حدیث نمبر: 3599
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ))، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ! يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((نَعَمْ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے جنت کے دروازوں سے آواز دی جائے گی، جنت کے کئی دروازے ہیں، جو آدمی نمازی ہو گا، اسے بَابُ الصَّلَاۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی صدقہ کرتا ہو گا، اسے بَابُ الصَّدَقَۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی جہاد کرتا ہو گا، اسے بَابُ الْجِہَاد سے بلایا جائے گا اور جو آدمی روزہ رکھتا ہو گا، اسے بَابُ الرَّیَّان سے بلایا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس کی تو کسی کو کوئی حاجت نہیں ہوگی کہ اسے جنت کے جس دروازے سے مرضی بلا لیا جائے (کیونکہ مقصود جنت میں داخل ہونا ہو گا)، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص بھی ہو گا، جس کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو گے۔
حدیث نمبر: 3600
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا أَوْ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ: يَا مُسْلِمُ! هَذَا خَيْرٌ هَلُمَّ إِلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے گا، اسے جنت کے دربان یوں آواز دیں گے: اے مسلمان! یہ دروازہ بہتر ہے، ادھر آ جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … جوڑے کی وضاحت اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 3601
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ))، قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: ((إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور سب ہی اسے اپنی طرف بلائیں گے۔ میں نے کہا: جوڑا خرچ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مثال کے طور پر اگر وہ غلاموں کا مالک ہے تو دو غلام، اگر وہ اونٹوں کا مالک ہے تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیوں کا مالک ہے تو دو گائیں۔
حدیث نمبر: 3602
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ الْمُهَاجِرُونَ فَأَعْطَوْا، قَالَ: فَأَشْرَقَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْإِشْرَاقَ فِي وَجْنَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّةً صَالِحَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ بِهِ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سونے سے بھری ہوئی ایک تھیلی لئے ہوئے آیا، اس تھیلی نے اس آدمی کی مٹھی کو بھرا ہوا تھا۔ اس نے آ کر کہا: یہ تھیلی اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے بھی کوئی چیز صدقہ کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اوربطورِ صدقہ کچھ دیا، پھر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی صدقہ کیا،یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس حد تک دمک اٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر چمکنے کے آثار نظر آ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اور پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اسے ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، جبکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی، اسی طرح جوکوئی اسلام میں برا طریقہ رائج کرے اور پھر اس کے بعد اس پرعمل کیا جائے تو اس کو ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا، جبکہ اِن کے گناہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 3603
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَأَ النَّاسُ، حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ (وَقَالَ مَرَّةً: بَانَ)، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَأَعْطَوْا حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ فَقَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً … … )) فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی، لیکن لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر غصے کے آثار نظر آنے لگے، پھر ایک انصاری ایک تھیلی لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی، اس کے بعد لوگ پے در پے صدقہ کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر خوشی کے اثرات نمایاں ہونے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھا طریقہ جاری کرتا ہے، … … ۔ سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 3604
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ خِدْمَةُ خَادِمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائے کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا خیمہ یا خدمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا خادم یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دی ہوئی اونٹنی۔
حدیث نمبر: 3605
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَافَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيَأْتِيَنَّ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِسَبْعِمِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اونٹنی ایسی ہی سات سواونٹنیاں لے کر آئے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی جہادمیں خرچ کرنا باعث ِ اجر ِ عظیم ہے، آخری حدیث ِ مبارکہ اس معاملے میں انتہائی واضح ہے۔