کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صدقہ کرنے والے کے لیے اپنی صدقہ کی ہوئی چیز خریدنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3553
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَآهَا أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا يُبَاعُ فَأَرَادَ شِرَاءَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَتْرُكْهَا تُوَافِكَ أَوْ تَلْقَاهَا جَمِيعًا))، وَقَالَ مَرَّةً: فَنَهَاهُ وَقَالَ: ((لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا تھا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس کو یا اس کے بچے کو فروخت کیا جا رہا ہے تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کو نہ خریدو، تاکہ (قیامت کے روز) وہ تجھے پورا پورا ملے (یا پھر راوی نے کہا) تم اس کا پورا اجر پا سکو۔ ایک دفعہ راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنی صدقہ کی ہوئی چیز میں مت لوٹو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2636، 2970، ومسلم: 1620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 166»
حدیث نمبر: 3554
((وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ)) عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ فَأَرَدْتُّ أَنْ أَبْتَاعَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَقُلْتُ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، لیکن اس کے مالک نے اس کو ضائع کر دیا، اس لیے میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، جبکہ مجھے یہ توقع بھی تھی کہ وہ اسے سستے داموں بیچ دے گا، پھر میں نے سوچا کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، خواہ وہ تمہیں ایک درہم کے عوض دے دے، صدقہ کرکے اسے واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجس ترین مخلوق کی سب سے گندی حالت بیان کر کے اس جرم سے نفرت دلائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ايضًا (3555) تخر يج: اخرجه البخاري: 1489، ومسلم: 1621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 281»
حدیث نمبر: 3555
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا اور بعد میں دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے، اس لیے انہوں نے اسے خریدنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے صدقہ میں مت لوٹو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4903»
حدیث نمبر: 3556
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهَا غَمْرَةُ أَوْ غَمْرَاءُ، وَقَالَ: فَوَجَدَ فَرَسًا أَوْ مُهْرًا يُبَاعُ فَنُسِبَ إِلَى تِلْكَ الْفَرَسِ فَنُهِيَ عَنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنازبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے غمرہ یا غمراء نامی ایک گھوڑی کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، بعد میں اس نے دیکھا کہ اسی گھوڑی کویا اس کے بچے، جو اسی گھوڑی کی طرف منسوب کیا گیا، کو فروخت کیا جا رہا تھا، لیکن اسے ایسے کرنے سے منع کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3556
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ماجه: 2393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1410»
حدیث نمبر: 3557
عَنْ أَبِي عَرِيفِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَتِيمٌ كَانَ فِي حَجْرِي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ ثُمَّ مَاتَ وَأَنَا وَارِثُهُ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ فَدَفَعَهُ يَبِيعُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْهُ وَقَالَ: ((إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عریف بن سریع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا: میری کفالت میں ایک یتیم بچہ تھا، میں نے اسے ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، پھر وہ بچہ فوت ہو گیا اورمیں ہی اس کا وارث ہوں، (اب اس لونڈی کا کیا بنے گا)؟ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: میں تمہیں ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے، بات یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس آدمی نے اس کو بیچنے کے لیے ایک مقام پر پیش کر دیا، تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: جب ایک دفعہ صدقہ کر دو تو جاری کر دیا کرو (یعنی کسی طرح سے واپس لینے کا نہ سوچا کرو)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3557
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف، و عريف بن سريع لم يوثقه غير ابن حبان ولم يرو عنه غير توبه بن نمر، وقصة حمل عمر علي فرس صحيحة۔ اخرجه البخاري في ’’تاريخه‘‘: 2/ 152 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6616»
حدیث نمبر: 3558
