حدیث نمبر: 3408
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی کو) آسمان اور چشمے سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
حدیث نمبر: 3409
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ وَفِيمَا سَقَتِ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس زمین کو نہریں اور بادل سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہمارے ہاں عام طور پر فصلوں کی زکوۃ کو زکوۃ نہیں کہا جاتا، بلکہ ’’عشر‘‘ کہا جاتا ہے، حالانکہ ’’عشر‘‘ اور ’’نصف العشر‘‘ یعنی دسویں اور بیسویں حصے میں زکوۃ کی مقدار بیان کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ فَفِيهِ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ))، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَحَدَّثْتُ أَبِي بِحَدِيثِ عُثْمَانَ عَنْ جَرِيرٍ فَأَنْكَرَهُ جِدًّا وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِهِ عِنْدَهُ وَإِنْكَارِهِ لِحَدِيثِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی) کو آسمان سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو ڈول اور اونٹ سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تینوں احادیث اس اعتبار سے انتہائی قابل غور ہیں کہ آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ نہری علاقے کی فصل کا بیسواں حصہ اور بارانی علاقے کی فصل کا دسواں حصہ زکوۃ میں دیا جائے۔ لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چشموں اور نہروں اور دریاؤں سے سیراب ہونے والی فصلوں کی شرح زکوۃ بھی دسواں حصہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دسویں اور بیسویں حصے کا دارومدار فصلوں کو پانی پلانے کیلئے کی گئی محنت پر ہے اگر آبپاشی کے لیے چرخی اور رہٹ استعمال کیا جائے یابالٹی سے پانی نکالا جائے یا سواریوں پر پانی لاد کر فصلوں کو سیراب کیا جائے، تو ایسی فصل کا بیسواں حصہ زکوۃ میں ادا کیا جائے گا۔ اگر ٹیوب ویلیا ٹربائن وغیرہ کو استعمال کیا جائے یا مزدوروں کے ذریعے زمین کو سیراب کیا جائے تو اس کا بھی بیسویں حصے والا معاملہ ہو گا، کیونکہیہ محنت کا متبادل ہیں، جسے پیسہ خرچ کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔
اب اگر کوئی زمین کسی نہر یا چشمے کے اتنے قریب ہے کہ پانی حاصل کرنے کے لیے کوئی بڑی محنت نہیں کرنا پڑتی، بلکہ زمیندار کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کو اپنی زمین میں پھیر لے، تو ایسے زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ مذکورہ بالا احادیثمیں جن نہروں اور چشموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے زمین کو سیراب کرنے کے لیے بھی اتنی محنت تو کرنی پڑتی ہے، یہاں اس امر کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ زمیندار لوگ نہری پانی کے عوض میں جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کی مقدار اتنی معمولی ہوتی ہے کہ زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے کے ساتھ اس کا تعلق نہیں جوڑا جا سکتا، مثلا ۲۰۱۲ءمیں مجھے ایک زمیندار نے بتایا کہ وہ ایک سال میں پچاس روپے فی ایکڑ نہر کا معاملہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی زمین، نہر سے اتنی دور ہے کہ اس سے زمین تک پانی پہنچانے کے لیے کھالوں وغیرہ کی تیاری کی صورت میں بڑی محنت درکار ہے تو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کیا جائے گا۔مشینری، کھاد، سپرے، ملازموں یا موچیوں اور حجاموں کی اجرتوں وغیرہ جیسی سہولیات اور امور کا زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔
اب اگر کوئی زمین کسی نہر یا چشمے کے اتنے قریب ہے کہ پانی حاصل کرنے کے لیے کوئی بڑی محنت نہیں کرنا پڑتی، بلکہ زمیندار کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کو اپنی زمین میں پھیر لے، تو ایسے زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ مذکورہ بالا احادیثمیں جن نہروں اور چشموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے زمین کو سیراب کرنے کے لیے بھی اتنی محنت تو کرنی پڑتی ہے، یہاں اس امر کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ زمیندار لوگ نہری پانی کے عوض میں جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کی مقدار اتنی معمولی ہوتی ہے کہ زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے کے ساتھ اس کا تعلق نہیں جوڑا جا سکتا، مثلا ۲۰۱۲ءمیں مجھے ایک زمیندار نے بتایا کہ وہ ایک سال میں پچاس روپے فی ایکڑ نہر کا معاملہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی زمین، نہر سے اتنی دور ہے کہ اس سے زمین تک پانی پہنچانے کے لیے کھالوں وغیرہ کی تیاری کی صورت میں بڑی محنت درکار ہے تو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کیا جائے گا۔مشینری، کھاد، سپرے، ملازموں یا موچیوں اور حجاموں کی اجرتوں وغیرہ جیسی سہولیات اور امور کا زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3411
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر، پانچ اوقیوں سے کم (چاندی) پر اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
