کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 3537
عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَبِي الْمُثَنَّى أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا، وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ وَلَكَ الْجَنَّةُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَبَسَطْتُ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ: ((أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا))، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطْ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اس بات پر پانچ دفعہ بیعت لی، سات مرتبہ پختہ عہد لیا اور نو بار اللہ تعالیٰ کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ ابو مثنّٰی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: کیا تم ایک ایسی میری بیعت کرنے پر تیار ہو جاؤ گے، جس کے عوض تم کو جنت ملے گی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر اس شرط کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ میں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوڑا بھی گر جائے تو اس کا سوال بھی نہیں کرنا، بلکہ خود اتر کر اٹھانا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3537
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو اليمان و ابو المثني في عداد المجھولين، لكن تشھد لھاتين الجملتين احاديث اخري:’’اَنْ لا اَخَافَ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ‘‘ و ’’اَنْ لَّاتَسْاَلِ النَّاسَ شَيْئًا‘‘ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21841»
حدیث نمبر: 3538
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سِتَّةِ نَفَرٍ أَوْ سَبْعَةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ، فَقَالَ لَنَا: ((بَايِعُونِي))، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَدْ بَايَعْنَاكَ، قَالَ: ((بَايِعُونِي))، فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيَّةً، فَقَالَ: ((لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چھ یا سات یا آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ان ہی امور کی بیعت لی، جو دوسروں سے لی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفی سے انداز میں ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور وہ یہ تھا کہ: تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں درج ذیل وضاحت موجود ہے: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نئی نئی بیعت کی تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت کا مطالبہ کیا تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرو گے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ ایسے فرمایا اور صحابۂ کرام بھی آگے سے یہی بات کہتے رہے کہ ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں۔آخری مرتبہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک دفعہ تو ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، اب ہم کس چیز پر بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہبیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت کرو گے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پست آواز میں یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا: ’’اور تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرو گے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ اگر ان لوگوں سے سواری کے اوپر سے چھڑی گر جاتی، تو وہ کسی سے یہ مطالبہ بھی نہیں کرتے تھے کہ وہ ان کو اٹھاکر دے دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3538
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24493»
حدیث نمبر: 3539
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَتَقَبَّلُ، (وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ يَتَكَفَّلُ) لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَتَكَفَّلُ) لَهُ بِالْجَنَّةِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: ((لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا))، فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ حَتَّى يَنْزِلَ فَيَتَنَاوَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے ایک چیز کی ضمانت دے، اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا؟ میں نے کہا: جی میں (حاضر ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ جب سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوتے اور ان کی لاٹھی گر جاتی تو وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ وہ ان کو اٹھا کر دے دے، بلکہ خود سواری سے اتر کر اس کو اٹھاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ہمیں اندازہ کر لینا کہ ہمارے مذہب کے نزدیک ہماری عزت اور غیرت کس قدر قیمتی چیز ہے کہ اس کا ہلکا سا متأثر ہونا بھی ہماری شریعت کو گوارا نہیں ہے، جو لوگ شریعت کے اس قانون کے بارے میں محتاط نہیں رہتے، معاشرے میں ان کی قدر گھٹ جاتی ہے، بلکہ وہ خود عزت ِ نفس میں کمی ہوتی ہوئی محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں اپنے ضمیر کے ساتھ یہ پکا فیصلہ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کسی شخص سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا اور کسی بشر سے کوئی حرص اور لالچ وابستہ نہیں رکھنی، زندگی کا مزہ بھی آئے گا اور اللہ تعالیٰ خیر و برکت بھی عطا کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1837، والنسائي: 5/ 96، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22744»