حدیث نمبر: 3418
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ، حِينَ يَطِيبُ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَوَّلَ الثَّمَرِ) قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يَخَيِّرُونَ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سید عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: جب وہاں کی کھجوریں تیار ہو جاتیں، لیکن ابھی تک کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجتے تاکہ وہ وہاں جا کرکھجوروں کی فصل کا اندازہ لگائیں، وہ اندازہ لگا کر ان کو اختیار دے دیتے کہ وہ یا تو اس لگائے ہوئے اندا زے کے مطابق کھجوریں لے لیں اور فصل چھوڑ دیں یا اس اندازہ کے حساب سے حصہ ادا کریں،نبی کریم کا یہ حکم اس وجہ سے تھا کہ کھجوروں کو کھانے اور تقسیم کرنے سے پہلے پہلے ہی ان کی مقدار کا اندازہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3419
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجوروں کا اندازہ چالیس ہزار وسق کی صورت میں لگایا، پھر جب انھوں نے یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل کو اپنے حق میں ترجیح دی اور بیس ہزار وسق کھجور ادا کرنا ان کے ذمےّ ٹھہرا۔
حدیث نمبر: 3420
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا، فَقَالُوا هَذَا الْحَقُّ، بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ وہاں جا کر کھجور کی فصل کا اندازہ لگائیں، انہوں نے فصل کا اندازہ لگانے کے بعد انہیں اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کر لیں یا چاہیں توردّ کر دیں، لیکن انھوں نے (یہ فیصلہ سن کر)کہا: یہی فیصلہ حق ہے اور اسی کی بدولت آسمان و زمین قائم ہیں۔
حدیث نمبر: 3421
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَجُذُّوا أَوْ تَدَعُوا فَدَعُوا الرُّبُعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فصل کا اندازہ کر لو تو اس کے کٹنے کے بعد (زکوۃ کی یہ مقدار وصول کرو، لیکن) ایک تہائی چھوڑ دو، اگر تم اتنا نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی چھوڑ دو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل کا اندازہ لگانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں شافعی اور احمد کے نزدیک ان فصلوں کا اندازہ لگانا مستحب ہے۔ مالک، شریح اور ابو جعفر اور بعض ظاہریہ کے نزدیکیہ واجب ہے۔ نودی نے کہا ہے کہ کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل جن میں عشر و اجب ہوتا ہے۔ ان میں فصل کا اندازہ کر لینا مستحب ہے۔ اس باب میں زمیندار لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت آمیز رخصت کا بیان ہے اور وہ یہ کہ حکومت کے نمائندے فصل تیار ہو چکنے کے بعد فصل کا اندازہ لگائیں اور پھر دسویںیا بیسویں حصے کی روشنی میں زمیندار کے لیے زکوۃ کی کل مقدار کا تعین کر دیں، اس طرح سے زمیندار لوگ ساری فصل کے باریک اور مجموعی حساب سے محفوظ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کئی فصلیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ مقدار جانوروں کو کھلا دی جاتی ہیں، کچھ مقدار مالک اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے، کچھ مقدار موچی اور حجام لوگوں کو دے دی جاتی ہے اور کچھ مقدار تاجروں کو فروخت کر دی جاتی ہے۔