حدیث نمبر: 3453
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ الْمِسْكِينُ هَذَا الطَّوَّافُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَيَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے مانگنے کے لیے چکر لگاتا رہتا ہے اور ایک دو دو لقمے یا ایک دو دو کھجوریں لے کر واپس آ جاتا ہے،بلکہ دراصل مسکین وہ ہوتا ہے جو اپنی جائز ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو اور لوگوں سے مانگنے میں جھجک محسوس کرتا ہو اور اس کی (اس صفت کی وجہ سے اس کی مسکنت) کو سمجھا بھی نہیں جاتا کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 3454
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ، أَوِ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ شَيْئًا وَلَا يُفْطَنُ بِمَكَانِهِ فَيُعْطَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک دو دو لقمے یا کھجوریں واپس کر دیتی ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود) کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس (کی ضرورت کو) سمجھا جاتا ہے کہ اسے کچھ دے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 3455
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالُوا: فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِهِ فَيُصَدَّقَ عَلَيْهِ))، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَذَلِكَ هُوَ الْمَحْرُومُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مسکین کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ ہے جو نہ اپنی جائز ضروریات پوری کر سکتا ہو اور نہ لوگوں کو اس کی حاجت کا پتہ چل سکتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔ امام زہری کہتے ہیں: اسی کو محروم کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … امام زہری کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے: {فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۔ لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ} … ’ ’ان کے مالوں میں مقرر حق ہے، سائل اور محروم کے لیے۔‘‘
حدیث نمبر: 3456
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ أَوِ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ، اقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک دو دو کھجوریں اور لقمے واپس کر دیں، مسکین تو صرف اور صرف وہ ہے جو (لوگوں سے) سوال کرنے سے بچے، اگر تم چاہتے ہوتو یہ آیت پڑھ لو: وہ لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) … ’’صدقات کے مستحق صرف وہ غربا ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 3457
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ عَلَيْكُمْ أَنْ تُطْعِمُوهُ لُقْمَةً لُقْمَةً إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (پانچویں سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی مسکین نہیں جو تم پر اس لیے چکر لگاتا ہے کہ تم اس کو ایک ایک لقمہ کھلا دو، مسکین تو صرف وہ ہے جو ایسا پاکدامن ہے کہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 3458
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’نہ گھومنے والا مسکین ہے اور نہ وہ مسکین ہے جس کو ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے واپس کر دیں، بلکہ مسکین تو بچنے والا ہے، یعنی جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس کی مسکینی کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔‘‘
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔
حدیث نمبر: 3459
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ؟)) فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَشْتَرِي هَذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، فَقَالَ: ((مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟)) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ: ((هُمَا لَكَ))، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِي دَمٍ مُوْجِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابی داود کی روایت میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اِن دو درہموں کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک درہم کا کھانے خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دے اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر لائے، اس نے ایسا ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دستہ ڈالا اور اسے فرمایا: ’’جا اور لکڑیاں کاٹ کر بیچنا شروع کر دے اور میں تجھے پندرہ دن نہ دیکھنے پاؤں۔‘‘ وہ چلا گیا اور ان ہدایات کے مطابق کام کرتا رہا، جب وہ واپس آیا تو وہ دس درہموں کا مالک بن چکا تھا، پھر اس نے بعض درہموں سے کپڑے خریدے اور بعض سے کھانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کییہ صورتحال دیکھ کر فرمایا: ’’یہ کام تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تو اس حال میں آتا کہ لوگوں سے مانگنے کا نکتہ اور نشان تیری چہرے پر ہوتا، سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: …۔‘‘ ’’کسی مقتول کی دیت ادا کرنے والا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی آدمییہذمہ داری اٹھا لیتا ہے کہ وہ قاتل کی طرف سے مقتول کی دیت اس کے لواحقین کو ادا کرے گا، لیکن بعد میں اس کا اہتمام کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہتی، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے۔ اِس اور اِس موضوع کی دیگر شرعی نصوص کا تقاضا یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوال کرنا ناجائز ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت اس سے گریز کرے، احادیث ِ مبارکہ اس میں بھیک مانگنے کی بڑی مذمت کی گئی ہے، الا یہ کہ کسی کی شرعی مجبوری ہو، لیکن ایسے مجبور کو بار بار سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر مقبول ہو گا۔