کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3502
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا أَوْ كُدُوشًا فِي وَجْهِهِ))، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا غِنَاهُ؟ قَالَ: ((خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنے سے مستغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے ،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! غِنٰی کی حد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں (۵۰) درہموں کو غِنٰی کی حد قرار دیا گیا ہے، یہ تقریباً (۱۲، ۱۳) تولے چاندی بنتی ہے۔
حدیث نمبر: 3503
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار اور تندرست و توانا کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تند رست آدمی کے لیے اس وقت زکوۃ لینا اور سوال کرنا جائز ہو گا، جب کوشش کے باوجود کوئی کام نہیں مل رہا ہو گا، بہرحال وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذور ہونا چاہیے اور کوئی معیار اس کے سامنے آڑ نہ بننے پائے۔
حدیث نمبر: 3504
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 3505
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو اسد کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک اوقیہ یا اس کے مساوی چیز کا مالک ہو اور وہ سوال کرے تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) اس نے اصرار کے ساتھ اور چمٹ کر سوال کیا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … اصرار کے ساتھ سوال نہ کرنا اچھے لوگوں کی صفت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) …
’’صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘ (۴۰) درہموں کا ایک اوقیہ ہوتا ہے، یہ تقریباً (۱۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
’’صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘ (۴۰) درہموں کا ایک اوقیہ ہوتا ہے، یہ تقریباً (۱۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
حدیث نمبر: 3506
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُّ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ: ((مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ))، قَالَ: فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ مَعِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَةٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو غنی ہونا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جو (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3507
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ الصَّدَقَةَ، قَالَ: فَرَفَعَ فِيهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: ((إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید اللہ بن عدی کہتے ہیں: دو صحابہ نے مجھے بتلایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور صدقہ کا سوال کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کو دیکھنے کے لیے) ان کی طرف نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کی طرف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ دونوں مضبوط اور قوی آدمی ہیں،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں صدقہ میں سے کچھ دے دیتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی مال دار اور کما سکنے والے قوی آدمی کا صدقہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3508
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى، اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ))، قَالُوا: مَا ظَهْرُ غِنَى؟ قَالَ: ((عَشَاءُ لَيْلَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہو، وہ اپنے لئے جہنم کے گرم پتھروں میں اضافہ کرتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: غِنٰی کی مقدار کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کا کھانا۔
حدیث نمبر: 3509
عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بغیر کسی ضرورت کے سوال کرتا ہے، وہ گویا کہ آگ کے انگارے کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3510
عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا فَفَعَلَ وَخَتَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا، فَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ فَقَالَ: ((فِيهِ الَّذِي أَمَرْتُ بِهِ فَقَبَّلَهُ))، وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ وَكَانَ أَحْكَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ آخِرَ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ فَقَالَ: ((أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟)) فَابْتُغِيَ، فَلَمْ يُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ثُمَّ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا وَارْكَبُوهَا سِمَانًا كَالْمُتَسَخِّطِ أَنَفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: ((مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ انصاری صحابی سیدناسہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عینہ اور اقرع دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ (ان کے علاقے کے عامل کے نام) ان کے حق میں کچھ لکھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مہر لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ تحریر ان کے سپرد کر دے۔ عیینہ نے پوچھا کہ اس میں لکھا ہوا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں وہی کچھ لکھا ہوا ہے جس کا میں نے حکم دیا۔ اس نے اس تحریر کا بوسہ لیا اور اس کو اپنی پگڑی میں باندھ لیا، وہ ان میں سے دانا اور عقلمند آدمی تھا۔ اقرع نے کہا: میں نے ایک تحریر اٹھائی ہوئی ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، یہ تو مُتَلَمِّس کے صحیفے کی طرح کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لے گئے، دن کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا، جسے مسجد کے دروازے پر بٹھایا گیا تھا،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے دن کے آخر میں گزرے تو وہ اونٹ اسی جگہ پر اسی طرح بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش تو کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ،جب تم ان پر سوار ہو تو یہ تندرست ہونے چاہئیں، پھر جب تم ان پر سواری کرو تو یہ موٹے تازے ہونے چاہئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ باتیں غصے کی حالت میں ارشاد فرمائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود مانگتا ہے، وہ جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنی چیز اسے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چیز کی اتنی مقدار ہو کہ صبح اور شام کا کھانا بن جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں دو وقت کے کھانے یا اس کی قیمت کو غِنٰی کی مقدار قرار دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3511
