حدیث نمبر: 3467
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيُسْلِمُ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنَ الدُّنْيَا، فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر محض اس لئے اسلام قبول کرتا کہ اسے کچھ دنیوی مفاد حاصل ہو جائے گا، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے پسندیدہ اور معزز بن چکا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 3468
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَائٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا غَفَّانُ ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ نَاسًا وَتَرَكَ نَاسًا، وَقَالَ جَرِيرٌ أَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا قَالَ: فَبَلَغَهُ عَنِ الَّذِينَ تَرَكَ، أَنَّهُمْ عَتَبُوا وَقَالُوا، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّي أُعْطِي نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا، وَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا))، قَالَ: عَفَّانُ قَالَ: ذِي وَذِي، وَالَّذِينَ أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِينَ أُعْطِي، أُعْطِي نَاسًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ، وَمِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ))، قَالَ: وَكُنْتُ جَالِسًا تِلْقَاءَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تقسیم کے لئے کچھ مال آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا، جن لوگوں کو نہیں دیا گیا، انھوں نے (شکوہ کرتے ہوئے) ناقدانہ کلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی باتوں کا علم بھی ہو گیا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں بعض لوگوں کو مال دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا، اور میں جن کو نہیں دیتا وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جن کودیتا ہوں، میں جن لوگوں میں مال تقسیم کرتا ہوں، ان کی بے صبری اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے کرتا ہوں، اور بعض لوگوں کواس غِنٰی اور خیر کے سپر د کر دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ودیعت رکھی ہوتی ہے، مثال کے طور پر عمرو بن تغلب ہیں (یہ سن کر) سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھاہوا تھا، (مجھے یہ کلمہ اس قدر محبوب لگا کہ) میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے عوض مجھے سرخ اونٹ ملیں۔
وضاحت:
فوائد: … زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف یہ ہے کہ اس مال سے لوگوں کی تالیف ِ قلبی کی جائے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: ایک تو وہ کافر ہے، جو کچھ کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر یہ امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں، جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے، وہ افراد بھی ہیں جن کو امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف ِ قلب کی ہیں، جن پر زکوۃ کیرقم خرچ کی جا سکتی ہے، چاہے مذکورہ افراد مالدار ہی ہوں، احناف کے نزدیکیہمصرف ختم ہو گیا، لیکنیہ بات صحیح نہیں ہے، حالات و ظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