کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3573
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ {إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}، وَقَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي فِي آخِرِ الْحَشْرِ: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ ثَوْبِهِ، مِنْ صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَعْنِي كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ابھی دن شروع ہو رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کچھ ایسے لوگ آئے جن کے پاؤں میں جوتے اور جسم پر پورا لباس نہیں تھا، انھوں نے کمبل یا چوغے لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں کندھوں سے لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے اکثر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے افراد قبیلہ مضر سے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تنگ دستی کی یہ صورتحال دیکھی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ آیتیں تلاوت کیں: {یَااَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَائً وَّ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖوَالْاَرْحَامَاِنَّاللّٰہَکَانَعَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔} یعنی: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ سورۂ حشر والی یہ آیت تلاوت کی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔} یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر فرد دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے دن کے لئے کیا کچھ آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تم عمل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ خطاب سن کر کوئی دینار لے کر آیا، کوئی درہم، کوئی کپڑا، کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع لے کر آیا اور کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اتنے میں ایک انصاری ایک تھیلی اٹھا کر لایا،( وہ اس قدر وزنی تھی کہ) قریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آ جائے گا، بلکہ وہ عاجز آ گیا،یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے پے در پے صدقات پیش کرنا شروع کر دیئے،یہاں تک کہ خوراک اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ سنہری رنگ کا لگ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اپنے اس عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا،اسے اپنے عمل کا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی بھی واقع نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3573
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19388»
حدیث نمبر: 3574
عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا يُخْرِجُ رَجُلٌ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ حَتَّى يَفْكَّ عَنْهَا لَحْيَيْ سَبْعِينَ شَيْطَانًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی آدمی صدقہ کرتاہے تو وہ ستر شیطانوں کے جبڑے توڑتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان کو کنجوسی اور بخیلی جیسی گھٹیا صفات میں جکڑ دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے سے اس کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ربّ کے حکم کی پیروی کر تے ہوئے اور اسے خوش کرتے ہوئے اور اپنے ابدی دشمن شیطان کو ستاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا کریں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے میں صدقہ و خیرات کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہ بڑی اصلاح کا سبب ہے، اس سے جہاں صدقہ کرنے والا خود پاکیز ہ ہوتا ہے اور اپنے مال میں برکت حاصل کرتا ہے، وہاں صدقہ وصول کرنے والا بھی اپنے حالات کو سنوار لیتا ہے۔ کاش کہ ہمارے ہاں بھی صدقہ و خیرات کا یہ نظام منظم بن جاتا اور سرمایہ دار اس چیز کو اپنے لیے اعزاز کا باعث سمجھ لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3574
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح، انظر الصحيحة: 1268۔ اخرجه ابن خزيمة: 2457، والحاكم: 1/ 417، والبيھقي: 4/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23350»
حدیث نمبر: 3575
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَمَّنْ أَيْمَنَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ عَمَّنْ أَشَامَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ))، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَلْيَفْعَلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ربّ گفتگو کرے گا، اس حال میں کہ اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، پس جب وہ بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا، جو اس نے آگے بھیجا ہو گا، پھر جب وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو اسے اُدھر بھی وہی کچھ نظر آئے گا، جو وہ آگے بھیج چکا ہو گا، جب وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اُدھر اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس آدمی میں اپنے چہرے کو آگ سے بچانے کیلئے جو استطاعت ہے، وہ استعمال کر دے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔
وضاحت:
