حدیث نمبر: 3075
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ امْرَأَةٌ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ! وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ يَا بْنَ مَظْعُونٍ! بِالْجَنَّةِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظْرَةَ غَضَبٍ، فَقَالَ: ((وَمَا يُدْرِيكِ؟))، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا بِهِ)))، فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ (وَفِي رِوَايَةٍ: رُقَيَّةُ) ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيِّرِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ))، فَبَكَتِ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ((مَهْلًا يَا عُمَرُ!))، ثُمَّ قَالَ: ((ابْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ))، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک عورت نے کہا: اے عثمان بن مظعون! آپ کو جنت مبارک ہو۔دوسری روایت میں ہے: ان کی بیوی نے کہا: اے ابن مظعون! آپ کو جنت کی مبارک ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور فرمایا: ((آپ کو کیسے معلوم ہوا؟)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے شہ سوار اورصحابی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، جبکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ یہ سن کر لوگ سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں فکر مند ہو گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب یاسیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے پیش رو صالح اور نیک سیرت فرد عثمان بن مظعون کو جا ملو۔ پس عورتیں رونے لگیں اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنا شروع کر دیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: عمر ٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا: روؤ روؤ، البتہ شیطانی چیخ و پکار سے بچنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رونا آنکھ اور دل سے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جذبۂ رحمت کی بنا پر ہوتا ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے۔
حدیث نمبر: 3076
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانٍ مِثْلَهُ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: ((فَمِنَ الشَّيْطَانِ)) وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اس میں پس وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ کے بعد یہ اضافہ ہے: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ شفقت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کو اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصے سے دیکھنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جنت کی مبارک دے کر ایک غیبی امر پر اطلاع پانے کا دعوی کر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سمجھانا چاہا کہ بیشک کوئی بندہ نیک ہو سکتا ہے، لیکن جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع نہیں دے گا، اس وقت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔صحابہ کا سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فکر مند ہونا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ صحابی دوسرے صحابہ کے نزدیک نیک اور صالح فرد تھے، لیکن بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کی وفات پر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کی تو صحابہ مطمئن ہو گئے۔ حدیث میں مذکورہ خواتین کا روناجائز تھا، لیکن سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ناجائز سمجھ کر روکنا چاہا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روکنے سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 3077
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الصَّبِيَّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ، وَاللَّهِ! إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے اوربچے کو بلوایا، پھراسے اپنے سینہ سے لگا لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اس وقت حالت ِ نزع میں تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور دل غمگین ہو رہا ہے، لیکن ہم بات صرف وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کرے گی، اے ابراہیم! اللہ کی قسم! ہم تیری وجہ سے یقینا غمگین ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو عالم نزع میں دیکھ کر رونے لگے)تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزید آنسو بہنے لگے۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث میں یہ الفاظ بھی واقع ہوئے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں، کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تو اِن دو قسم کی بری اور بیوقوف آوازوں سے منع کیا ہے: (۱)گاہنے والی آواز، جو کہ لہو، کھیل اور شیطان کی بانسری ہے اور (۲) مصیبت کے وقت کی آواز، یعنی چہرے کو نوچنا، گریبان کو چاک کرنا اور شیطان کی آواز (یعنی چیخ و پکار)، یہ میرا رونا تو رحمت ہے اور جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ (فتح الباری: ۳/۲۲۴)
حدیث نمبر: 3078
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبْتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبْتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوسِ مَأْوَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر روئیں اور کہا: اے ابا جان! آپ اپنے ربّ کے کتنے قریب ہو گئے ہیں، اے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ اے با جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ انصاریوں کے ہاں ایک قریب الموت آدمی کے پاس گئے ، اس کے اہل و عیال رو رہے تھے ۔ میں نے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں رو رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو ، جب تک یہ آدمی ان کے پاس ہے ، ان کو رونے دو ، جب واجب ہو جائے گی تو یہ نہ روئیں ۔‘‘ جابر کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث عمر بن حمید قرشی کو سنائی ، انہوں نے پوچھا :’’واجب ہو جائے گی‘‘ کا کیا معنی ہے ؟ کہا : جب اس کو قبر میں داخل کر دیا جائے گا ۔‘‘
