کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
حدیث نمبر: 3620
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِلنِّسَاءِ: ((تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))، قَالَتْ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقَالَتْ لَهُ: أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ، وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلِي عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَنْ هُمَا؟)) فَقَالَ: زَيْنَبُ، فَقَالَ: ((أَيُّ الزَّيْنَبِ؟)) فَقَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ، فَقَالَ: ((نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر آؤ، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا : سیدہ زینب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کا نام زینب تھا، لیکن ان کو رائطہ بھی کہتے تھے، اس نام کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔ مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقہ کے لیے محتاج رشتہ داروں کو ترجیح دیں، اگرچہ عصر حاضر کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے، آج کل جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا، وہ اتنا ہی اپنے غریب رشتہ داروں سے دور ہونے کی کوشش کرے گا۔ بیوی اپنے شوہر کو زکوۃ کا مال دے سکتی ہے، لیکن شوہر اپنی زکوۃ کی رقم بیوی پر خرچ نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس کی کفالت کا شرعی طور پر ذمہ دار ہے۔
حدیث نمبر: 3621
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَّاعَةَ الْيَدِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ! مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرُهَا، وَقَدْ شَغَلُونِي عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ بِشَيْءٍ فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ رائطہ زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا ، جو کہ ان کے بچوں کی ماں بھی تھیں، سے مروی ہے کہ وہ ایک ہنر مند خاتون تھی اور اپنے ہنر کی کمائی میں سے اپنے خاوند اور اس کی اولاد پر خرچ کرتی تھی، وہ کہتی ہیں: ایک دن میں نے اپنے خاوند سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے محروم کر رکھا ہے، آپ لوگوں کی وجہ سے میں کوئی چیز صدقہ نہیں کرسکتی۔ آگے سے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں اس میں اجر نہیں ملتا کہ میں تمہارے لیے اس صدقہ کو پسند نہیں کرتا، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلی گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ہنر خاتون ہوں اور چیزیں بنا کر فروخت کرتی ہوں، لیکن میری اور میری اولاد اور شوہر کا اس کے علاوہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے، اس لیے میں ان لوگوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے صدقہ کرنے سے محروم رہتی ہوں، تو کیا ان لوگوں پر خرچ کرنے سے مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر خرچ کیا کرو، کیونکہ تم ان پر جس قدر خرچ کرو گی، تمہیں ثواب ملے گا۔
حدیث نمبر: 3622
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب آدمی اپنی ذات اور بالخصوص اپنی اولاد، بیوی اور خادم پر خرچ کرے تو اس کے ذہن میں یہ تصور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ماتحت افراد کی کفالت کر رہا ہے، ان اخراجات کو محض متعلقہ لوگوں کے مطالبات کا تقاضا نہیں سمجھنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 3623
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ: عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 3624
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَصَدَّقُوا))، قَالَ: رَجُلٌ عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((أَنْتَ أَبْصَرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا، میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی اولاد پر صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو خود بہتر جانتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اب تو خود بہتر جانتا ہے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے رشتہ داروں میں کون کس قدر محتاج ہے یا شریعت کی روشنی میں کس کو ترجیح دینی چاہیےیا دوسری نیکیوں کی کیا صورتحال ہے۔ اپنی بیوی بچوں سے اخراجات کا سلسلہ شروع کرنے سے ان کا پر تکلف طرزِ حیات مراد نہیں ہے، جیسا کہ آج کل اکثر لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں جتنی عبادات سر انجام دیں، ان میں سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی تھی۔
حدیث نمبر: 3625
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الْقَرَابَةِ اثْنَتَانِ، صِلَةٌ وَصَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناسلیمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