کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے،¤لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
حدیث نمبر: 3436
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ صَدَقَةً فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، وَقَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، ثُمَّ قَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْرَجَ الصَّدَقَةَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى سَارِقٍ وَعَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ، قَالَ فَأُتِيَ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا يَعْنِي أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ، وَأَمَّا السَّارِقُ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَغْنِيَ بِهِ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا:میں آج رات کو ضرور صدقہ کروں گا، پس وہ صدقہ لے کر نکلا اور (لاعلمی میں) ایک زانی عورت کو دے آیا، صبح کو لوگوں نے یہ بات کہنا شروع کر دی کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا،اس نے دوبارہ فیصلہ کیا کہ وہ آج رات ضرور صدقہ کرے گا (تاکہ کسی حقدار تک پہنچ سکے۔) چنانچہ اس نے صدقہ تو نکالا، لیکن لاعلمی میں ایک چور کو دے آیا، جب صبح ہوئی تو لوگ یہ کہنے لگے کہ آج رات ایک چور کو صدقہ دے دیا گیا، اس نے پھر سوچا کہ وہ آج رات پھر صدقہ کرے گا۔ چنانچہ وہ صدقہ لے کر گیا اور لاعلمی میں ایک دولت مند کو دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے کہا: آج رات ایک دولت مند کو صدقہ دیا گیا۔ اس نے کہا: ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، چور پر، زانی عورت پر اور غنی پر صدقہ کر دیا۔ پھر کسی نے آکر اسے بتایا (ممکن ہے اسے خواب میں یہ کہا گیا ہو) تیرا صدقہ قبول ہو گیا ہے، زانیہ کو صدقہ دینے سے ممکن ہے کہ وہ پاکدامن بن جائے، اسی طرح ممکن ہے کہ چور چوری سے رک جائے اور غنی سبق حاصل کرلے اور اللہ تعالیٰ کے دیئے میں سے خرچ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب صدقہ کرنے والے کی نیت خالص ہو تو اس کا صدقہ قبول ہو جائے گا، اگرچہ وہ اپنے محل تک نہ پہنچ پائے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: (اس حدیث میں اِن امور کا بیان ہے:) مخفی صدقے کی فضیلت، اخلاص کی فضیلت، جہالت کی وجہ سے صدقے کا مصرف ٹھیک نہ ہو تو دوبارہ صدقہ کرنے کا استحباب، ظاہری حالات کو دیکھ کر حکم لگانا، الّا یہ کہ اس کے الٹ ثابت ہو جائے۔ (فتح الباری: ۳/۳۷۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3436
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1421، ومسلم: 1022 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8265»