حدیث نمبر: 3606
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْكَلِمَةُ اللَّيِّنَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ أَوْ قَالَ: إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نرم بات بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے یا مسجد کی طرف اٹھا ہوا قدم بھی صدقہ ہے۔ آدمی پاؤں پر چل کر جائے وہ بھی صدقہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نرم بات، نیکی کے جلیل القدر اعمال میں سے ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} ’’برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی والا ہو۔‘‘ (سورۂ مؤمنون: ۹۶) اور یہ طریقہ کبھی فعل کے ذریعے اختیار کیا جاتا ہے اور کبھی قول کے ذریعے۔ نرم بات کو صدقہ کیوں کہا گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے صدقہ وصول کرنے والے کا دل مال سے خوش ہو جاتا ہے اور دینے والے کے بارے میں اس کا دل صاف ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح نرم بات کے نتائج ہوتے ہیں۔ صدقہ کا ایک مفہوم ہمارے ہاں مروّج ہے، جس کا تعلق مادی چیزوں سے ہے، سوال یہ ہے کہ دوسرے عام نیکیوں کو صدقہ کیوں کہا جاتا ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے جا سکتے ہیں: ایکیہ ہے کہ جیسے صدقے کا اجر و ثواب ہوتا ہے، اسی طرح دوسری نیکیوں کا اجرو ثواب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام ہیں، اس لیے اس مشابہت کی وجہ سے دوسری نیکیوں کو بھی صدقہ کہہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بندہ عام نیکیوں کے ذریعے اپنے نفس پر صدقہ کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو صدقہ کہا جاتا ہے۔
نیکی کو صدقہ کہنے کییہ توجیہ بھی کی گئی ہے کہ صدقہ صدق (سچ بولنا) سے ہے اور ہر نیکی آدمی کے دل کی سچائی کی علامت ہوتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
نیکی کو صدقہ کہنے کییہ توجیہ بھی کی گئی ہے کہ صدقہ صدق (سچ بولنا) سے ہے اور ہر نیکی آدمی کے دل کی سچائی کی علامت ہوتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 3607
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی کو کشادہ روئی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول میں سے اس کے برتن میں پانی ڈال دو۔
وضاحت:
فوائد: … نیکی کے بارے میں اس قانون کو کبھی بھی نہیں بھلانا چاہیے کہ ہر قسم کی نیکی کو سرانجام دینے کی کوشش کی جائے، اس کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہو یا بڑا، آخر پیاسے کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے بدکار عورت کو بخش دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 3608
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 3609
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ))، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ، قَالَ: ((يَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ))، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ، قَالَ: ((يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ))، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: ((يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ بِالْعَدْلِ))، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: ((يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدقہ کرے۔ اس نے کہا: اگر آدمی میں صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے کام کرکے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ اس نے کہا: اگر کسی میں کام کرنے کی طاقت نہ ہو تووہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر کسی مجبور ضرورت مند کی مدد کر دے۔ اس نے کہا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اچھائی کا یا عدل کا حکم دے دیا کرے۔ اس نے کہا: اگر اس میں اس کی استطاعت بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے بچے، یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دور کوئی بھی ہو، مزاج اور حالات جیسے بھی ہوں، شریعت نے ہر زمان و مکاں سے نبٹنے کے لیے اہل اسلام کی مکمل رہنمائی کی ہے، انہی حالات و ظروف کو مد نظر رکھ کر ہر انسان سے باز پرس کی جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جن حالات سے گزر رہے ہوں، ان کا احکامِ شریعت کے ساتھ موازنہ کریں اور اپنے لیے راہِ نجات تلاش کریں۔ بعض لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت زبان سے مجبوریوں کا، شکووں کا اور حالات کے ناسازگار ہونے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ایسے بے صبروں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زبان سے ادا کر دی جانے والی مجبوریوں اور شکووں کو اخروی زندگی میں بطورِ بہانہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اسلامی احکام کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق کوئی راہِ ہدایت تلاش کریں اور اس معاملے میں کسی اہل علم سے رابطہ کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کم از کم مسلمان کے شایانِ شان یہ بات ہے کہ وہ شرّ سے رکا رہے۔ ’’اَلْمَلْہُوْف‘‘ کا معنی ستم رسیدہ، حسرت زدہ، مجبور اور مظلوم ہے۔
حدیث نمبر: 3610
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے۔