاح کے ذریعے) کسی عورت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا (کسی کو) عطیہ دینا جائز نہیں ہوتا۔‘‘
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی نہی پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔ حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکتی ہوں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔ لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔ پھر ابن حزم نے یہ کہا کہ اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟ کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔ لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یاربنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ} (سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … ’’یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریںگے۔‘‘ (صحیحہ: ۲۵۷۱)
سیدنابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ((لَاتُنْفُِِق اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِھَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَلَاالطَّعَامَ؟ قَالَ: (ذٰلِکَ مِن اَفْضَلِ اَمْوَالِنَا۔)) ’’کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ رسول! کسی کو کھانابھی نہیں دے سکتی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تو ہمارے افضل (اور قیمتی) اموال میں سے ہے۔‘‘(ترمذی، ابن ماجہ)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَصَدَّقُ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔)) ’’عورتاپنےخاوندکےگھرسےاسکی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی وفیہ رشیدین بن کریب ضعفہ احمد و جماعۃ، لکن لہ شواہد)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہٖمِنْغَیْرِ أَمْرِہٖفَاِنَّنِصْفَأَجْرِہٖلَہٗ۔)) ’’جبعورتاپنےخاوندکی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر خرچ کرتی ہے تو اسے نصف اجر ملتاہے۔‘‘ (بخاری، مسلم، واللفظ لہ)
ان احادیث میں جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جن احادیث میں عورت کو خاوندکی اجازت کے بغیر خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ان کا تعلق ان معمولی چیزوں سے ہے جو عام طور پر صدقہ کی جاتی ہیںیا جن کے بارے میں بیوی کو یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ خاوند بھی رضامند ہو جائے گا، اسی طرح اگر خاوند بہت سخت مزاج اور بخیل ہو تو پھر بھی اس کے فائدے کے لیے اس کی بیوی کو تھوڑا بہت خرچ کرنے کی اجازت ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۶۲۸) سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر مذکورہ بالا دو صورتیں نہ ہوں تو ہر صورت میں عورت کو پہلے اپنے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔ اس موضوع پر شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک خوبصورت بحث کی ہے، ہم قارئین کے فائدے کے لیے اس کو نقل کر دیتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہدM کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: ’’لیث بن سعد رحمتہ اللہ علیہ کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالیمعاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘‘
امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا ہے، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے خطبہ میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی درج ذیل اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَلَکَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ، لَمْ تَجُزْ عَطِیَّتُھَا إِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔)) (صحیحہ: ۲۵۷۱) … ’’جب مرد (نکاح کے ذریعے) کسی عورت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا (کسی کو) عطیہ دینا جائز نہیں ہوتا۔‘‘
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی نہی پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔ حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکتی ہوں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔ لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔ پھر ابن حزم نے یہ کہا کہ اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟ کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔ لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یاربنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ} (سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … ’’یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریںگے۔‘‘ (صحیحہ: ۲۵۷۱)