حدیث نمبر: 3611
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فِي الْإِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلاثُمِائَةِ مَفْصِلٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهَا صَدَقَةً))، قَالُوا: فَمَنِ الَّذِي يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُ عَنْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنابریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسانی جسم میں (۳۶۰) جوڑ ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے اتنا صدقہ کون کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں پڑی ہوئی تھوک کو وہیں دبا دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تجھے یہ اعمال کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں تجھ سے کفایت کریں گی (اور سارے جوڑوں کا صدقہ ادا ہو جائے گا)۔
وضاحت:
فوائد: … انسان کے اندر جوڑوں کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، اسی نظام کی وساطت سے انسان کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پکڑنا، بولنا وغیرہ ممکن ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا چاہیے، جس کی مقدار ایک آسان سی نیکی ہے اور اس صدقہ کی سب سے بہترین صورت نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 3612
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كُلُّ سُلَامَى مِنِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ حِينَ يُصْبِحُ))، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ سَلَامَكَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ))، وَحَدَّثَ بِأَشْيَاءَ مِنْ نَحْوِ هَذَا لَمْ أَحْفَظْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم پر لازم ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا لوگوں کو سلام کہنا بھی صدقہ ہے، ایذا دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، کسی کونیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی کئی نیکیوں کا ذکر کیا، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 3613
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الْإِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ صدقہ کرے، اس کی بعض صورتیں یہ ہیں: دو آدمیوں کے مابین عدل کرنا صدقہ ہے، سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، کسی کا سامان اس کی سواری پر رکھ دینا صدقہ ہے، راستے سے ایذا دینے والی چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے اورنماز کی طرف چلنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مریضیا کمزور ہے یا اس کی سواری بغاوت اور شرارت والی ہو، ایسی صورت میں دوسرے مسلمانوں کو اس کا تعاون کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ کر لینا چاہیے کہ حقوق العباد کے بارے میں اسلام کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ لیکن ہماری صورتحال یہ ہے کہ اگر راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑھی ہے تو ممکن ہو گا کہ پیدل چلنے والے کو خیال آ جائے اور وہ اس چیز کو ہٹا دے، لیکن اگر کسی سائیکل سوار کی اس چیز پر نظر پڑ جاتی ہے تویہ مشکل ہو گا کہ وہ اتر کر یہ نیکی کرے، موٹر سائیکل والے کے لیےیہ عمل اور مشکل ہو جائے گا اور موٹر کار والے کے لیے ناممکن ہو جائے گا، حقیقتیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیں دھوکہ ہو گیا ہے اور ان نعمتوں کی وجہ سے ہم نیکیوں والے مزاج سے دور ہو گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 3614
عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ، وَتَدُلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهِ فَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ، وَلَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ))، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ؟)) قَالَ: بَلِ اللَّهُ خَلَقَهُ، قَالَ: ((فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ؟)) قَالَ: بَلِ اللَّهُ هَدَاهُ، قَالَ: ((فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ؟)) قَالَ: بَلِ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ، قَالَ: ((كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا ، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچاؤ، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔
وضاحت:
فوائد: … پوری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی کے معمولات کا اس سے موازنہ کرے، آخری مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ ایک باپ نہ تو اپنے بچے کو پیدا کرتا ہے، نہ اس کو رزق دیتا ہے، نہ اس کو ہدایت دیتا ہے، تو پھر اس کی وفات پر وہ اجر کا مستحق کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ گویا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ بحیثیت باپ اپنے بچے کے وجود کا سبب ہیں، اس لیے ان کو بھی اجر ملنا چاہیے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے بچے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے، اسی طرح بیوی سے ہم بستری کے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس تعلق سے مسلمان بچہ پیدا ہو گا اور وہ میاں بیوی اس حق زوجیت کی وجہ سے زنا اور اس کے لوازمات و مقدّمات سے محفوظ رہیں گے، ان وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کو مجامعت میں ثواب بھی ملے گا۔
حدیث نمبر: 3615
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ كَفَّرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی اتنی ہی مقدار کے لیے کفارہ بنا دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو ابواب کی احادیث میں جتنے حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے، اِس وقت امت ِ مسلمہ ان حقوق کی ادائیگی سے بری طرح غافل ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں کو اپنے سے کم تر خلق اللہ کے حقوق کا شعور ہی نہیں ہے، بیس بیس اور چالیس چالیس لاکھ کی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے ذہنوں میں اس فکر کی گنجائش ہی نہیں کہ کس غریب کو سائیکل وغیرہ کی ضرورت ہے،، موٹر سائیکل اور رکشہ کی تو بات کرنا ہی فضول ہے، کن لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دور سے پیدل چل کر آتے ہیں، کن گھروں کے بچے سکول فیس اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے گلی محلوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے خوشحال لوگوں کیلئے بڑا خطرہ کی علامت بھی ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، لوگوں نے اپنے ذہن کے مطابق چند عبادات کو حقیقی اسلام سمجھ لیا، اس سلسلے میں ان کے ذہنوں پر جمود سوار ہے، ان کو اپنی عادات میں تبدیلی لانا گوارا ہی نہیں ہے۔ لیکن جن لوگوں کے بارے میں یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، سرے سے وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، کیونکہ جب تک ہم یہ حقیقت سمجھ نہیں پائیں گے کہ اسلام کا ہم سے مطالبہ کیا ہے، اس وقت تک ہم بزعم خود کامل مسلمان ہوں گے اور درج بالا حقائق کو بے سر وپا سمجھیں گے۔