کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سونے اور چاندی کی زکوۃ
حدیث نمبر: 3401
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ؟ فَقَالَ: ((مَا جَاءَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا گدھوں پر زکوۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، ما سوائے اس ایک جامع آیت کے: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ۔}(سورۂ زلزال۔۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پالے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
وضاحت:
فوائد: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں علی الاطلاق زکوۃ واجب نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ غلاموں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔ آخری حدیث میں مذکورہ دو آیات کے الفاظ انتہائی مختصر ہیں، مگر وہ ہر قسم کی خیر کو شامل ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ گدھوں پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر کوئی کسی کو یہ جانور بھی دینا چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3401
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 987 مطولا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7563، 9476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9470»
حدیث نمبر: 3402
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَاقِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے،البتہ تم چاندی کے ہر چالیس درہموں میں سے ایک درہم بطور زکوۃ ادا کیا کرو،اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکوۃ نہیں ہے، جب وہ دو سو درہم ہو جائے تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح أخرجه ابوداود: 1574، والترمذي: 620، وابن ماجه: 1790، والنسائي: 5/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 711»
حدیث نمبر: 3403
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم (چاندی) میں بھی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3403
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول تخر يج:حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، فان عمرو بن دينار لم يسمعه من جابر، ويشھد له رواية ابي الزبير عن جابر عند مسلم: 980۔ أخرجه ابن ماجه: 1794 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 913»
حدیث نمبر: 3404
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ وسق سے کم فصل پر کوئی زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3404
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14209»
حدیث نمبر: 3405
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3405
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره أخرجه الطبراني في الاوسط : 697، والبيھقي: 4/ 121، والطحاوي: 2/ 35، والبزار: 888 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5670»
حدیث نمبر: 3406
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ وسق سے کم کھجوروں پر کوئی زکوۃ نہیں، چاندی کے پانچ اوقیوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3406
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1405، 1447، ومسلم: 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11030، 11819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11841»
حدیث نمبر: 3407
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي جَمَعَ فِيهِ فَرَائِضَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: ((وَفِي الرِّقَاقِ رُبُعُ الْعُشُورِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر، جو نصاب ِ زکوۃ پر مشتمل تھی، میں یہ بھی تھا: چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ فرض ہے، اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں زکوۃ فرض نہیں، ہاں اگر اس کا مالک چاہے تو ٹھیک ہے۔
وضاحت:
فوائد: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ چاندی کا نصاب پانچ اوقیے ہے، ایک اوقیہ (۴۰) درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیوں کا وزن (۲۰۰) درہم اور (۲۰۰) درہم کا وزن ساڑھے باون تولے بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث طويل أخرجه البخاري مفرقا: 1448، 1450، 1451، 1453، 2487، 3106، 5878، 6955(اانظر: 72 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 72»