کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3061
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَالَ: ((إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ))، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ وَهَلَ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَهْلَ الْمَيِّتِ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِجُرْمِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اورفرمایا: اس میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اب عذاب ہو رہا ہے۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف فرمائے، انہیں غلطی لگ گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد یہ ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام: ۱۶۴) یعنی: کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: بیشک اس میت کو اب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جو حدیث ِ مبارکہ بیان کی، وہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، کئی دوسرے صحابہ سے بھی مروی ہے۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذاتی فہم ہے کہ وہ اس آیت ِ مبارکہ کی روشنی میں سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بھول جانے کی رائے دے رہی ہیں، حالانکہ اِس حدیث اور اِس آیت میں کوئی تضاد نہیں ہے، آگے اس کا بیان آئے گا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو روایت بیان کر رہی ہیں، وہ بھی اپنی جگہ پر درست ہے، جمع و تطبیق کا بیان آگے آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3061
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1004، وأخرجه مختصرا البخاري: 1286، ومسلم: 928 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4865»
حدیث نمبر: 3062
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قِيلَ لَهَا: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ))، قَالَتْ: وَهَلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّمَا قَالَ: ((إِنَّ أَهْلَ الْمَيِّتِ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِجُرْمِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے کہا کہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ابوعبد الرحمن کو غلطی لگ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا کہ: میت کے لواحقین اس پر رو رہے ہیں، جبکہ اسے اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3062
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3978، ومسلم: 932 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24806»
حدیث نمبر: 3063
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْطَأَ سَمْعُهُ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِعَمَلِهِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهَا وَاللَّهِ مَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ سے کہا: میرے بھانجے! ابو عبد الرحمن یعنی ابن عمر کو سننے میں غلطی لگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ایک آدمی کا ذکر کیا تھا، جسے اس کے اعمال کے جرم میں عذاب ہو رہا تھا اور اس کے اہل و عیال اس پر رو رہے تھے۔ اللہ کی قسم ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ اور سیّدنا ابن عمرeسے مروی دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کا مفہوم بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ میت کو اہل میت کے رونے کی وجہ سے عذاب کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب آگے آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3063
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25144»
حدیث نمبر: 3064
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَذَكَرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَٰكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ: ((إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ ذکر ہواکہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میت کو زندگان کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف کرے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، یوں لگتا ہے کہ وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک ایسی یہودی عورت کے پاس سے ہوا تھا کہ جس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: یہ لوگ رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3064
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 932، وأخرج نحوه البخاري: 3978 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24302، 24758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26525»
حدیث نمبر: 3065
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اس کو نوحہ کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3065
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1286، ومسلم: 928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4865، 5262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5262»
حدیث نمبر: 3066
عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي جَنَازَةٍ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوربیع کہتے ہیں: میں ایک جنازہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب انہوں نے ایک رونے والے کی آواز سنی تو اس کی طرف ایک آدمی کوبھیج کر اسے خاموش کرایا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ نے اسے خاموش کیوں کرا دیا ہے؟انھوں نے کہا: جب تک میت کو قبر میں داخل نہ کر دیا جائے تو اسے اس رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3066
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أبوشعبة الطحان جار الاعمش متروك، وأبو الربيع مجھول، وانظر الحديث السابق: 84 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6195»
حدیث نمبر: 3067
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَانَ الْكَافِرُ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَمُوتُ فَيَبْكِيهِ أَهْلُهُ، فَيَقُولُونَ: الْمُطْعِمُ الْجِفَانِ، الْمُقَاتِلُ الَّذِي، فَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَذَابًا بِمَا يَقُولُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کفار قریش میں سے جب کوئی کافر مرتا تو اس کے گھر والے اس پر روتے ہوئے کہتے:لوگوں کو بہت کھلانے والا، لڑنے والا جو … ، توان باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو مزید عذاب دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’جَفْنَۃ‘‘ کی جمع ’’جِفَان‘‘ ہے، جس کے معنی بڑے ٹب کے ہیں، جو سردار چربی اور تیل سے بھرا ہوا بڑا ٹب لوگوں کو کھلاتا تھا، عرب اسے کہتے تھے: اَنْتَ الْجَفْنَۃُ الْغََرَّائُ۔ (تم تو سفید ٹب ہو)، سفیدی سے مراد یہ ہے کہ وہ چربی اورتیل سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3067
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24877»
حدیث نمبر: 3068
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3068
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3978، ومسلم: 932 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24302، 24495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25000»
حدیث نمبر: 3069
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3069
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 927 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 180»
حدیث نمبر: 3070
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ! أَمَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ؟))، قَالَ: وَعَوَّلَ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ،سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر بلند آواز سے روئیں تو انھوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تو نے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عذاب دیا جاتا ہے، جس پربلند آواز سے رویا جاتا ہے۔ پھر سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ بلند آواز سے روئے، اس پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تم نہیں جانتے کہ جس پر بلند آواز سے رویا جاتا ہے، اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3070
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 268»
حدیث نمبر: 3071
