کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عاملینِ زکوۃ
حدیث نمبر: 3460
عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيْتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أُعْطِيْتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن ساعدی مالکی کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات کا عامل مقرر کیاہے، جب میں نے اس کام سے فارغ ہو کر سارا حساب ان کے حوالے کیا تو انھوں نے حکم دیا کہ مجھے اس خدمت کی اجرت دی جائے۔ لیکن میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے اور میرا اجر بھی اللہ تعالیٰ پر ہے،لیکن انہوں نے کہا: جو چیز تم کو دی جا رہی ہے، اس کو لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اسی طرح کا ایک کام کیا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس عمل کی اجرت دی اورمیں نے تیرے والی بات کہی تو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا: تمہیں جو چیز بن مانگے مل رہی ہو اس کو لے لیا کرو اور خود بھی کھایا کرو اور صدقہ بھی کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، ان کو اس مال میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے، بعض لوگ مساجد و مدارس کے سفیر حضرات پر اس بنا پر سخت طعن کرتے ہیں کہ وہ اسی فنڈ کا کچھ حصہ بطورِ تنخواہ لیتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث کی نصوص سے اس کے لیے رزق کییہ صورت حلال ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3460
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7163، ومسلم: 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 371»
حدیث نمبر: 3461
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ وَلِي لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَيْسَتْ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ہمارے کسی کام کا ذمہ دار بنے تو اگراس کا گھر نہ ہو تو وہ (سرکاری خزانے سے) گھر بنا لے، اگر بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہو تو وہ خادم بھی بنا لے اور اگر اس کی سواری نہ ہو تو سواری بھی بنا لے، اگر کسی نے اس کے علاوہ کوئی چیز لی تو وہ خائن ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3461
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة۔ اخرجه ابوداود: 2945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18178»
حدیث نمبر: 3462
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ((فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: … کہ وہ خائن یا چور ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ ملازم اور مسئول کو جن سہولیات کا حق کسی ادارے کی طرف سے دیا جائے،وہ اس سے استفادہ کر سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں اس کو جس چیز کا حق دیا جائے، اس سے اس کو تجاوز نہیں کرنا چاہیے، وگرنہ حرام کی ملاوٹ ہو جائے گی۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن نشینکرنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کا یہ ماحول ہے کہ اگر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اپنے ملازمین کو موٹر سائیکل، گاڑی، مکان اور دیگر سہولتوں اور بھاری تنخواہوں سے نواز دیں تو ایسے ملازم کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے کمال کی بڑی تعریف کی جاتی ہے، لیکن اگر کسی مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ ان اسلامی اداروں سے متعلقہ کسی آدمی کو اس قسم کی سہولتوں سے مستفید ہونے کا موقع دے دے، تو ہر طرف سے یہی آواز سنائی دیتی ہے کہ اب مولوی لوگ تو بگڑ گئے ہیں، انھوں نے تو خیانتیں شروع کر دی ہیں، لوگوں کی رقم کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں اسی قسم کی ایک مثال گردش کر رہی ہے کہ ایک بڑا ہی معقول اور اسلامی ذہن کا آدمی تھا، لیکن وہ ایک مسجد کے امام پر اس بنا پر سخت طعن کررہا تھا کہ اس کے گھر میں مسجد کا پانی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ وہ مسجد ایک اڈے کے قریب تھی۔ میں نے اس آدمی سے یہ سوال کیا کہ اگر اڈے کے لوگ مسجد کی لیٹرین، غسل خانہ، واٹر کولر، گیزر، بجلی اور سونے کے لیے صفیں تک استعمال کریںتو اس کے بارے میں جناب کی کیا رائے ہو گی، جبکہ ان میں سے بعض لوگ بے نمازی بھی ہیں؟ اس نے فوراً کہا کہ ان کے لیےیہ جائز ہے کیونکہ انتظامیہ نے اجازت دے رکھی ہے۔ عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ انصاف کی عینک لگائیں اور اعتراض برائے اعتراض کی عادت چھوڑ دیں، شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خطیب، امام، مدیر، استاذ، خادم اور ان اداروں سے متعلقہ دوسرے افراد کو مختلف سہولتوں سے نوازے اور ان کو ایسا کرنا بھی چاہیے تاکہ یہ لوگ بھی احساس کمتری سے محفوظ رہ کر معاشرے کے تقاضے پورے کر سکیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3462
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18180»
حدیث نمبر: 3463
عَنْ أَبِي مَوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا، طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس دیانت دار خزانچی کو جو حکم دیا جائے، اگر وہ اسی کے مطابق اور نفس کی خوشی کے ساتھ پوری طرح اس شخص کو دے دے، جس کا اسے کہا گیا تھا، تو وہ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … خزانچی لوگوں کو چاہیے کہ وہ ’’مدعی سست اور گواہ چست‘‘ والا معاملہ نہ کریں، بلکہ مالکان کی طرف خیر و بھلائی کے امور میں خرچ کرنے کا ان کو جو حکم دیا جائے وہ اس پر عمل گزریں اور ان کی خوشامد کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو بڑا خیرخواہ ثابت کرنے کے لیے ان کو بخل کی تجویز نہ دیں۔
ایک اصل صاحب مال اور دوسرا خزانچی۔ گویا اگرچہ خزانچی اپنی جیب سے مال نہیں خرچ کر رہا، لیکن خوش دلی سے اور مالک کی ہدایات کے مطابق مال دینے کی وجہ سے صاحب مال کی طرح اجر وثواب کا حق دار ہے۔ یہ معنی اس وقت ہے جب ’’المتصدقین‘‘ پڑھا جائے اگر جمع کا لفظ ہو (المتصدقین) تو معنی ہوگا وہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک صدقہ کرنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3463
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1438، 3219، ومسلم: 1023، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19741»
حدیث نمبر: 3464
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ نَأْكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَذِنَ لَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ کی وصولی کے لئے روانہ کیا، جب میں نے صدقہ کے مال میں سے کچھ کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال صدقہ و زکوۃ کا عامل اور ساعی کو اسی مال میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3464
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17442»
حدیث نمبر: 3465
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطُوا الْعَامِلَ مِنْ عَمَلِهِ فَإِنَّ عَامِلَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عامل کو اس کے کام او رمحنت میں سے دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کام کرنے والامحروم نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3465
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8604م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8589»
حدیث نمبر: 3466
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْعَامِلُ فِي الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنارافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صدقات کی وصولی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث ِ مبارکہ میں جس عامل کی تعریف کر رہے ہیں، عصر حاضر میں ایسے لوگوں کا فقدان ہے اور بہت سارے ملازمین اپنے حق میںیا تو شرعی مسائل سے غافل ہیںیا پھر اپنے اور اپنی اولاد کے حق میں ظالم ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، ھذا الاسناد منقطع، لكنه جاء متصلا ايضا في الرواية الآتية في المسند: 4/ 143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15920»