کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3429
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ، قَالَ: ((ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر کے امور سرانجام دینے میں جلدی کرنی چاہیے، اس طرح سے بندہ پہلی فرصت میں اپنی ذمہ داری سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے، دوسروں کی ضرورت جلدی پوری ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ کے ٹال مٹول سے بھی انسان محفوظ رہ جاتا ہے اور آفات اور موانع کے درپے ہو جانے کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3430
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا فرض ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوۃ وقت سے پہلے ادا کی جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 3431
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا))، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا، انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتلایا کہ سیدنا ابن جمیل، سیدنا خالد بن ولید اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدناعباس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل نے تو انکار نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ پہلے تنگ دست تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، البتہ تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر زیادتی کرتے ہو، اس نے تواپنی زرہیں اور (سارا جنگی سامان) اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، اور رہا مسئلہ عباس رضی اللہ عنہ کا تو ان کے حصے کی زکوۃ، بلکہ ایک گنا مزید مجھ پر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ انسان کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین افراد کے بارے میں یہ شکایت کی کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں جو جوابات دیئے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن جمیل رضی اللہ عنہ نے نعمت کی قدر نہیں کی اور احسان کے مقابلے میں انھوں نے اچھا کردار پیش نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف سیدنا ابن جمیل رضی اللہ عنہ کی مذمت کرنے پر اکتفا کیوں کیا اور عملاً ان سے زکوۃ وصول کیوں نہیں کی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے متعلقہ یہ بات سن کر خود باز آ گئے ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ رہا مسئلہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تو ان کے بارے میں راجح قول کے مطابق دو تاویلوں کا امکان ہے: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ذمہ داری قبول کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، لیکن اب میں اس کی ضمانت دیتا ہوں، کیونکہ وہ میرے چچا ہیں اور چچا باپ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ضرورت کی وجہ سے سیدناعباس رضی اللہ عنہ سے وقت سے پہلے دو سالوں کی زکوۃ لے لی تھی، لیکن اس تاویل پر دلالت کرنے والی جتنی احادیث ہیں، ان میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی ضعف پایا جاتا ہے، اگر تمام سندوں کے مجموعہ کو دیکھا جائے تو دوسری تاویل قوی معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے فتح الباری: ۳ /۴۲۶کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شکایت کے مطابق سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زکوۃ ادا نہ کرنا، اس کی بھی دو تاویلیں ہو سکتی ہیں: (۱) سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی زکوۃ کی قیمت سے جہاد کیلئے اسلحہ اور دوسرے آلاتِ حرب خرید لیے تھے، جہاد بھی مصارف ِ زکوۃ میں سے ہے، اور اس ضمن میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی ہو گی کہ وہ زکوۃ کے معاملے میں اپنا حساب کتاب خود کر لیا کریں گے۔ (۲) سرے سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اللہ کے راستے میں وقف کر رکھا تھا، لیکن زکوۃ لینے والوں کو اس چیز کا علم نہیں تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 3432
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ وَضَيْعَتِكَ وَتِجَارَتِكَ فَهُوَ لَكَ، فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ أَنْتَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ لِي: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا، فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: أَجَلْ وَاللَّهِ! لَأَخْرُجَنَّ مِنْهُ أَتَذَكَّرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ، فَقُلْتَ لِي: انْطَلِقْ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا هُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَكَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ))، وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ خُثُوئِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَالَّذِي رَأَيْنَا مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ، فَكَانَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُوئِي لَهُ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا غَدًا، فَذَلِكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَدَقْتَ وَاللَّهِ، لَا أَشْكُرَنَّ لَكَ الْأُوْلَى وَالْآخِرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: (صدقہ کا) جو مال ہمارے پاس بچ گیا ہے، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو آپ کے اہل و عیال، کاروبار اور تجارت سے مصروف کر دیا ہے، اس لیےیہ مال آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے مجھ (علی) سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: لوگ آپ کو ایک چیز کا اشارہ کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: آپ بھی کچھ کہو۔ میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟انہوں نے کہا: تمہیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، وضاحت سے عرض کرتا ہوں، کیا آپ کو یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، جب آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اورآپ کے اور ان کے درمیان چپقلش بھی ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک چلو۔ پس ہم گئے لیکن جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان حال دیکھا تو ہم واپس لوٹ گئے،جب ہم دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ کو ہم نے مطمئن اور خوش گوارپایا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدناعباس رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چچا والد کی ہی مانند ہوتا ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے دن کی پریشانی اور دوسرے دن کی خوشگواری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم کل میرے پاس آئے تھے تو اس وقت میرے پاس صدقہ کے دو دینار بچے ہوئے تھے، میں ان کی وجہ سے پریشان تھا، جبکہ آج صبح ہی میں ان کو تقسیم کر چکا تھا، اس لیے تمہاری آمد پر خوش گوار اور مطمئن لگ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے بالکل درست کہا، میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نظریہیہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اس وقت تک انشراحِ صدر نہیں ہوا تھا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو دینار باقی تھے، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھییہی زیب دیتا تھا کہ وہ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔‘‘ اس قول میں ’’اول‘‘ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ بقیہ مال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی اپنے پاس رکھ لیں اور ’’آخر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دلیل بیان کرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو دیناروں والی بات یاد کرا دی۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئول لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا اندازہ لگا لینا چاہیے، چہ جائیکہ وہ ایسی امانتوں کو ذاتی جائیداد کی طرح ہڑپ کر جائیں۔
حدیث نمبر: 3433
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنِّي، لَيْسَ شَيْءًا أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ سے قبول کرنے والے مستحق لوگ بھی دستیاب ہوں تو میں چاہوں گا کہ تین راتوں سے پہلے پہلے وہ سارا خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، ما سوائے اس کے کہ میں جس کو اپنا قرضہ اتارنے کے لئے بچا رکھوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں خیر و بھلائی کے امور میں پہلی فرصت میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3434
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ: ((اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ))، وَإِنَّ أَبِي أَتَاهُ بِصَدَقَةِ فَقَالَ: ((اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں یوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
حدیث نمبر: 3435
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَوْفَى يَقُولُ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ: ((اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی صدقہ اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرے تو وصول کرنے والے کو اس کے حق میں رحمت و برکت کی دعا کرنی چاہئے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