کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3387
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصَدِّقُ أَهْلَ الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا (قَالَ هَارُونَ: وَالتَّبِيعُ الْجَذَعُ أَوْ الْجَذَعَةُ) وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، قَالَ: فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ آخُذَ مِنَ الأَرْبَعِينَ، قَالَ هَارُونَ: مَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ وَالْخَمْسِينَ وَمَا بَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ وَمَا بَيْنَ الثَّمَانِينَ وَالتِّسْعِينَ، فَأَبَيْتُ ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهُمْ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَدِمْتُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنَ السِّتِّينَ تَبِيعَتَيْنِ، وَمِنَ السَّبْعِينَ مُسِنَّةً وَتَبِيعًا وَمِنَ الثَّمَانِينَ مُسِنَّتَيْنِ، وَمِنَ التِّسْعِينَ ثَلَاثَةَ أَتْبَاعٍ، وَمِنَ الْمِائَةِ مُسِنَّةً وَتَبِيعَتَيْنِ وَمِنَ الْعَشَرَةِ وَالْمِائَةِ مُسِنَّتَيْنِ وَتَبِيعًا، وَمِنَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ ثَلَاثَ مُسِنَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَةَ أَتْبَاعٍ قَالَ وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا آخُذَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَقَالَ هَارُونَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَبْلُغَ مُسَنَّةً أَوْ جَذَعًا، وَزَعَمَ أَنَّ الْأَوْقَاصَ لَا فَرِيضَةَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اہلِ یمن سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور حکم دیا کہ ہر (۳۰) گائے پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی اور ہر (۴۰) پر دو دانتا وصول کروں،ان لوگوں نے میرے سامنے تجویز پیش کی کہ میں ہر چالیس کے حساب سے زکوۃ وصول کروں، ہارون راوی کہتے ہیں: یعنی چالیس اور پچاس کے درمیان اور ساٹھ اور ستر کے درمیان اور اسی اور نوے کے درمیان۔ لیکن میں نے ان کی تجویز تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہاکہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرلوں، از خود میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ پس میں آیا اور ساری بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر (۳۰) پر ایک سالہ اور ہر (۴۰) پر دو دانتا، ہر (۶۰) پر ایک سالہ دو جانور، ہر (۷۰) پر ایک جانور دو دانتا اور ایک جانور ایک سالہ، ہر (۸۰) پر دو عدد دو دانتے،ہر (۹۰) پر تین عدد ایک سالہ، ہر (۱۰۰) پر ایک عدد دو دانتا اور دو عدد ایک سالہ، (۱۱۰)پر دو عدد دو دانتے اور ایک عدد ایک سالہ ، اور (۱۲۰) پر تین عدد دو دانتے یا چار عدد ایک سالہ جانور وصول کروں۔سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں ان ہر دو نصابوں کی درمیان والی مقدار کی زکوۃ وصول نہ کروں۔ہارون کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقدار پر ایک سالہ یا دو دانتا جانور واجب ہو، وہ وصول کر لوں اور درمیان والی مقدار جسے عربی میں وَقَص کہتے ہیں اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم کی حیاتِ مبارکہ میں مدینہ منورہ میں واپس آنا ثابت نہیں ہے، بہرحال اس حدیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ درست ہیں کہ گائیوں کی مقدار کو حتی الامکان(۳۰، ۳۰)، (۴۰، ۴۰) اور (۳۰، ۴۰) میں تقسیم کر کے زکوۃ کے جانوروں کا فیصلہ کیا جائے اور باقی بچ جانے والے جانوروں پر زکوۃ نہ لی جائے، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3387
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة سلمة بن اسامة، وشيخه يحيي بن الحكم مجھول الحال أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22434»
حدیث نمبر: 3388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو (بْنِ دِينَارٍ) عَنْ طَاوُسٍ أُتِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَقْصِ الْبَقَرِ وَالْعَسَلِ، فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِشَيْءٍ، قَالَ سُفْيَانُ: الْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طاؤس کہتے ہیں: سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گائے اور شہد کا وقص زکوۃ کے لیے پیش کیا گیا، لیکن انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ سفیان کہتے ہیں: (بچ جانے والی گائیوں کی) کی تیس سے کم مقدار وقص ہے۔
وضاحت:
فوائد: چونکہ زکوۃ کے لیے گائے کی کم از کم مقدار (۳۰) ہونی چاہیے، اس لیے اگر کسی آدمی کے پاس (۶۹) گائیں ہیں، تو صرف (۴۰) جانوروں کی زکوۃ وصول کی جائے گی اور بقیہ (۲۹) پر کوئی زکوۃ نہیں ہو گی، کیونکہ وہ (۳۰) سے کم ہیں، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔ شہد کی زکوۃ کی تفصیل آگے آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3388
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «منقطع، طاووس لم يدرك معاذا أخرجه الشافعي في مسنده : 1/ 237، والدارقطني: 2/ 99، والبيھقي: 4/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22369»
حدیث نمبر: 3389
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ إِذَا بَلَغَ الْبَقَرُ ثَلَاثِينَ فِيهَا تَبِيعٌ مِنَ الْبَقَرِ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائے کی زکوۃ کے بارے میں یہ لکھوایا کہ جب وہ تیس ہو جائیں تو ان میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی فرض ہو گی اور جب ان کی تعداد چالیس ہو جائے تو ان میں دو دانتا جانور فرض ہو جائے گا، جب تعداد اس سے بھی بڑھ جائے تو ہر چالیس گائیوں میں ایک دو دانتا جانور ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3389
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره أخرجه مختصرا الترمذي: 622، وابن ماجه: 1804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3905»