کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان
حدیث نمبر: 3128
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَجْمَرْتُمْ الْمَيِّتَ، فَأَجْمِرُوهُ ثَلَاثًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جب میت کو عود سے دھونی دو تو تین دفعہ دھونی دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر عود میسر نہ ہو تو کوئی سی بہترین خوشبو لگائی جا سکتی ہے، تاکہ مقصود پورا ہو جائے۔ احرام والا آدمی اس حکم سے مستثنی ہے، اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 3129
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھا، اس کی اونٹنی نے اس کو اس طرح گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کی پتوں کے ساتھ غسل دے کر اس کے ان ہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کے سر کو بھی نہ ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
حدیث نمبر: 3130
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ (الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُهِلًّا، وَقَالَ مَرَّةً يُهِلُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اونٹ سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: … کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
حدیث نمبر: 3131
حدیث نمبر: 3132
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ: ((لَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ خَارِجَ رَأْسِهِ))، قَالَ شُعْبَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِهِ أَوْ وَجْهِهِ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے کر دو کپڑوں میں کفن دے دو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی ننگا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد امام شعبہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: اس کا سر یا چہرہ ننگاہونا چاہیے، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا سر چپکایا ہوا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں احرام باندھنے والے بعض لوگ سر پر کوئی چیز لگا کر بالوں کو چپکا لیا کرتے تھے، تاکہ وہ جڑیں رہیں اور خاک آلود نہ ہوں، ممکن ہے کہ اس آدمی نے بھی اپنے بالوں کو چپکایا ہوا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہو۔ احرام کی حالت میں فوت ہونے والے کی یہ خصوصیات ہیں کہ اسے دو کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے اور سر کو نہ ڈھانپا جائے اور خوشبو بھی نہ لگائی جائے، امام احمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابو حنیفہkکا خیال یہ ہے اس کے ساتھ عام میت والا سلوک کیا جائے، اس حدیث ِ مبارکہ کی روشنی میں اول الذکر مسلک راجح ہے۔