فوائد: … صدقہ و خیرات کا تعلق مالداری سے نہیں ہے، سخاوت والے مزاج سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3575
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6539، 7512، ومسلم: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19590»
حدیث نمبر: 3576
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ فَلْيَتَصَدَّقْ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (۳۵۷۶) (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ صدقہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور جسے وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)۔
وضاحت:
فوائد: … اچھی بات سے مراد یہ ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے اور اس معاملے میں معرفت اور عدم معرفت کی بنا پر فرق نہیں کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18437»
حدیث نمبر: 3577
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ، حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ أَوْ قَالَ: يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ))، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً، أَوْ بَصَلَةً أَوْ كَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا۔ یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں: ابو خیر مرثد ہر روز کسی نہ کسی چیز کا صدقہ کیا کرتے تھے، خواہ وہ ایک کیک یا ایک پیازیا اس قسم کی کوئی چیز ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3577
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة: 2431، وابن حبان: 3310، والحاكم: 1/ 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17466»
حدیث نمبر: 3578
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ مَرْثَدُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَجِيءُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ بَصَلَةٌ؟ فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا الْخَيْرِ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يُنْتِنُ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! إِنَّهُ وَاللَّهِ! مَا كَانَ فِي مَنْزِلِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرَهُ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) یزید کہتا ہے: مرثد بن عبد اللہ جب بھی مسجد کی طرف آتے تو صدقہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نہ کوئی چیز ہوتی تھی۔ ایک دن جب وہ آئے تو ان کے پاس ایک پیاز تھا، میں نے کہا: ابو الخیر! آپ اس کو کیا کریں گے؟ یہ تو آپ کے کپڑوں کو بدبودار کر دے گا۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! اللہ کی قسم! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز نہیں تھی۔ مجھے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن پر اس کا صدقہ سایہ فگن ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جس طرح ہر انسان کی ضروریات اور اہل و عیال کے تقاضے ہوتے ہیں، اسی طرح صدقہ و خیرات ہماری زندگی کی ایک ضرورت اور تقاضا ہے، لیکنیہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ لوگوں نے اپنے بال بچوں میں خوش رہنے اور بیوی بچوں کی ہر قسم کی خواہش پورے کرنے کو ہی مقصد ِ حیات سمجھ لیا، ہمارے ہاں سعادت اور خوش بختییہی علامت ہے، بے سہارا اور فقروفاقہ سے دوچار لوگوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3578
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23886»
حدیث نمبر: 3579
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِّي حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا صدقہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3837، وانظر الحديث السابق لأن ھذا الصحابي المبھم ھو عقبة بن عامر رضي الله عنه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18207»
حدیث نمبر: 3580
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى الْكَفَافِ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دے گا تو یہ تیرے لئے بہتر ہو گا اور اگر اسے بچا کر رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا، البتہ بقدر حاجت بچا کر رکھنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا، اور خرچ کرتے وقت ان افراد سے ابتدا کر، جو تیری کفالت میں ہیں، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے) بہتر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22621»
حدیث نمبر: 3581
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی طرح کی ایک روایت بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی روایت میں امام احمد منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1428، ومسلم: ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7155»
حدیث نمبر: 3582
