کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
حدیث نمبر: 3559
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مسلمان ، وہ آزاد ہو یا غلام اور مرد ہو یا عورت، پر ایک صاع کھجور یا جو کی صورت میں رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3560
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک صاع کا وزن دو کلو اور سو گرام ہے، تخمینی وزن اڑھائی کلو بتا دیا جاتا ہے۔ جو کہ درست نہیں۔ حدیث نمبر (۳۳۸۲) میں صاع کی مقدار کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے، قارئین کو اُس مفید بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 3561
عَنْ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَدَقَةِ الْفَطْرِ فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، ثُمَّ نَزَلَتِ الزَّكَاةُ فَلَمْ نُنْهَ عَنْهَا وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، ثُمَّ نَزَلَ رَمَضَانُ فَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … صدقۂ فطر اب بھی مشروع ہے، زکوۃ کی فرضیت سے اس کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں پڑا، زکوۃ کے حکم کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقۂ فطر کے بارے میں از سرِ نو حکم نہ دینا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