حدیث نمبر: 3079
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي السُّوقِ وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ لَكَانَ خَيْرًا لِمَيِّتِهِمْ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ: تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقُولُهُ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ! فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْهُنَّ فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْفُؤَادُ مُصَابٌ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ))، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَأَثَرْتُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں بازار میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا، ان کے پہلو میں سلمہ بن ازرق بھی موجود تھے، ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ لوگ روتے جا رہے تھے، سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس میت والے یہ لواحقین رونا ترک کر دیں تو اس میت کے حق میں بہتر ہو گا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: ابو عبد الرحمن! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں؟انہوں نے فرمایا: جی ہاں، میں کہہ رہا ہوں۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ مروان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر رونے لگیں، مروان نے کہا: عبد الملک! اٹھو اور جا کر ان عورتوں کو رونے سے منع کرو۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں رونے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں، سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ انہیں روکنے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے لیے اٹھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب، انہیں چھوڑو، آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل غمگین ہیں اور مصیبت کا وقت بھی قریب ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: کیا وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’جب واجب ہو جائے گی‘‘ اس سے مراد موت ہے،جیسا کہ سنن اور مؤطا کی مرفوع روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس کے معانی دفن بیان کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، جو کہ صحیح نہیں ہے۔ موت واقع ہو جانے کے کوئی نہ روئے، ظاہر ہے کہ دوسری روایات کی روشنی میں اس سے مراد رونے کی ممنوعہ قسم ہے، جس میں چیخ و پکار ہو یا بلند آواز سے رونا ہو، کیونکہ رونا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فعلاً بھی ثابت ہے، بلکہ اس کو رحمت قرار دے کر اس کی تعریف کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3080
عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَمَاتَتْ ابْنَةٌ لَهُ وَكَانَ يَتْبَعُ جَنَازَتَهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَهَا، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ، فَقَالَ: لَا تَرْثِينَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَرَاثِي، فَتُفِيضُ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبَرَاتِهَا مَا شَاءَتْ، كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَازَةِ هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ ،جو بیعت ِ رضوان کرنے والے صحابہ میں سے تھے، کی بیٹی کاانتقال ہو گیا۔ وہ ایک خچر پر سوار جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے، اتنے میں عورتیں رونے لگیں، انہوں نے کہا: مرثیے مت کہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ البتہ جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو۔ پھر انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد بھی دو تکبیروں کے درمیان وقفہ کے برابر کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہے۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جنازہ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے میں چوتھی تکبیر اور سلام کے درمیان دعا کرنا بھی ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 3081
عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ بَنَاتِهِ، وَهِيَ فِي السُّوقِ، فَأَخَذَهَا وَوَضَعَهَا فِي حِجْرِهِ حَتَّى قُبِضَتْ فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقِيلَ لَهَا: أَتَبْكِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَلَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، قَالَ: ((إِنِّي لَمْ أَبْكِ، وَهَذِهِ رَحْمَةٌ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ، إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک صاحب زادی کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ عالَمِ نزع میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اپنی گود میں رکھا، اس وقت اس کی روح پرواز کر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، ان سے کسی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوتے ہوئے رو رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تونہیں رو رہا، یہ تو رحمت ہے۔ مومن کی روح اس کے پہلوؤں سے نکل رہی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: مومن ہر حال میں ہر قسم کی بھلائی پرہوتاہے، جب اس کی روح اس کے پہلوؤں سے نکل رہی ہوتی ہے تو وہ اس حال میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس صاحب زادی سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آ رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا دونوں ہی رو رہے تھے، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ام ایمن کا رونا آواز کے ساتھ تھا، اگرچہ وہ نوحہ نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رونا بلا آواز تھا، جو دل کے نرم ہونے پر دلالت کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رونے کی نفی کرنا، اس سے مراد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح تو نہیں رو رہے تھے۔ اس حدیث سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ مسلمان کو بڑی سے بڑی آزمائش پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونے کا اظہار کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 3082