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ الْيَوْمَ يُجْزَى غَدًا، وَمَلَكًا بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ یوں آواز دیتا ہے: کون آج قرض دے گا، تاکہ اسے کل (قیامت والے دن) بدلہ دیا جا سکے،اور ایک دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یوں کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بہترین متبادل عطا فرما اور بخیل کے مال کو ہلاک کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ امیری اور غریبی نسل در نسل چلنے والی چیزیں نہیں ہے، آج جو لوگ بڑے سرمایہ دار ہیں، ان کے بڑے کوئی سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے، اسی طرح آج جو لوگ فقیر اور محتاج بن گئے ہیں، ان کے ماضی قریب کا فقر اور غربت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ دراصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوںکو نعمتوں سے نوازتا ہے اور بندے آہستہ آہستہ اپنی اوقات کو بھول کر راہِ اعتدال سے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور قارون کی طرح اپنی دولت کو اپنی ذات، ہنر اور برادری کا کمال اور اعزاز سمجھنے لگتے ہیں تو آسمان والا یا تو کچھ عرصے کے لیے ان کو ڈھیل دینا شروع کر دیتا ہے یا پھر ان کو اس نعمت سے محروم کرنے کی کاروائی شروع کر دیتا ہے، قرآن مجید کے درج ذیل اقتباس پر غور فرمائیں: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلَاہُ رَبُّہٗفَاَکْرَمَہٗوَنَعَّمَہٗفَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَکْرَمَنِ۔ وَاَمَّا اِذَا مَا ابْتَلَاہَ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗفَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ۔ کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ۔ وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا۔ وَتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔} ’’انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا۔ اور جب وہ اس کو اس طرح آزماتا ہے کہ اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ تم ہی لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو۔‘‘ (سورۂ فجر: ۱۵ تا ف۲۰)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دولت کا رخ پھر جانے کے چار اسباب بیان کیے ہیں: (۱) یتیموں کی عزت نہ کرنا، (۲) مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ترغیب نہ دلانا، (۳) رشتہ داروں کی میراث سمیٹ لینا اور (۴) مال سے بہت محبت کرنا۔
جب کسی سرمایہ دار میں یہ خباثتیں آ جاتی ہیں تو دولت کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ یا تو چند سالوں کے بعد حالات بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں، نہیں تو اس کے کیے کا بھگتان اس کی اولاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے کئی افراد اس وقت میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے دس بارہ بارہ سالوں کے اندر ایسے ایسے پلٹے دیئے کہ ان بیچاروں کو بھی سمجھ نہ آئی کہ ان کے ساتھ کیا پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، کسی کو اس کی عیاشی نے، کسی کو اس کے بخل نے، کسی کو غریبوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے نے، کسیکو دولت ہی کو ذلت و عزت کا معیار سمجھنے نے، کسی کو سودی نظام نے، کسی کو غریبوں کے سنجیدہ مسائل پر بے حسی کا ثبوت دینے نے، کسی کو مجبوروں کو دیکھ کر تیوڑی چڑھانے نے، … علی ہذا القیاس۔ یہ ایسے اسباب ہیں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دولت کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں۔ میں یہی التماس کروں گا: سرمایہ دارو! دولت ڈھلتی چھاؤں ہے، کبھی بھی اپنی اوقات کو نہ بھولنے پاؤ، تمہارے خزانوں کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اسی کے نظام کو اپنے مزاجوں اور گھروں میں رواج دو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ’’غنی‘‘ کا لقب پاؤ گے، وگرنہ فرشتوں کی بددعاؤں کا مصداق بن جاؤ گے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3582
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8040»
حدیث نمبر: 3583
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: ((يَا عَائِشَةُ! اسْتَتِرِي مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنَّهَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّهَا مِنَ الشَّبْعَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عائشہ! آگ سے بچ (اس کے لیے اسباب پیدا کر)، اگر چہ وہ کھجور کا ایک حصہ دینے کی صورت میں ہی ہو، یہ سیر آدمی کی طرح ہی بھوکے آدمی کو فائدہ دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3583
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد منقطع، المطلب بن عبد الله لم يدرك عائشة، لكن قوله ((استتري من النار، ولو بشق تمرة)) صحيح بسند آخر، وقوله: ((فانھا تسد من الجائع مسدھا من الشبعان)) له شاھد من حديث ابي بكر الصديق عند ابييعلي: 85، والبزار في ’’البحر الزخار‘‘: 1/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25006»
حدیث نمبر: 3584
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِيَتَّقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے چہرے کو آگے سے بچائے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک حصہ صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3584
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابو نعيم في ’’الحلية‘‘: 8/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3679»
حدیث نمبر: 3585
