حدیث نمبر: 3423
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَانِ فِي أَيْدِيهِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ؟))، قَالَتَا: لَا، قَالَ: ((فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا الَّذِي فِي أَيْدِيْكُمَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتیں نبی کریم کی خدمت حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، رسول اللہ نے ان سے پوچھا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس زیور کا حق (زکوۃ) ادا کیا کرو جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔
حدیث نمبر: 3424
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَنَا: ((أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ؟))، قَالَتْ: فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: ((أَمَا تَخَافَانِ أَنْ يُسَوِّرَ كُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ، أَدِّيَا زَكَاةَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہے: میں اور میری خالہ ہم دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ ہم نے سونے کے کنگن بھی پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم اس زیور کی زکوٰۃ ادا کیا کرتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے عوض آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: ہم سیدہ زوجۂ رسول عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چاندی کی بڑی بڑی انگوٹھیاں دیکھ کر فرمایا: ’’عائشہ! یہ کیا ہیں؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ تیار کیےہیں، تاکہ آپ کے لیے زینت اختیار کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر تجھے جہنم کے لیےیہی چیز کافی ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۵۶۵) اس باب کی دوسری حدیث بھی اِن شواہد کی روشنی میں قابل حجت معلوم ہوتی ہے، سونے اور چاندی کی زکوۃ کے نصاب اور شرح پر پہلے بحث ہو چکی ہے، اصل معیار وہی نصاب اور شرح ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سونا اور چاندی ڈلی کی صورت میںپڑا ہو یا زیورات میں ڈھلا ہوا ہو، وہ استعمال کیا جا رہا ہو یا نہ کیا جا رہا ہو۔ واضح رہے کہ زکوٰۃ صرف سونے اور چاندی کے زیورات پر واجب ہے، ان کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں اور پتھروں کے بنے ہوئے زیورات پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہو۔