حدیث نمبر: 3515
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعْ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دیا، لیکن یہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3516
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ فَأَلْحَفْتُ، فَقَالَ: ((يَا حَكِيمُ! مَا أَكْثَرَ مَسْأَلَتَكَ! يَا حَكِيمُ! إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ، وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو دنیوی زندگی گزارنے کے لیے مختلف اسباب کی ضرورت تو ہے، لیکن وہ حسب ِ استطاعت محنت کر کے ان اسباب کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور آزادانہ شب و روز کو گزارتے ہوئے کسی کے مال و دولت کی طرف حریصانہ نگاہ سے مت دیکھے۔ خدا نخواستہ اگر اسے دست ِ سوال پھیلانا پڑ جاتا ہے تو اس کو بھی اپنا حق سمجھ کر ضرورت پورا ہونے تک استعمال کرے اور اپنی عزت و غیرت میں کمی نہ آنے دے۔
حدیث نمبر: 3517
عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ))، فَقُلْتُ: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((وَمِنِّي))، قَالَ حَكِيمٌ: لَا تَكُونُ يَدِي تَحْتَ يَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 3518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ، فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اس سے نیچے دینے والے کا ہاتھ اور مانگنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔
حدیث نمبر: 3519
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ: ((فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنگال نہ کردو، بلکہ اپنی ذات سے متعلقہ اہم امور کے لیے کچھ سرمایہ بچا کر رکھو، وگرنہ اپنے زیرِ کفالت افراد کی کفالت کرنے سے بھی عاجز آ جاؤ گے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانا پڑے گا۔
حدیث نمبر: 3520
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 3521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ذاتی ضروریات کے بعد ہی صدقہ کیا جائے ، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل اور بہتر ہے اور تم اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کر۔
حدیث نمبر: 3522
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ))، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَؤُلَاءِ بَنُو يَرْبُوعٍ قَتَلَةُ فُلَانٍ، قَالَ: ((أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى))، وَقَالَ أَبِي: قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ: ((يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر ، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دورِ جاہلیت میں قصاص لینے کے لیے قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی بندے کو بھی قتل کر دیتے تھے، لگتا ہے کہ سائل اس قسم کی بات کرنا چاہتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ردّ کر دیا کہ ہر مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔
’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے۔‘‘ اور’’ اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کیا جائے۔‘‘ ان دو جملوں سے مراد وہ خودساختہ پرتکلف زندگی نہیں ہے، جو اس وقت سرمایہ دار اور ان سے متأثر ہونے والے لوگوں کا معیار بن چکیہے، لوگوں کو ان کے مزاجوں نے اس قدر ستا رکھا ہے کہ ان کے گھروں کے اخراجات لاکھوں روپوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن روایت کے مطابق ایک ماہ میں چار پانچ سو یا ایک ہزار روپے کا صدقہ کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف عبادات کی مقدار کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی نظر آئے گی۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے روحانی بیٹے بننے کو اعزاز سمجھیں،جنہوں نے مدینہ منورہ کے غریب مسلمانوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بیس ہزار درہم کا بئر رومہ خریدا تھا، یہ (۵۲۴۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے۔‘‘ اور’’ اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کیا جائے۔‘‘ ان دو جملوں سے مراد وہ خودساختہ پرتکلف زندگی نہیں ہے، جو اس وقت سرمایہ دار اور ان سے متأثر ہونے والے لوگوں کا معیار بن چکیہے، لوگوں کو ان کے مزاجوں نے اس قدر ستا رکھا ہے کہ ان کے گھروں کے اخراجات لاکھوں روپوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن روایت کے مطابق ایک ماہ میں چار پانچ سو یا ایک ہزار روپے کا صدقہ کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف عبادات کی مقدار کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی نظر آئے گی۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے روحانی بیٹے بننے کو اعزاز سمجھیں،جنہوں نے مدینہ منورہ کے غریب مسلمانوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بیس ہزار درہم کا بئر رومہ خریدا تھا، یہ (۵۲۴۰) تولے چاندی بنتی ہے۔