کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3626
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ، يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمْ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمْ الْمُؤْمِنِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن اورایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جسے اس کے کھونٹے پر باندھ دیا گیا ہو، وہ اِدھر اُدھر چکر کاٹ کر کھونٹے کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن بھی بھول تو جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے، تم نیک لوگوں کو کھانا کھلایا کرو اور اہل ایمان کو ہر قسم کی نیکی سے نوازا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … مؤمن کا اصل ایمان تو ثابت ہی رہتا ہے، بسااوقات بھول جاتاہے اور اپنے مرکز کو چھوڑ کر گناہوں کی گھاٹیوں میں پھرنے لگتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے، لیکن پھر جب اسے اصل احساس ہوتا ہے تو اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ربّ کی طرف واپس آ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3627
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَةً فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا، فَلْيَرُدَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اگر اسے صرف بے دین قسم کا بندہ ہی ملے تو وہ اپنا صدقہ واپس لے جائے۔
وضاحت:
فوائد: … تالیف ِ قلبی کی نیت سے برے لوگوں بلکہ کافروں کی بھی صدقہ و زکوۃ سے امداد کی جا سکتی ہے، تالیف ِ قلبی کی صورتوں کی وضاحت حدیث نمبر (۳۴۶۷) والے باب میں ہو چکی ہے۔