حدیث نمبر: 3412
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کھجور اور اناج پر زکوۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3413
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3414
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ مہرزدہ صاع کا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: اس صاع کے اوپر والے حصے پر امراء کی طرف سے مہر لگائی جاتی تھی، تاکہ اس کی مقدار کو کم یا زیادہ نہ کر دیا جائے۔ زمین سے فصلیں پیدا کرکے انسان کو رزق مہیا کرنا اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا بدلہ یوں طلب کیا ہے کہ زرعی پیدا وار کا دسواںیا بیسواں حصہ بطورِ زکوۃ اس کی راہ میں دیا جائے، جو پیدا ہونے والی کل فصل کے مقابلے میں انتہائی کم مقدار ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فصل میں زکوۃ کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وسق ہو، اس کو نصابِ زکوۃ کہتے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں، اس طرح پانچ اوساق کی کل مقدار (۳۰۰)صاع ہوگئی، جبکہ ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق کا کل وزن پندرہ من اورتیس کلو گرام بن جاتا ہے، معلوم ہوا کہ فصلوں کا نصابِ زکوۃ (۱۵) من اور (۳۰) کلو گرام ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فصل میں زکوۃ کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وسق ہو، اس کو نصابِ زکوۃ کہتے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں، اس طرح پانچ اوساق کی کل مقدار (۳۰۰)صاع ہوگئی، جبکہ ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق کا کل وزن پندرہ من اورتیس کلو گرام بن جاتا ہے، معلوم ہوا کہ فصلوں کا نصابِ زکوۃ (۱۵) من اور (۳۰) کلو گرام ہے۔
حدیث نمبر: 3415
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَهْلِ هَجَرَ شَكَّ أَبُو حَمْزَةَ قَالَ: كُنْتُ آتِي الْحَائِطَ، يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ فَيُسْلِمُ أَحَدُهُمْ فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْآخَرِ الْخَرَاجَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بحرین یا ہجر کی طرف بھیجا تھا، میں جب ایسے باغ میں جاتا، جو مختلف بھائیوں کا ہوتا اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا تو مسلمان سے دسواں حصہ زکوۃ لیتا اور دوسروں سے خراج وصول کرتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: خراج: وہ جزیہ جو ذمیوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن ذمی لوگوں سے جزیہ وصول کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے، اس کی ماہانہ یا سالانہ مقدار کا فیصلہ حاکمِ وقت کرے گا، ویسے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَمَرَہٗاَنْیَّاْخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِیْنَارًا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار وصول کریں)۔ (ابوداود: ۳۰۳۸، ترمذی: ۶۲۳، نسائی: ۵/ ۲۶، ابن ماجہ: ۱۸۰۳)
ایک دینار ساڑھے چار (4) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
ایک دینار ساڑھے چار (4) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 3416
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ، يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص دس وسق کھجور کاٹ لے، وہ مسجد میں مساکین کے لیے ایک خوشہ لٹکا دے۔
وضاحت:
فوائد: امام ابوداود نے اس حدیث کو ’’باب فی حقوق المال‘‘ میں ذکر کیا ہے، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس حدیث کا تعلق زکوۃ سے نہیں ہے، بلکہ نفلی صدقہ سے ہے، اس لیے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں دوسروں لوگوں کے حقوق موجود ہیں۔
حدیث نمبر: 3417
عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ کی ایک تحریر ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف گندم، جو، منقیٰ اور کھجور سے زکوۃ وصول کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نصابِ زکوۃ اور شرحِ زکوۃ کے تعین کے بعد وہ کون کون سی فصلیں ہیں، جن پر زکوۃ عائد ہوتی ہے یا جو زکوۃسے مستثنی ہیں، اس مسئلہ ہم درج ذیل بحث کرتے ہیں: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ،قَالَ: إِنَّمَا سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الزَّکَاۃَ فِی ھٰذِہِ الْأَرْبَعَۃِ: الْحِنْطَۃِ، وَالشَّعِیْرِ، وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار اصناف میں زکوۃ نافذ کی: گندم، جو، منقی اور کھجور۔ (الدارقطني:۲۰۱، صحیحہ: ۸۷۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سندی حیثیت پر درج ذیل بحث کی ہے: یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند میں محمد بن عبید اللہ عزرمی ’’متروک‘‘ ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے، جسے امام دار قطنیؒ اور امام حاکم نے روایت کیا کہ موسی بن طلحہ نے کہا: عِنْدَناَ کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہٗاَنَّمَااَخَذَالصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندم اور … سے زکوۃ وصول کی ہے۔ امام حاکم نے کہا: موسی بن طلحہ عظیم تابعی ہیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے زمانے کو ان کے پانے کا انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن ابن عبد البر نے کہا کہ موسی بن طلحہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نہ ملے ہیں اور نہ ان کو پایا ہے۔
