کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائل کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3545
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن ابييحيي۔ أخرجه أبوداود: 1665، 1666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1730»
حدیث نمبر: 3546
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي، (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَرْفَعُ فِي يَدِهِ) فَقَالَ: ((ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی انتہائی کم قیمت چیزوں کا مالک ہو تو اسے چاہیے کہ ان ہی سے مسکین کامطالبہ پورا کرنے کی کوشش کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1667، والترمذي: 665، والنسائي: 5/ 86 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27692»
حدیث نمبر: 3547
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ، وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ: وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي، فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کی قسم! مسکین میرے دروازے پرآ کر کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اس کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لئے تمہارے پاس جلائے ہوئے کھر کے سوا کچھ بھی نہ ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3547
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27691»
حدیث نمبر: 3548
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلَى بَابِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ جَدَّتُهُ حَوَّاءُ: أَطْعِمُوهُ تَمْرًا، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا، قَالَتْ: فَاسْقُوهُ سَوِيقًا، قَالُوا: الْعَجَبُ لَكِ نَسْتَطِيعُ أَنْ نُطْعِمَهُ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا؟ قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تَرُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن معاذ الانصاري۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير،: 24/ 558، وابن سعد: 8/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27998»
حدیث نمبر: 3549
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا، فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ) قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا: ((يَا عَائِشَةُ! لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا: اسے کچھ دے دو، پس وہ خادم اسے دینے کے لئے کوئی چیز لایا۔ دوسری روایت میں ہے:سیدہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے وہ چیز ان کے پاس لے کر آتا کہ وہ اس چیز کی مقدار کو دیکھ لے۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دفعہ میرے پاس ایک سائل آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے، میں نے اسے کچھ دینے کا حکم دیا، لیکن پہلے میں نے دینے والے کو بلایا اور اس چیز کو دیکھا (کہ وہ کیا دے رہا ہے اور کتنی مقدار میں دے رہا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَمَا تُرِیْدِیْنَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ بَیْتَکِ شَیْئٌ وَلَا یَخْرُجُ اِلَّا بِعِلْمِکِ؟)) ’’کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تیرے گھر میں جو چیز لائی جائے اور جو نکالی جائے، اس کا تجھے علم ہونا چاہیے؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا عَائِشَۃُ! لَاتُحْصِیْ فَیُحْصِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکِ۔)) ’’ٹھیرو عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔‘‘ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ آدمی صدقہ کی ہوئی چیزوں کا حساب کرے اور پھر ان کو زیادہ اور کافی سمجھ کر مزید صدقہ نہ کرے، اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی رزق کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی حیثیت کے مطابق صدقہ کرتا رہے اور صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کو مد نظر رکھ کرآئندہ صدقہ کرنے سے رک نہ جائے اور اللہ تعالیٰ سے فقیری کا ڈر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700، والنسائي: 5/ 73، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24922»
حدیث نمبر: 3550
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُمْ حَيْثُ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ: ((وَمَا يَكُونُ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ بُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑی وسعت والی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، اس وقت امت ِ مسلمہ پر مسلّط بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبتیہ ہے کہ سوالی کے حق کی معرفت اور شناخت نہیں رہی،یتامی و فقراء و مساکین کے معاملے میں انتہائی لا پرواہی برتی جا رہی ہے، بلکہ بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ بعض مالدار لوگ اپنے ماحول میں غریبوں کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں، جبکہ ان ہی کے محلّوں میں اللہ تعالیٰ کی قابل ترس مخلوق فاقہ میں شب و روز گزار رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔} (سورۂ ضحی: ۹، ۱۰)) … ’’پس یتیم پر تو سخی نہ کیا کر اور سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر سوالیوں سے نرمی کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک اہم مسئلہ عصر حاضر کے سوالیوں اور بھکاریوں کا ہے، اگر کوئی آدمی کسی سائل کی تحقیق کرنا چاہتا ہو تو اس معاملے میں قطعی طور پر اس کو سختی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر اس کی تحقیق کے مطابق وہ سائل مستحق ثابت نہیں ہوتا تو اسے چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے ساتھ اس کو سمجھا دے، تاکہ بات اس کے دل میں گھر کر جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۵۰۷) کا تقاضا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11912»