حدیث نمبر: 3565
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، قَالَ مَعْمَرٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر آزادو غلام، مرد و زن ، چھوٹے بڑے اور فقیر اور غنی پر کھجور کا ایک صاع اور گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر فرض ہے۔ معمر کہتے ہیں: مجھے یہ خبرملی ہے کہ امام زہری اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3566
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ كَذَا وَكَذَا وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر کے سلسلہ میں فلاں فلاں جنس کا ایک ایک صاع اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 3567
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي آخِرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ! أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن بصری کہتے ہیں: سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور کہا: اسے اہل بصرہ! تم اپنے روزوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سن کر لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: یہاں مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ اٹھو ذرا اور اپنے بھائیوں کو یہ تعلیم دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر غلام و آزاد اور مردوزن پر صدقۂ فطر کے سلسلہ میں گندم کا نصف صاع اور جو اور کھجور کا ایک ایک صاع فرض کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3568
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ فَقَالَ: أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ) أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن ثعلبہ عذری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: تم ہر دو آدمیوں کی طرف سے گندم کا ایک صاع اور کھجور اور جو کی صورت میں ہر ایک کی طرف ایک ایک صاع ادا کرو، یہ صدقہ ہر آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے پر ہے۔
حدیث نمبر: 3569
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ أَوْ صَاعًا مِنْ بُرٍّ وَشَكَّ حَمَّادٌ، عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا يُعْطِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر چھوٹے بڑے، مردو زن، آزاد و غلام اور امیرو غریب میں سے ہر دو کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو، رہا مسئلہ امیر کا تو اللہ تعالیٰ اسے پاک کر دے گا اور رہا مسئلہ غریب کا تو اللہ تعالیٰ (دوسرے لوگوں کے ذریعے) اسے اس مقدار سے زیادہ واپس کرے گا، جو وہ صدقہ میں دے گا۔
حدیث نمبر: 3570
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: كُنَّا نُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ بِالْمُدِّ الَّذِي تَقْتَاتُونَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی کی طرف سے گندم کے دو مُد بطورِ صدقۂ فطر ادا کرتے تھے، یہ وہی مُد ہے، جس کے ساتھ تم غلے کا لین دین کرتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر کفایت کرتا ہے، ایک حدیثیہ بھی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ اَوْ صَاعٍ مِمَّا سَوَاہ مِنَ الطَّعَامِ۔)) (دارقطنی: ۲۲۰، ۲۲۱ من طریقین عن ابن جریج عنہ،صحیحہ: ۱۱۷۹) … ’’گندم سے دو مدّ اور اس کے علاوہ باقی کھانوں سے ایک صاع۔‘‘ سیدناابوبکر،سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا معاویہ، سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا زبیر، یہ سب اس بات کے قائل تھے کہ گندم کا نصف صاع صدقۂ فطر میںدیا جائے گا۔ ہمارے ہاں عام طور پر عید الفطر کے موقع پر مروّجہ جنس کی قیمت کی صورت میں صدقۂ فطر ادا کر دیا جاتا ہے۔ جواز کی حد تک تو اس کا قائل ہوا جا سکتا ہے، بہرحال اصل شرعی مسئلہ یہی ہے کہ سنت کے مطابق جنس ادا کی جائے، اسی میں مساکین لوگوں کا زیادہ فائدہ ہے۔ اس موقع پر ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے، بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جنس کی قیمت ادا کرنا زیادہ مناسب ہے، وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مساکین اپنی ضرورت کے مطابق عید سے متعلقہ مختلف چیزیں خرید سکیں گے۔ ان لوگوں کا یہ فہم دو وجوہات کی بنا پر درست نہیں ہے، ایکیہ کہ وہی صورت زیادہ مناسبت کا حق رکھتی ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اختیار کی گئی ہو اور دوسرے یہ کہ کیا مسکینوں، بے سہاروں اور بے کسوں کی عیدوں کی خوشیاں صرف ہمارے صدقۂ فطر کے پچاس ساٹھ روپوں میں پنہاں ہیں۔ ایسے لوگ عید کے موقع پر جب اپنے بچوں کے لیے قسما قسم کے کپڑے، جوتے، کھلونے اور کھانے کی چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں، کیا اس وقت یہ خیال ان کو بے چین نہیں کرتا کہ ہمارے معاشرے میں سینکڑوں ایسے بچے موجود ہیں، جو ایسے موقعوں پر حاجت مند آنکھوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کا منہ تک رہے ہوتے ہیں، لیکن ان بے چاروں کی جیب ان کے بچوں کے یہ تقاضے پورے کرنے سے عاجز ہوتی ہے۔ یہ کیسی کھوٹی اور ردّی سوچ ہے کہ ایسے محتاج صرف صدقۂ فطر سے اپنی زندگی کا سارا سرکل چلائیں۔