حدیث نمبر: 3425
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ، يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً لِيَسْتَطِيبَ بِهَا فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ: زِنْهَا فَوَزَنَهَا، فَإِذَا مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَذَا رِكَازٌ، وَفِيهِ الْخُمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لئے ایک ویرانے کی طرف گیا، جب اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو اسے وہاں سے سونے کی ایک ڈلی ملی،اس نے وہ اٹھا لی اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلا دی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا وزن کرو۔ اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کی ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رکاز ہے اور اس میں خُمُس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … رِکاز کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے: جمہور، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس سے مراد دورِ جاہلیت کا زمین میں مدفون خزانہ ہے، جو بغیر کسی محنت و مشقت کے حاصل ہو جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام ثوری کے نزدیک اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا زمین میں پیدا کیا ہوا اصلی حالت میں معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ ابن اثیر اور صاحب قاموس نے رکاز کے یہ دونوں معانی ذکر کیے ہیں، ظاہر بات ہے کہ کسی ایک معنی کا تعین کرنا ضروری ہے۔ جمہور کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ شیخ البانی نے کہا: لغت میں دونوں معنے مراد ہیں، لیکن شرعا صرف جاہلیت کا دفینہ مراد ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ (تمام المنۃ: ص ۳۷۶) تیسرے نمبر پر آنے والی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کییہ حدیث اور اس کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث نمبر: 3426
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 3427
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رِکاز میں پانچواں حصہ زکوٰۃ کا فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 3428
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((الْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے اگر کسی آدمی کو کسی کے کنویں، کان اور چوپائے سے کوئی نقصان پہنچ جائے، جبکہ اصل مالک کا اس میں کوئی دخل نہ ہو، تو وہ مالک اس کے نقصان سے بری ہو گا۔
صحیح بخاری کی حدیث (۱۴۹۹) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔))
اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے کہ رکاز اور کان میں فرق ہے، شارح ابوداود امام عظیم آبادی کہتے ہیں: نبی کریم کے الفاظ ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ‘‘ (کان ضائع ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔) میں ’’اَلْمَعْدِنُ‘‘ پر ’’اَلرِّکَاز‘‘ کا عطف ڈالا گیا اور دونوں کا علیحدہ علیحدہ حکم بیان کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کان، رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف اور متغایر چیزیں ہیں۔ اگر کان، رکاز ہی ہوتی تو حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یوں ہوتے: ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِیْہِ الْخُمْسُ‘‘۔ لیکن چونکہ یہ الفاظ نہیں کہے گئے، اس لیے اس سے یہ ظاہر ہوا کہ رکاز اور کان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واؤ عاطفہ کے ذریعے کان اور رکاز میں فرق کرنا، اس میں جمہور کے حق میں دلیل پائی جاتی ہے، سو ثابت ہوا کہ کان اور چیز ہے اور رکاز اور چیز ہے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۹۷)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رکاز میںپانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ رہا مسئلہ کان کا، تو اس کے بارے میں کسی صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی خاص حکم نہیں ہے، جو چیز کان سے نکلے گی، اس کو دیکھ کر اس کی زکوۃ کافیصلہ کیا جائے، لیکن اس پر ایک سال کے گزر جانے کی شرط بھی ہو گی۔
صحیح بخاری کی حدیث (۱۴۹۹) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔))
اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے کہ رکاز اور کان میں فرق ہے، شارح ابوداود امام عظیم آبادی کہتے ہیں: نبی کریم کے الفاظ ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ‘‘ (کان ضائع ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔) میں ’’اَلْمَعْدِنُ‘‘ پر ’’اَلرِّکَاز‘‘ کا عطف ڈالا گیا اور دونوں کا علیحدہ علیحدہ حکم بیان کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کان، رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف اور متغایر چیزیں ہیں۔ اگر کان، رکاز ہی ہوتی تو حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یوں ہوتے: ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِیْہِ الْخُمْسُ‘‘۔ لیکن چونکہ یہ الفاظ نہیں کہے گئے، اس لیے اس سے یہ ظاہر ہوا کہ رکاز اور کان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واؤ عاطفہ کے ذریعے کان اور رکاز میں فرق کرنا، اس میں جمہور کے حق میں دلیل پائی جاتی ہے، سو ثابت ہوا کہ کان اور چیز ہے اور رکاز اور چیز ہے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۹۷)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رکاز میںپانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ رہا مسئلہ کان کا، تو اس کے بارے میں کسی صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی خاص حکم نہیں ہے، جو چیز کان سے نکلے گی، اس کو دیکھ کر اس کی زکوۃ کافیصلہ کیا جائے، لیکن اس پر ایک سال کے گزر جانے کی شرط بھی ہو گی۔