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ كَانَتْ شَيْنًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدناثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک چیز سے غنی ہونے کے باوجود (لوگوں سے) اس کا سوال کرتا ہے تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
حدیث نمبر: 3512
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی کا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
حدیث نمبر: 3513
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَلَحَّ عَلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَطْعِمْنِي، يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطِنِي، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْحُجْرَةِ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ فِي الْمَسْأَلَةِ مَا سَأَلَ رَجُلٌ رَجُلًا وَهُوَ يَجِدُ لَيْلَةً تُبِيتُهُ))، فَأَمَرَ لَهُ بِطَعَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک وقت کے کھانے کو سوال نہ کرنے کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3514
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو زیادہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا ہے، وہ دراصل آگ کے انگارے جمع کر رہا ہے، یہ اب اس کی مرضی ہے وہ تھوڑے جمع کر لے یا زیادہ۔
وضاحت:
فوائد: … مقدار کے بارے میں مزید ایک حدیثیہ ہے: مزنی قبیلے کے ایک آدمی کو اس کی ماں نے کہا: کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں جاتا، تاکہ آپ سے کچھ مانگ لائے، جیسا کہ لوگ سوال کرتے رہتے ہیں؟ میں (ان کے کہنے پر) کچھ مانگنے کے لیے چلا گیا، میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے: ((مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَہُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافاً۔)) ’’جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔ (یاد رکھو کہ) جس کے پاس پانچ اوقیے ہوںاور وہ پھر بھی سوال کرے تو اس کا سوال اصرار سے ہو گا۔‘‘ میں نے اپنے دل میں ہی کہا: ہماری اونٹنی پانچ اوقیوں سے تو بہتر ہے اور ایک اونٹنی میرے غلام کی بھی ہے وہ بھی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے۔ اس بنا پر میںلوٹ آیااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سوال نہ کیا۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۳۸، صحیحہ:۲۳۱۴) درج بالا احادیث ِ مبارکہ میں جہاں سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں درج ذیل مختلف پانچ مقداروں کو غِنٰی کی حداور سوال کرنے سے مانع قرار دیا گیا ہے: (۱) … پچاس درہم یعنی (۱۲، ۱۳) تولے چاندی
(۲) … چالیس درہم یعنی (۱۰) تولے چاندی
(۳) … دو وقت کا کھانا
(۴) … ایک وقت کا کھانا
(۵) … پانچ اوقیہ،یعنی (۲۰۰) درہم، جو کہ تقریبا (۵۲) تولے چاندی بنتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوانین علی الاطلاق نہیں ہیں، بلکہ مقید ہیں، مثال کے طور پرجس آدمی کی زندگی کے اخراجات چالیس درہموں کے ساتھ پورے ہو سکتے ہوں، وہ کسی صورت میں سوال نہیں کر سکتا، مثلا ایک مزدور جو روزانہ آٹھ نو درہم کماتا ہے اور اس کے پاس چالیس درہم موجود بھی ہوں تو وہ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ سکتا، اگرچہ بسا اوقات اسے کام نہ ملتا ہو، یہی معاملہ چھابڑی فروشوں اور معمولی درجے کے دوکانداروں کا ہے۔ لیکن ایک آدمی کے پاس رہنے کے لیے گھراور دودھ کے لیے بکری موجود ہے، لیکن ان دو چیزوں سے اس کے گھر کے اخراجات کا سلسلہ تو قطعی طور پر جاری نہیں رہ سکتا، حالانکہ وہ چالیس درہم سے زیادہ مال کا مالک ہے،اس لیے وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جس کی زندگی کا سرکل چالیس درہم یا اس سے کم قیمت کے مال سے چل سکتا ہو، وہ دوسروں کے سامنے دست ِ سوال نہیں پھیلا سکتا۔ مقصودِ شریعتیہ ہے کہ جس آدمی کی آمدن اس کے اور اس کے اہل خانہ کے ضروری اخراجات پورے کر رہی ہو، وہ لوگوں سے سوال نہیں کر سکتا، بصورت ِ دیگر اس کے جواز کی رائے دی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(۲) … چالیس درہم یعنی (۱۰) تولے چاندی
(۳) … دو وقت کا کھانا
(۴) … ایک وقت کا کھانا
(۵) … پانچ اوقیہ،یعنی (۲۰۰) درہم، جو کہ تقریبا (۵۲) تولے چاندی بنتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوانین علی الاطلاق نہیں ہیں، بلکہ مقید ہیں، مثال کے طور پرجس آدمی کی زندگی کے اخراجات چالیس درہموں کے ساتھ پورے ہو سکتے ہوں، وہ کسی صورت میں سوال نہیں کر سکتا، مثلا ایک مزدور جو روزانہ آٹھ نو درہم کماتا ہے اور اس کے پاس چالیس درہم موجود بھی ہوں تو وہ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ سکتا، اگرچہ بسا اوقات اسے کام نہ ملتا ہو، یہی معاملہ چھابڑی فروشوں اور معمولی درجے کے دوکانداروں کا ہے۔ لیکن ایک آدمی کے پاس رہنے کے لیے گھراور دودھ کے لیے بکری موجود ہے، لیکن ان دو چیزوں سے اس کے گھر کے اخراجات کا سلسلہ تو قطعی طور پر جاری نہیں رہ سکتا، حالانکہ وہ چالیس درہم سے زیادہ مال کا مالک ہے،اس لیے وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جس کی زندگی کا سرکل چالیس درہم یا اس سے کم قیمت کے مال سے چل سکتا ہو، وہ دوسروں کے سامنے دست ِ سوال نہیں پھیلا سکتا۔ مقصودِ شریعتیہ ہے کہ جس آدمی کی آمدن اس کے اور اس کے اہل خانہ کے ضروری اخراجات پورے کر رہی ہو، وہ لوگوں سے سوال نہیں کر سکتا، بصورت ِ دیگر اس کے جواز کی رائے دی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