لیکن امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اس کا یہ شاہد ذکر کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَاْخُذُوا اِلاَّ مِنْ ھٰذِہِ الْاَرْبَعۃِ …)) صرف ان چار اصناف میں زکوۃ وصول کرو۔ ان احادیث کی روشنی میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حسن بصریاور امیر صنعانی وغیرہ کا یہ مسلک ہے کہ زرعی پیدوار کی تمام اقسام میں سے صرف گندم، جو، کھجور اور منقی پر زکوۃ فرض ہے۔ امام صنعانی نے کہا: قطعی اور حتمی بات تو یہ ہے کہ مسلمان کا مال حرمت والا ہے، کسی قطعی دلیل کی روشنی میں ہی اس حرمت کو ختم کیا جا سکتا ہے، احتیاط اور دوسرے عام دلائل ناکافی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اصل قانون تو براء ت ِ ذمہ کا ہے، یہ دو بنیادی اصول ہیں، جن کا حکم ختم کرنے کے لیے اِن کے مقابلے کی قطعی دلیل درکار ہے۔ رہا مسئلہ احتیاط کا، تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مکئی وغیرہ پر بھی زکاۃ عائد نہ کی جائے، کیونکہ اس قسم کی فصلوں کے لیے جس عموم کا سہارا لیا گیا، ان کی تخصیص ثابت ہو چکی ہے۔ (سبل السلام: ۴/ ۳۶) جبکہ بعض علمائے کرام کا یہ مسلک ہے کہ زمین سے پیدا ہونے والی ہر قسم کی زرعی پیداوار پر عُشر یعنی زکوۃ فرض ہے، انھوں نے اپنے حق میں درج ذیل عام آیات پیش کی ہیں،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَآتُوا حَقَّہٗیَوْمَ حَصَادِہٖ} (سورۂانعام: ۱۴۲) … ’’کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کر دو۔‘‘ نیز فرمایا: {مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷) … ’’ اس چیز میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔‘‘ نیز بعض احادیث بھی اس عموم پر دلالت کرتی ہیں، جیسے ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُونُ … عُشر … وَنِصْفُ الْعُشْرِ۔))
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سندی حیثیت پر درج ذیل بحث کی ہے: یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند میں محمد بن عبید اللہ عزرمی ’’متروک‘‘ ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے، جسے امام دار قطنیؒ اور امام حاکم نے روایت کیا کہ موسی بن طلحہ نے کہا: عِنْدَناَ کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہٗاَنَّمَااَخَذَالصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندم اور … سے زکوۃ وصول کی ہے۔ امام حاکم نے کہا: موسی بن طلحہ عظیم تابعی ہیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے زمانے کو ان کے پانے کا انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن ابن عبد البر نے کہا کہ موسی بن طلحہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نہ ملے ہیں اور نہ ان کو پایا ہے۔
لیکن امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اس کا یہ شاہد ذکر کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَاْخُذُوا اِلاَّ مِنْ ھٰذِہِ الْاَرْبَعۃِ …)) صرف ان چار اصناف میں زکوۃ وصول کرو۔ ان احادیث کی روشنی میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حسن بصریاور امیر صنعانی وغیرہ کا یہ مسلک ہے کہ زرعی پیدوار کی تمام اقسام میں سے صرف گندم، جو، کھجور اور منقی پر زکوۃ فرض ہے۔ امام صنعانی نے کہا: قطعی اور حتمی بات تو یہ ہے کہ مسلمان کا مال حرمت والا ہے، کسی قطعی دلیل کی روشنی میں ہی اس حرمت کو ختم کیا جا سکتا ہے، احتیاط اور دوسرے عام دلائل ناکافی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اصل قانون تو براء ت ِ ذمہ کا ہے، یہ دو بنیادی اصول ہیں، جن کا حکم ختم کرنے کے لیے اِن کے مقابلے کی قطعی دلیل درکار ہے۔ رہا مسئلہ احتیاط کا، تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مکئی وغیرہ پر بھی زکاۃ عائد نہ کی جائے، کیونکہ اس قسم کی فصلوں کے لیے جس عموم کا سہارا لیا گیا، ان کی تخصیص ثابت ہو چکی ہے۔ (سبل السلام: ۴/ ۳۶) جبکہ بعض علمائے کرام کا یہ مسلک ہے کہ زمین سے پیدا ہونے والی ہر قسم کی زرعی پیداوار پر عُشر یعنی زکوۃ فرض ہے، انھوں نے اپنے حق میں درج ذیل عام آیات پیش کی ہیں،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَآتُوا حَقَّہٗیَوْمَ حَصَادِہٖ} (سورۂانعام: ۱۴۲) … ’’کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کر دو۔‘‘ نیز فرمایا: {مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷) … ’’ اس چیز میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔‘‘ نیز بعض احادیث بھی اس عموم پر دلالت کرتی ہیں، جیسے ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُونُ … عُشر … وَنِصْفُ الْعُشْرِ۔))