کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مال کا دسویں حصے، ایک تہائی حصے اور ایک اونٹنی کے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3616
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … معنوی اعتبار سے اس حدیث ِ مبارکہ میں بیان شدہ مسئلہ درست ہے، کئی احادیث میں کم سرمائے والے آدمی کے معمولی مقدار کے صدقہ کو افضل قرار دیا گیا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کی غماز ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔‘‘ (نسائی: ۲۵۲۷) معلوم ہوا کہ فقیر اور کم سرمائے والے آدمی کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3616
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 775 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 743»
حدیث نمبر: 3617
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْ أَنْخَلَعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارے مال کا صدقہ کرنے کا اظہار کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقدار کو کم کرنے کی ترغیب دی تھی، پھر ان کی بات مال کی ایک تہائی مقدار کو صدقہ کرنے پر طے ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو: بخاری: ۴۴۱۸، مسلم: ۲۷۶۹، ابوداود: ۳۳۲۱) زندگی میں نصف، دوتہائی بلکہ سارا مال بھی صدقہ کر دینا درست ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صدقہ وصول کرنے والا حاکم یا اس کا مسئول حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہو، وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس آدمی کا مزاج کیسا ہے، یہ بڑی مقدار میں صدقہ کرنے پر کیوں آمادہ ہو گیا ہے، بظاہر اس کے حق میں اس کا کیا انجام ہو گا، اس کے بعد اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ کتنے اور کون کون سے لوگوں کا کفیل ہے، اِن چیزوں کو مدنظر رکھ کر حاکم خود ایک مقدار کا فیصلہ کر سکتاہے۔
مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸)
آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶)
صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵)
سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3617
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحسين بن السائب، روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ اخرجه ابوداود: 3319، 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16178»
حدیث نمبر: 3618
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَقُولُ: ((مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ، فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ رَجُلًا أَشَدَّ سَوَادًا أَصْفَرَ مِنْهُ وَلَا أَدْمَى يَعْبُرُ بِنَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَدَقَةً؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَ: دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ، قَالَ: فَلَمَزَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ؟ فَوَاللَّهِ! لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ، قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((كَذَبْتَ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: ((وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينِ مِنَ الْإِبِلِ)) ثَلَاثًا، قَالُوا: إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا))، وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: ((قَدْ أَفْلَحَ الْمُزْهِدُ الْمُجَاهِدُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلیل کہتے ہیں: ہم بقیع میں تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آ کھڑاہوا اور اس نے کہا کہ میرے والد یا چچا نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع مقام پر دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: کیا کوئی ہے جو صدقہ کرے، تاکہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں؟ میرے والد یا چچا نے کہا: میں نے بھی اپنی پگڑی کے ایک دو بل کھولے تاکہ وہی صدقہ کر دوں، لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے، چنانچہ میں نے وہی پگڑی دوبارہ سر پر لپیٹ لی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا، میں نے بقیع میں اس سے زیادہ کالے اورگندمی رنگ کا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا، اس کے پاس ایک عمدہ اونٹنی تھی، میں نے بقیع کے علاقہ میں اس سے زیادہ عمدہ اور خوبصورت اونٹنی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ صدقے کا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: توپھر یہ اونٹنی قبول فرمایئے۔ ایک آدمی نے کہا: کیایہ شخص اتنی عمدہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے، اللہ کی قسم ہے کہ اس کی اونٹنی اس سے زیادہ عمدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور تین بار فرمایا: تو غلط کہہ رہا ہے، بلکہ وہ صدقہ کرنے والا تجھ سے بھی بہتر ہے اور اس اونٹنی سے بھی بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سینکڑوں اونٹوں والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ یہ بھی تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے مستثنیٰ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں جو آدمی اپنا مال اس طرح تقسیم کرتا ہے، اس طرح لٹاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہھتیلیوں کو جمع کرکے دائیں بائیں ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرد کامیاب ہو گیا، جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے۔‘‘اس کا مفہوم حریص ہونا اور معمولی مقدار کا ناکافی سمجھنا ہے۔ ان لوگوں کی مذمت ہے جو کثیر المال ہونے کے باوجود بخل کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، مال کی کثرت کا تقاضا یہ ہے کہ صدقہ کی مقدار بھی زیادہ ہو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3618
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عنه ابو السليل، واذا كان ھذا مجھولا فأبوه أو عمه مجھول مثله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20630»