کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3439
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے اپنے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ ساعی اور عامل کو زکوۃ لینے کے لیے مالک کے مقام پر جانے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اور اسی میں مالکوں کے لیے آسانی اور سہولت ہے۔
حدیث نمبر: 3440
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب ، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مقصود وہی مسئلہ بیان کرنا ہے، جو حدیث نمبر (۳۴۳۹)میں بیان ہو چکا ہے، مشکل الفاظ کی وضاحت اس طرح ہے: ’’لَا جَلَب‘‘:اس کا مفہوم یہ ہے کہ جانوروں کو صدقہ لینے والے کی طرف نہ لایا جائے، بلکہ عامل کو چاہیے کہ جانوروں کے محل کی طرف جائے۔
’’لَا جَنَب‘‘:اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
’’لَا جَنَب‘‘:اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
حدیث نمبر: 3441
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: ((كَذَا وَكَذَا))، قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ، قَالَ: فَنَظَرُوا فَوَجَدُوا هُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((فَكَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاملین، عدل و انصاف اور حکم نبوی کے پابند تھے، ماپ تول کی وجہ سے ایک صاع کی کمی بیشی کا فرق آ سکتا ہے، یقینا اتنی مقدار کو زیادتی نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنے والے امراء کے بارے میں جو پیشین گوئی کی ہے، وہ تو اس طرح پوری ہوئی کہ حکمران طبقے نے واضح طور پر ناجائز صورتوں کے ذریعے عوام کا روپیہ پیسہ بٹورنا شروع کر دیا اور ٹیکسوں اور دوسرے مختلف ناموں کے ذریعے اپنے رعایا کے مال و دولت کے ساتھ برا سلوک کیا۔