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسِلُوا إِلَيَّ طَبِيبًا يَنْظُرُ إِلَى جُرْحِي هَذَا، قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى طَبِيبٍ مِنَ الْعَرَبِ فَسَقَى عُمَرَ نَبِيذًا، فَشُبِّهَ النَّبِيذُ بِالدَّمِ حِينَ خَرَجَ مِنَ الطَّعْنَةِ الَّتِي تَحْتَ السُّرَّةِ، قَالَ: فَدَعَوْتُ طَبِيبًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَسَقَاهُ لَبَنًا فَخَرَجَ اللَّبَنُ مِنَ الطَّعْنَةِ صَلْدًا أَبْيَضَ، فَقَالَ لَهُ الطَّبِيبُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! اعْهَدْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقَنِي أَخُو بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَلَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ كَذَّبْتُكَ، قَالَ: فَبَكَى عَلَيْهِ الْقَوْمُ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَيْنَا، مَنْ كَانَ بَاكِيًا فَلْيَخْرُجْ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ))، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُقِرُّ أَنْ يُبْكَى عِنْدَهُ عَلَى هَالِكٍ مِنْ وَلَدِهِ وَلَا غَيْرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی طبیب کو بلاؤ،وہ میرے زخم کا معائنہ کرے، چنانچہ ایک عربی طبیب کو بلوایا گیا۔ اس نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبیذ پلایا، جب وہ ناف کے نیچے والے زخم سے (خون آمیز نبیذ کی صورت میں) خارج ہو گیا، تو نبیذ خون کے مشابہ ہوگیا۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے بنی معاویہ کے انصار میں سے ایک دوسرا طبیب بلایا۔ اس نے آ کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا، لیکن وہ تو زخم کے راستے سے صاف سفیددودھ ہی نکل آیا۔ طبیب نے کہا: امیر المومنین! وصیت کر لو، (آپ فوت ہونے والے ہیں)۔ یہ سن کر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بنو معایہ کا یہ بھائی سچ کہہ رہا ہے، اگر تم کوئی اور بات کرتے تو میں اس کو غلط سمجھتا۔ یہ بات سن کر لوگ رو پڑے۔ جس پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے اوپر نہ روؤو، جو رونا چاہتا ہے وہ باہر چلا جائے۔ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ میت کے پاس رونے نہیں دیتے تھے۔ رونے والی ان کی اولاد ہو یا کوئی اور۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں اسی زخم کا ذکر ہے، جو ابو لولو نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لگایا تھا اور پھر آپ اسی وجہ سے شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3071
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1002، والنسائي: 4/ 15، وانظر الحديثين المتقدمين:88، 89 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 294»
حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ ابْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُودُهُ قَائِدُهُ، قَالَ: فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ))، فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ فَاعْلَمْ مَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَلِكَ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ، فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ، وَرَبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ مَرَّةً: فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ فَقَالَ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَوْ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ))، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضِ بُكَاءِ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ! مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ وَلَٰكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْكَافِرَ لَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الَّذِي أَضْحَكَ وَأَبْكَى، {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ: إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَٰكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِيءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ہم سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام ابان کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے، وہاں پر عمرو بن عثمان بھی موجود تھے، اتنے میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لے آئے،جبکہ ایک آدمی ان کی رہنمائی کر رہا تھا (کیونکہ وہ نابینا ہو چکے تھے)، میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے انہیں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلایا، پس وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوں کے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آؤ، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آؤں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعض اہل و عیال کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ قاسم نے کہا: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمر کی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹے ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔
وضاحت:
بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوںکے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آئو، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آئوں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھمل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ’’بعض اہل و عیال‘‘ کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباسd کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: ’’بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ قاسم نے کہا: جب سید عائشہ رضی اللہ عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمرeکی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹ ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 928، وأخرجه مختصرا البخاري: 1287 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 288، 289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 288»
حدیث نمبر: 3073
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَنِيحَ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ) فَخَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ، أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، أَلَا وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ))، أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا نِيحَ بِهِ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں: قرظہ بن کعب نامی ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا اور اس پر نوحہ کیا جانے لگا، ایک روایت میں ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے قرظہ بن کعب انصاری پر نوحہ کیا گیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اسلام میں نوحہ کا کیا کام؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھ پر جھوٹ بولنا، یہ عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، خبردار!جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اسے اس وجہ سے عذاب دیا جائے گاکہ اس پر نوحہ کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1291، وأخرجه مسلم: 4 دون ذكر النوح، و 933 بذكر النوح فقط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18320»
حدیث نمبر: 3074
عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، إِذَا قَالَتِ النَّائِحَةُ وَاعَضُدَاهُ، وَانَا صِرَهُ، وَاكَاسِيَاهُ، جُبِذَ الْمَيِّتُ وَقِيلَ لَهُ: أَنْتَ عَضُدُهَا، أَنْتَ نَاصِرُهَا، أَنْتَ كَاسِيهَا))، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، فَقَالَ: وَيْحَكَ أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا؟ فَأَيُّنَا كَذَبَ؟ فَوَاللَّهِ! مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَلَا كَذَبَ أَبُو مُوسَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب نوحہ کرنے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرے مدد گار! ہائے مجھے کپڑے پہنانے والے! تو فرشتے میت کو جھنجوڑتے اور کہتے ہیں:تو اس کا بازو تھا؟ تو اس کا مدد گار تھا؟ تو اس کو کپڑے پہناتا تھا؟ اسید کہتے ہیں: میں نے (تعجب کرتے ہوئے) کہا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام:۱۶۴) یعنی: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن موسی بن ابی موسیٰ نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، میں تجھے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو اس طرح کہتا ہے؟ ہم میں سے کس نے جھوٹ بولا؟ اللہ کی قسم! میں نے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ((یُعَذَّبُ الْمَیِّتُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) یعنی: میت کو اس پر اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کو سیّدنا عمر اور ان کے بیٹے سیّدنا عبد اللہ dکی بھول چوک کا نتیجہ قرار دیا، حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے۔ دراصل سیدہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ یہی حدیث سیّدنا مغیرہ بن شعبہ اور سیّدنا ابو موسی اشعری dنے بھی بیان کی ہے، یہ کل چار صحابہ ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3074
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1003، وابن ماجه: 1594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19954»