حدیث نمبر: 3591
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَصَدَّقَ، وَأَنْتَ شَحِيحٌ صَحِيحٌ تَأْمَلُ الْعَيْشَ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْحُلْقُومِ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ (وَفِي لَفْظٍ) أَلَا قَدْ كَانَ لِفُلَانٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بہترین صدقہ کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت اور اس حال میں صدقہ کرنا کہ جب تم حریص اور صحت مند ہو، زندگی کی امید ہو اور فقیری کا ڈر ہو اور اس قدر تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق تک آن پہنچے تو تم کہنا شروع کر دو کہ فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اس قدر دے دینا، حالانکہ اس وقت تو وہ مال دوسروں کا ہو چکا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب انسان کو مال و دولت کی زیادہ ضرورت اور حرص ہو تی ہے‘ اس وقت انسان کا صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ کیونکہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضامندی کے حصول کے لئے اپنے نفس کو شکست دینا صبر آزما اور مشکل کام ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نفس کو مغلوب کرنا ہی مقصودِ الہی ہے۔ موت کے غرغرہ (یعنی جان کنی) کے وقت انسان کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا‘ اس وقت کے نیک اعمال‘ وصیتیں اور صدقہ و خیرات بے اثر‘ بے فائدہ اور بے نتیجہ ہو جاتے ہیں‘ لہذا ہم کو چاہئے کہ اپنی عمر کے ابھرتے اور نمایاں دور میں اپنی مالی حالت کے مطابق صدقہ و خیرات کر کے توشۂ آخرت تیار کریں۔
حدیث نمبر: 3592
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى))، قُلْتُ لِأَيُّوبَ: مَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى؟ قَالَ: عَنْ فَضْلِ غِنَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت ان لوگوں سے ابتدا کرو جن کی کفالت کا تو ذمہ دار ہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے کہا: عَنْ ظَہْرِ غِنًی کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: جو تیری ضرورت اور غِنٰی سے زائد ہو۔
حدیث نمبر: 3593
(وَمِنْ طَرِيقِ ثَانٍ) عَنْ أَبِي صَالِحَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ))، قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا مَنْ تَعُولُ؟ قَالَ: امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرِ أَوْ طَلِّقْنِي، وَخَادِمُكَ يَقُولُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَابْنَتُكَ تَقُولُ: إِلَى مَنْ تَذَرُنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،جو افراد تیری کفالت میں ہیں، تو ان سے خرچ کرنا شروع کیا کر۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیاگیاکہ زیر کفالت افراد سے مراد کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: تمہاری بیوی جو کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ اور نان ونفقہ دو، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہارا خادم جو کہتا ہے کہ مجھے پہلے خوراک دو، تب مجھ سے کام لو اور تمہاری بیٹی جو کہتی ہے کہ اگر تم خود میری ضرورت پوری نہیں کرو گے، تو مجھے کس کے حوالے کرو گے۔
حدیث نمبر: 3594
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناحکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 3595
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کونسا صدقہ سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم سرمائے والے آدمی کی محنت کا صدقہ افضل ہے اور جن افراد کی کفالت کا توذمہ دار ہے، (مال خرچ کرنے کے سلسلے میں) ان کے ساتھ ابتدا کیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا} (سورۂ ملک: ۲) یعنی: ’’اس اللہ) نے موت و حیات کا (نظام) پیدا کیا تاکہ تم (انسانوں) کو آزمائے کہ تم میں کون ہے جو اچھے عمل کرے گا۔‘‘
بڑی شاندار حدیث ِ مبارکہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔‘‘ (نسائی: ۲۵۲۷) دراصل اللہ تعالیٰ کی قدردان نگاہ سب سے پہلے عمل کے حسن پر پڑتی ہے اور پھر عمل کی کثرت پر، ایک غریب آدمی نے محنت و مشقت کر کے معمولی مقدار میں مال و دولت اکٹھا کیا اور بمشکل اپنے اخراجات پورے کر کے اس کی انتہائی معمولی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس تڑپ سے خرچ کی کہ اس کا نام بھی صدقہ کرنے والوں کی فہرست میں آجائے۔ ایسے آدمی کے عمل کی قدر بہرحال ایک امیر زادے کے عمل سے زیادہ ہے، جو نعمتوں کی فراوانیوں کے ماحول میں پالاپوسا گیا ہو اور وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰکے راستے میں خرچ کر دے۔
بڑی شاندار حدیث ِ مبارکہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔‘‘ (نسائی: ۲۵۲۷) دراصل اللہ تعالیٰ کی قدردان نگاہ سب سے پہلے عمل کے حسن پر پڑتی ہے اور پھر عمل کی کثرت پر، ایک غریب آدمی نے محنت و مشقت کر کے معمولی مقدار میں مال و دولت اکٹھا کیا اور بمشکل اپنے اخراجات پورے کر کے اس کی انتہائی معمولی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس تڑپ سے خرچ کی کہ اس کا نام بھی صدقہ کرنے والوں کی فہرست میں آجائے۔ ایسے آدمی کے عمل کی قدر بہرحال ایک امیر زادے کے عمل سے زیادہ ہے، جو نعمتوں کی فراوانیوں کے ماحول میں پالاپوسا گیا ہو اور وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰکے راستے میں خرچ کر دے۔