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا أَوْ ابْنَةً قَدِ احْتُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: ((إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ))، فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ وَقُمْنَا فَرُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَى حِجْرِ أَوْ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، وَفِي الْقَوْمِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَأُبَيٌّ أَحْسِبُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((إِنَّ هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرَّحْمَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع بھجوائی کہ اس کا بیٹا یا بیٹی نزع کے عالَم میں ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اپنی بیٹی کو سلام بھجوایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ جو لے لے اور جو دے دے، سب کچھ اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اجر کی امید رکھے۔ لیکن اس دفعہ بیٹی نے قسم دے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوبارہ بلوایا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑے۔ بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا گیا،اس وقت اس کی روح پرواز کر رہی تھی۔ لوگوں میں سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ موجود تھے اور میرا خیال ہے کہ سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بہہ پڑیں، سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے، رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مہربان بندوں پر رحم کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیٹا یا بیٹی کہنا، یہ کسی راوی کو شک ہے، یہ بیٹی ہی تھیں، ان کا نام سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا تھا، جن کو اگلی حدیث میں اُمَیمہ کہا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3083
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ، كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ، فَقَالَ: ((لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى))، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَبْكِي؟ أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدہ امیمہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو لایا گیا، وہ عالَم نزع میں تھیں اورپرانے مشکیزے کی طرح لگ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جو لے لے اور جو دے دے، سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا ایک وقت ِ مقرر ہے۔ یہ کہتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اس کے سانس اکھڑنے کی آواز پرانے مشکیزے میں پانی کے چھلکنے کی آواز کی طرح تھی۔(عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 3084
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ابْنِي يُقْبَضُ، فَأْتِنَا، … فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ اس کابیٹا فوت ہو رہا ہے، لہٰذا آپ تشریف لائیں، … ۔ الحدیث۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ سبق بھی ملا کہ تعزیت کے لیے اور کسی کو تسلی دلانے کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے: ((إِنَّ لِلّٰہَ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی، فَلْتَصْبِرْوَ لْتَحْتَسِبْ۔)) یعنی: ’’اللہ تعالیٰ جو لے لے اور جو دے دے، سب کچھ اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس چاہیے کہ وہ
حدیث نمبر: 3085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا مَاتَ حَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحْمَاءُ بَيْنَهُمْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف لائے، سیدہ کہتی ہیں:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے رونے کی آواز علیحدہ علیحدہ پہچان رہی تھی، حالانکہ میں اپنے حجرے میں تھی،وہ صحابہ آپس میں ایسے ہی تھے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: {رُحْمَآئُ بَیْنَہُمْ} (سورۂ فتح: ۲۹) یعنی: وہ آپس میں رحم دل تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تین ابواب کی احادیث کا تعلق رونے،نوحہ کرنے اور اس قسم کے دوسرے امور سے ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس رونے کا تعلق آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ ہو، وہ جائز ہے، بلکہ اس کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ یہ رونا دل کی نرمی کا نتیجہ ہے، اس ضمن میں ایسی آواز بھی نکل سکتی ہے، جس کے سامنے شدتِ غم کی وجہ سے آدمی مغلوب ہو جاتا ہے، اس باب کی آخری حدیث کا تعلق اسی صورت سے ہے کہ جب سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمرd، سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ پر رو رہے تھے تو ان کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ رونے کی ہر صورت کو نوحہ اور خلافِ شرع قرار دیا جائے گا، مثلا بلند آواز سے رونا، واویلا کرنا، اول فول بکنا، چیخنا، جاہلیت والی پکاریں پکارنا، روتے ہوئے یا اونچی آواز سے میت کے فضائل و محاسن اور عادات و اطوار کا تذکرہ کرنا، مثلا: ہائے میرے بازو، ہائے میرے مددگار، او بہادرا، گریبان چاک کرنا، رخسار پیٹنا، سرمنڈانا، ممنوعہ الفاظ کہنا، اپنے لیے بددعا کرتے ہوئے رونا۔