کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: شہید کو انہی کپڑوں میں کفن دینے کا بیان، جن میں وہ شہادت پاتا ہے
حدیث نمبر: 3125
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ أَوْ قَالَ فِي جَوْفِهِ، فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کواس کے سینے یا پیٹ میں تیر لگا تو اس کو اس کے انہی کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا، جبکہ ہم (ایسا کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔
حدیث نمبر: 3126
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَقَالَ: ((ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر شہداء کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے لوہے اور ہتھیاروں کو اتار دیا جائے اور فرمایا: ان کو ان کے خونوں اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 3127
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: ((زَمِّلُوهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ))، وَجَعَلَ يَدْفِنُ فِي الْقَبْرِ الرَّهْطَ، وَقَالَ: ((قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد والے دن فرمایا: ان شہداء کو ان کے کپڑوں میں ہی ڈھانپ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک قبر میں متعدد شہداء کو دفن کرنے لگے اور فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہے، اسے قبر میں مقدم کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شہید سے اس کے اصل لباس کے علاوہ جنگی لباس اور دوسرے اوزار اتار لیے جائیں اور اس کو اس کے پہنے ہوئے کپڑوں میں کفن دے دیا جائے۔ ہاں اگر وہ کپڑے پھٹ چکے ہوں یا ناقص ہوں یا کسی صورت میں ضائع ہو گئے ہوں تو دوسرے کپڑوں سے کفن دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ پچھلے باب میں وضاحت کی جا چکی ہے۔ آج بھی اگر کسی علاقے میں ایک وقت میں زیادہ اموات ہو جائیں اور لوگ ہر ایک کے لیے الگ الگ قبر نہ بنا سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ دو تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کر دیں۔