حدیث نمبر: 3596
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟)) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((الْمَنِيحَةُ، أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الدِّرْهَمَ أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ أَوْ لَبَنَ الْبَقَرَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا، مثلاً تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو درہم یا سواری یا بکری کا دودھ یا گائے کا دودھ دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی چیز عاریۃً دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کچھ عرصہ کے لیے کوئی چیز اس نیت سے دی جائے کہ وہ یہ اس عرصہ میں اس کی منفعت سے فائدہ اٹھاتا رہے، جیسے دودھ کے لیے جانور، کھیتی باڑی کرنے کے لیے زمین، پھل کے لیے پھلدار درخت اور سواری کے لیے سواری والا جانور عارضی طور پر دینا۔ اس سے مستقل دی ہوئی چیز کی اہمیت کا اندازہ لگالینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 3597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعَتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعَتَاقَةِ الْأَسْوَدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا بہترین صدقہ ہے، وہ چیز صبح بھی اجر کا سبب بنتی ہے اور شام کو بھی، کسی کو اونٹنی عاریۃً دے دینا سرخ رنگ کا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور کسی کو بکری عاریۃً دے دینا سیاہ رنگ کے غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تخریج میں دیئے گئے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے الفاظ کا بالترتیب ترجمہ یہ ہے: ’’سب سے بہترین چیز، جو عاریۃً دی جائے، وہ اونٹنی ہے، جس نے نیا بچہ دیا ہواہو اور زیادہ دودھ والی ہے اور وہ بکری ہے، جو زیادہ دودھ والی ہو اور صبح کو ایک پیالہ دودھ کا دے دیتی ہو اور ایک شام کو۔‘‘ ’’کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو کسی گھر والوں کو ایک اونٹنی بطورِ عاریہ دے دے، جو ایک بڑا پیالہ صبح کو دودھ کا دے دے اور ایک شام کو، اس عمل کا اجر بہت زیادہ ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 3598
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَرْبَعُونَ حَسَنَةً، أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنَزِ، لَا يَعْمَلُ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چالیس نیکیاں ہیں، ان میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ دودھ والی بکری کسی کو عاریۃً دے دی جائے، جو آدمی ثواب کی امیدرکھتے ہوئے اور وعدہ کی ہوئی چیز کی تصدیق کرتے ہوئے ان چالیس میں سے ایک نیکی بھی سر انجام دے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری اور سنن ابو داود میںان الفاظ کی زیادتی ہے: راویٔ حدیث حسان بن عطیہ نے کہ: دودھ والی بکری عاریۃً دینا، ہم نے اس نیکی سے کم مرتبہ نیکیوں کو شمار کیا، مثلا سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کو ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہ‘‘ کہنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، وغیرہ وغیرہ، لیکن ہم پندرہ سے زائد نیکیاں شمار نہ کر سکے۔
یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اِن چالیس نیکیوں کا علم ہو گا، لیکن ان کو ذکر نہ کرنا ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم ان چالیس اعمالِ صالحہ کے پابند ہو جائیں اور باقی نیکیوں کو ترک کر دیں، جبکہ شریعت ِ مطہرہ میں ہر قسم کی نیکی اور اس کے اجر وثواب کا تعین کر دیا گیا ہے، انسان پر کوئی ایسی حالت طاری نہیں ہو سکتی، جس میں وہ یہ شکوہ کر سکے کہ اس ہیئت میں کوئی نیکی نہیں کی جا سکتی۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کو صدقہ کرتے وقت یا کوئی مالی احسان کرتے وقت اپنے عزم کے اندر مختلف انداز میں پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا اس عمل سے مقصود کیا ہے۔
یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اِن چالیس نیکیوں کا علم ہو گا، لیکن ان کو ذکر نہ کرنا ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم ان چالیس اعمالِ صالحہ کے پابند ہو جائیں اور باقی نیکیوں کو ترک کر دیں، جبکہ شریعت ِ مطہرہ میں ہر قسم کی نیکی اور اس کے اجر وثواب کا تعین کر دیا گیا ہے، انسان پر کوئی ایسی حالت طاری نہیں ہو سکتی، جس میں وہ یہ شکوہ کر سکے کہ اس ہیئت میں کوئی نیکی نہیں کی جا سکتی۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کو صدقہ کرتے وقت یا کوئی مالی احسان کرتے وقت اپنے عزم کے اندر مختلف انداز میں پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا اس عمل سے مقصود کیا ہے۔