کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان
حدیث نمبر: 3382
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجور پر کوئی زکوۃ نہیں۔
وضاحت:
فوائد: اونٹوں کے نصاب اور شرح کی تفصیل گزشتہ باب میں گزر چکی ہے، باقی دو چیزوں کی وضاحت یہ ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3382
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1405، 1447، ومسلم: 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11835»
حدیث نمبر: 3383
عَنْ قَزْعَةَ وَقَدْ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ (لَا أَدْرِي أَرَفَعَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا) فِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَفِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قزعہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مختلف اشیاء میں زکوۃ کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے جواب تو دیا، لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ انہوں نے اس جواب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا یا نہیں، بہرحال انھوں نے کہا: (۲۰۰)درہم چاندی میں پانچ درہم اور بکریوں میں (۴۰)سے (۱۲۰) تک ایک بکری زکوۃ ہے، (۱۲۰) سے ایک بھی بڑھ جائے تو (۲۰۰) تک دو بکریاں، (۲۰۰) سے زائد بکریاں ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری زکوۃ ہو گی۔پانچ اونٹوں میں ایک بکری، دس میں دو، پندرہ میں تین، بیس میں چار بکریاں، (۲۵) سے (۳۵) تک ایک بنت ِ مخاض، (۳۶) سے (۴۵) تک ایک بنت ِ لبون، (۴۶) سے (۶۰) تک ایک حِقّہ، (۶۱) سے (۷۵) تک ایک جذعہ، (۷۶) سے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون اور (۹۱) سے (۱۲۰) تک دو عدد حِقّے زکوۃ ہو گی، اس کے بعد ہر (۵۰) میں ایک عدد حقّہ اور ہر (۴۰) میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ فرض ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: یہ سارے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11327»
حدیث نمبر: 3384
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ إِبِلِهِ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنامعاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چرنے والے چالیس اونٹوں میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ ہو گی، (زکوۃ سے بچنے کے لیے مشترک) اونٹوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا، جو آدمی اجر وثواب کی نیت سے زکوۃ دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور جو یہ ادا نہیں کرے گا، تو ہم خود اس سے (جبراً) وصول کریں گے اور (بطورِ جرمانہ) اس کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بھی لیں گے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے واجب حقوق میں سے ہے اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس میں سے کچھ لینا حلال نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: اگر کسی سے جبراً زکوۃ لی جائے تو یہ اسے کفایت کرے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کو رعایا کے کسی جرم پر ان سے جرمانہ لینے کا حق حاصل ہے، سنن ابی داود کی روایات کے مطابق اس کی دو مثالیں اور بھی ہیں: (۱)گم شدہ اونٹ کو چھپا لینے والے سے اس وجہ سے ایک اونٹ زائد لینا اور (۲) جو آدمی درخت پر لگے ہوئے پھل اپنے ساتھ لے کر جائے گا، اس سے اس پھل کا دو گنا جرمانہ لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3384
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 1575، والنسائي: 5/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20265»
حدیث نمبر: 3385
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں میں زکوۃ ہے، بکریوں میں زکوۃ ہے، گایوں میں زکوۃ ہے اور گندم میں بھی زکوۃ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3385
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابن جريج لم يسمعه من عمران بن ابي انس أخرجه الدارقطني: 2/ 102، والحاكم: 1/ 388، والبيھقي: 4/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21890»
حدیث نمبر: 3386
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا حَوْلِيَّا، وَأَمَرَنِي فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفُ الْعُشْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف عامل بنا کر بھیجا اورمجھے حکم دیا کہ میں ہر بالغ ذمِّی سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا (بطورِ جزیہ) وصول کروں اور ہر چالیس گائیوں پر دو دانتا اور ہر تیس پر ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی بطورِ زکوۃ وصول کروں اور جن کھیتوں کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، ان کی پیدا وار کا دسواں حصہ اور جن کو ڈول یا رہٹ کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے، ان کی پیداوار کا بیسواں حصہ زکوۃ لوں۔
وضاحت:
فوائد: … گائیوں اور فصلوں کی زکوۃ کا بیان اگلے ابواب میں اور ذمِّی لوگوں کے جزیے کی تفصیل کتاب الجھاد میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3386
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح أخرجه ابوداود: 576، 30038، والنسائي: 5/ 42، وابن ماجه: 1818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22387»