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ فَمَاتَتْ وَإِنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيَّ فِي الْمِيرَاثِ، قَالَ: ((قَدْ أَجَرَكِ اللَّهُ، وَرَدَّ عَلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ))، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُوْمَ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، لیکن ہوا یوں کہ میری امی جان فوت ہو گئی ہیں اور وہ لونڈی میراث میں مجھے مل گی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجر بھی دے دیا ہے اور اسی لونڈی کو میراث کی صورت میں تمہیں واپس کر دیا ہے۔ اسی خاتون نے کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہیں،اب اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو یہ اُن کو کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے بھی تھے، اگر میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں تو آیا ان کو کفایت کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جب ایک چیز بطورِ صدقہ دے دی جائے، تو اس کی واپسی کا خیال ترک کر دیا جائے، اگرچہ وہ خرید لینے کی صورت میں ہو۔ دراصل جب آدمی ایک چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کی ملکیت میں دے دیتا ہے، تو پھر اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ دوبارہ اس چیز کامالک بنے، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مہاجرین کو مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ وہ اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ چکے تھے۔ اس باب سے تو یہ ثابت ہوا کہ ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس نہیں لیا جا سکتا، اس سے منع بھی کیا گیا ہے اور ایسا کرنے والے کی گندی مثال بیان کی گئی ہے، لیکن اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث قابل توجہ ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ الَّذِیْیَسْتَرِدُّ مَا وَھَبَ کَمَثَلِ الْکَلْبِ یَقِیْئُ فَیَأْکُلُ قَیْئَہٗ، فَاِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاھِبُ فَلْیُوَقَّفْ فَلْیُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِیُدْ فَعْ اِلَیْہِ مَا وَھَبَ)) (ابوداود: ۳۵۴۰، نسائی: ۳۶۸۹)
’’جو آدمی ہبہ دینے کے بعد اس کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، وہ اس کتے کی مانند ہے، جو قے کر کے اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے، لیکن جب ہبہ کرنے والا ہبہ کی واپسی کا مطالبہ کر دے تو اس کوکھڑا کیا جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں واپس لے رہا ہے، پھر جو چیز اس نے ہبہ میں دی تھی، وہ اسے واپس کر دی جائے۔‘‘
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے اس حدیث کا دو مفہوم بیان کیے ہیں: (۱) ہبہ کرنے والے شخص سے پوچھا جائے کہ وہ واپسی کا مطالبہ کیوں کر رہا ہے، پھر اس کی چیز اس کو واپس لوٹا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ اس نے متبادل لینے کے لیےیہ چیز ہبہ کی ہو،ا ب اگر اسے متبادل مل جائے تو وہ یہ چیز واپس نہیں لے گا،وگرنہ واپس لے لے گا۔
(۲) ہبہ کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے شخص کو کھڑا کر کے ہبہ کا مسئلہ سمجھایا جائے، تاکہ اس کی جہالت ختم ہو جائے، پھر اسے کہا جائے کہ تیری مثال فلاں کتے کی طرح ہے، اب اگر تو کتے کی مشابہت سے بچنا چاہتا ہے تو اپنے مطالبہ سے باز آ جا، اور اگر تو چاہتا ہے کہ ہبہ واپس لے کر قے کو چاٹنے والے کتے کی طرح ہو جائے تو واپس لے لے، اگر پھر بھی وہ اپنے مطالبے پر ڈٹا رہے تو اس کی چیز اس کو واپس کر دی جائے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۶۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوْئِ، اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہٖکَالْکَلْبِیَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہٖ)) (ترمذی: ۱۲۹۸، نسائی: ۳۶۹۸)
’’ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے، ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے، جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔‘‘
امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے کہا: ہم مسلمانوں کی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم ایسی قابل مذمت صفات کو اپنا لیں، کہ جن کی وجہ سے ہمیں گھٹیا ترین مخلوق کی انتہائی گھٹیا حالت سے تشبیہ دے دی جائے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لِلَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَۃِ مَثَلُ السُّوْئِ وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی}
’’آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کی مثال بری ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے تو اعلی مثال (بہت بلند صفت) ہے۔‘‘
ایسے معلوم ہوتا ہے ایسے فعل سے ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور اس کو حرام قرار دینے کا یہ انداز اس طرح کہنے سے زیادہ بلیغ ہے: ’’لَا تَعُوْدُوْا فِیْ الْھِبَۃِ۔‘‘ (ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہ لو)۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۴۳۵) مؤخر الذکر حدیث ِ مبارکہ اور اس کی تشریح سے معلوم ہوا کہ ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینا ناجائز ہے۔
زَکَاۃُ الْفِطْرِ
صدقۂ فطر کے ابواب
صدقۂ فطر: اس سے مراد ماہِ رمضان کے اختتام پر نمازِ عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا ہے، تاکہ روزے لغو باتوں اور فحش گوئیوں سے پاک ہو جائیں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا جا سکے۔ فطرانہ کی ادائیگی کے لیے صاحب ِ نصابِ زکوۃ کی شرط لگانا درست نہیں ہے، یہ صدقہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو متعلقہ جنس کا ایک صاع صدقہ کرنے پر قدرت رکھتا ہو، وگرنہ {لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلّٰا وُسْعَھَا}، آنے والے چار ابواب کا تعلق صدقۂ فطر سے ہے، اس لیے اس سے متعلقہ تمام مسائل کے لیے چاروں ابواب کا مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3558
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23344»