کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3100
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِيَتْ فِيهِ، فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی مرض الموت) کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اورمیں نے کہا: ہائے میرا سر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو چاہتا ہوں کہ ایسا ہوتا کہ(تم بیمار ہو جانے کے بعد فوت ہو جاتیں) پھر تم کو تیار کر کے دفن کر دیتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2387، وأخرجه البخاري: 5666، 7217 بلفظ: ((فأستغفر لك وأدعو لك)) بدل: ((فھيأتك ودفنتك)) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25626»
حدیث نمبر: 3101
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ: ((مَا ضَرَّكِ لَوْ مُتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ، ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر تم مجھ سے قبل فوت جاؤ تو میں تم کو غسل دے کر کفن پہناؤں گا اور پھر تمہاری نمازِ جنازہ پڑھ کر تجھے دفن کروں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26433»
حدیث نمبر: 3102
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاءُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی تھیں: جس چیز کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر اس کا پہلے پتہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مکمل روایت آ گے آ رہی ہے، اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امام ابوحنیفہkکا یہ مسلک ہے کہ خاوند بیوی کو غسل نہیں دے سکتا، کیونکہ موت کی وجہ سے ان میں جدائی پیدا ہو جاتی ہے، یہی وجہ یہ ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد اس کی بہن اُس مرد کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه أبوداود: 3141، وابن ماجه: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26837»