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((تَصَدَّقُوا فَيُوْشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا، وَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو، کیونکہ قریب ہے کہ ایک آدمی صدقہ لے کر چلے اور جسے وہ دینا چاہے، وہ آگے سے کہے: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، اب تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، پس اسے ایسا آدمی نہیں ملے گا، جو اس کے صدقے کو قبول کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی آدمی مالدار ہے اور اس کے ارد گرد مستحق لوگ موجود ہے، تو وہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر صدقہ و خیرات سے محروم نہ رہے، کیونکہ قریب ہے کہ اس کو مستحقین کی فہرست میں شامل کر دیا جائے، یا اس کے قرب وجوار والے سارے ہی اپنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3585
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1411، 1424، ومسلم: 1011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18933»
حدیث نمبر: 3586
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ((يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى بِكَفِّهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک کھجوروں کے باغ میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! زیادہ مال والے ہلاک ہو گئے، ما سوائے ان لوگوں کے جو مال کو اِدھر خرچ کرتے ہیں، اُدھر دیتے ہیں اور اس طرف لٹاتے ہیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے دائیں، بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3586
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الحاكم: 1/ 517، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8071»
حدیث نمبر: 3587
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟)) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ: ((اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا قَدَّمْتَ، وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہو؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کواس کے وارث کی بہ نسبت اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھریاد رکھو کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہے، تمہارا مال تو صرف وہ ہے، جسے تم نے خرچ کرکے آگے بھیج دیا اور جو پیچھے چھوڑا، وہ تمہارے وارث کا مال ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3587
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري:6442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3626»
حدیث نمبر: 3588
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: ((كُلُّهَا قَدْ بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصور تھا کہ بندے کا حقیقی خزانہ وہ ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔ سبحان اللہ! جو گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بینک میں جمع ہو گیا، جس میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ایک کھجور، پہاڑ کی مانند بن جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24744»
حدیث نمبر: 3589
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّدَقَةِ فَذَكَرَتْ شَيْئًا قَلِيلًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطِ وَلَا تُوعِي، فَيُوعَى عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ مصیبت ہمارے دور میں بھی بدرجۂ اتم پائی جا رہی ہے کہ لوگوں نے صدقہ و خیرات کی انتہائی معمولی مقدار کو اپنے لیے کافی و شافی سمجھ لیا ہے، اگر کوئی آدمی کسی فقیر کو سو پچاس دے دیتا ہے، وہ کئی دنوں تک اس کو بھولنے نہیں پاتا۔ قارئین کرام! کوئی مانے یا نہ مانے، ابھی تک عملی طور پر ہم یہ عقیدہ اور نظریہ قائم نہ کر سکے کہ سخاوت کی وجہ سے خزانوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی نسلیں اس کی برکت سے مستفید ہوتی رہتی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ جون ۲۰۱۲؁ءمیں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی، چند برس پہلے اس کے پاس پانچ کروڑ روپیہ اور بہترین کاروبار موجود تھا، لیکن۲۵ جون کو ایک ہزار روپے کی بھیک مانگ کر اسے دیا گیا، تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے، جبکہ اس کا دعوییہ ہے کہ اس کو کوئی سمجھ آئی کہ اس کی اتنی بھاری رقم کہاں دفن ہو گئی۔ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کنجوسی ہونے لگ جائے تو بندہ کرتا تو کچھ اور ہے، لیکن ہوتا کچھ اور ہے، آدمی اپنے لیے خود گڑھے کھودنے لگ جاتا ہے۔ العیاذ باللہ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3589
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700، والنسائي: 5/73، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25781»
حدیث نمبر: 3590
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ)) حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن کیا مجھے اپنے ضمیروں سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا ہم نے کسی محتاج کو تلاش کر کے اور اس پر ترس کھا کر اسے بھی سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا موٹر کار کا مستحق سمجھا ہو؟! یا اس کے گھر میں بھی راشن پہنچانے کو اپنے لیے باعث ِ اعزاز سمجھا ہو؟! ہر گز نہیں، ممکن ہے کہ ہمارا نظریہ ہییہ ہو کہ اس قسم کا محتاج تو ہمارے معاشرے پایا ہی نہیں جاتا، جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ رزق کی تنگیوں نے لوگوں کے سکون کو اس طرح تباہ کیا ہو کہ وہ مستقل طور پر کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1728، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11313»