کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3540
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ مِنِّي، قَالَ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ، وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ، وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی چیز دیتے تھے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز اس کو دیں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے مال دیا اور میں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مال مجھ سے زیادہ حاجت مند کو دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ لے لو اور اس کے مالک بنو اور (پھر چاہو تو) اسے صدقہ کر دو، جو مال لالچ اور سوال کے بغیر مل جائے، وہ لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔
حدیث نمبر: 3541
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَرَدُّوهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَأَقْبَلِيهِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مطلب بن حنطب کہتے ہیں: عبد اللہ بن عامر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ خرچہ اور لباس بھیجا، لیکن انہوں نے قاصد سے کہا: میرے پیارے بیٹے! میں کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اسے واپس بلاؤ۔ جب لوگوں نے اسے واپس بلایا تو انھوں نے کہا: مجھے ایک بات یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ عائشہ ! جو آدمی بن مانگے کوئی چیز تمہیں دے دے تو وہ لے لیا کرو، کیونکہ یہ تو ایسا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔
حدیث نمبر: 3542
عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنِ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى)) وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ الْيَدَ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةَ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةَ، وَإِنِّي غَيْرُ سَائِلِكَ شَيْئًا وَلَا رَادٌّ رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ عبد العزیز بن مروان نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف یہ لکھ کر بھیجا کہ ان کی کوئی ضرورت ہو تو وہ پیش کریں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے ابتدا کیا کرو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچےوالا سوال کرنے والا ہے، لہذا میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے مجھے کوئی چیز بھجوا دے تو اسے واپس نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 3543
عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن فراسی سے روایت ہے کہ سیدنا فراسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا میں مانگ سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر سوال کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۳۵۲۸) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آدمی حکمرانوں سے سوال کرسکتا ہے اور اشد ضرورت میں، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، ہر خاص و عام سے سوال کر سکتا ہے، بہرحال مختلف مزاجوں کو دیکھ کر بعض لوگوں سے بچ کر بعض کو ترجیح دی جا سکتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے در کا محتاج رکھے۔
حدیث نمبر: 3544
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يُرَدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناخالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جسے بن مانگے اور بغیر حرص کے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے (ہدیہ، عطیہ، ہبہ وغیرہ جیسی) کوئی چیز ملے تو وہ اسے قبول کر لے اور واپس نہ لوٹائے، کیونکہ وہ اللہ کا رزق ہے، جو وہ اس کی طرف کھینچ کر لایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس ضمن میں یہ گزارش کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو جب کوئی تحفہ دیا جاتا ہے یا ان کی ضیافت وغیرہ کی جاتی ہے، تو وہ اسے قبول کرنے میں اتنا تکلف برتتے ہیں کہ تحفہ پیش کرنے والا بیچارہ پریشان ہو جاتا ہے اور اس کا سارا مزہ بے مزہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی اس قسم کی کوئی چیز پیش کر رہا ہے تو ایک دفعہ بڑی خوشی کے ساتھ قبول کر کے شکریہ ادا کرنا چاہیے، ہاں اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ دینے والے کا مقصد خوشامد ہے یا وہ صرف رکھ رکھاؤ کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر یہ کام کر رہا ہے تو اسے بعد میں اچھے انداز میں سمجھا دینا چاہیے۔