کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نوحہ کرنے، نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے حق میں ثابت ہونے والی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نوحہ کرنے والی اور بلند آواز سے رونے والی عورت کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 3057
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3058
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے دو کام ہیں، لوگ ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا اور نسب پر طعن کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … نسب پر طعن کرنے سے مراد آدمی کا اپنے آپ کو غیر باپ کی طرف منسوب کرنا ہے، یا کسی کو اس کے باپ، ماں یا برادری کی بنا پر طعنہ مارنا کہ وہ تو فلاں کمینے باپ کا بیٹا ہے یا اس کا تعلق تو فلاں گھٹیا برادری سے ہے۔
حدیث نمبر: 3059
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُتْرَكْنَ، الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امورِ جاہلیت ہیں،لیکن ان کو چھوڑا نہیں جائے گا: حسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اورنوحہ کرنا۔ نوحہ کرنے والی عورت اگر وفات سے پہلے توبہ نہیں کر لیتی تو اسے اس حال میں قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول یا خارش کی قمیص ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … ’’حسب پر فخر کرنا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ آباء و اجداد کے مناقب بیان کر کے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنا اور غرور اور تکبر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ میں فلاں عالم، فلاں بہادر، فلاں ڈاکٹر یا فلاں مالدار کا بیٹا ہوں۔ اس میں کمال کسی کا ہوتا ہے اور بڑائی کوئی کر رہا ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر کسی کا دادا بڑا انسان تھا تو اس میں پوتے کا کیا کمال ہے، اسے چاہیے کہ اپنے اندر اس قسم کی صلاحیتیں پیدا کرے اور عاجزی و انکساری سے زندگی گزارے۔ نسب پر طعن کرنا اور حسب پر فخر کرنا، دونوں نحوستیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، ان کے ذریعے نااہل اور جاہل لوگ اپنے بڑے پن کو ثابت کر کے مطمئن رہنا چاہتے ہیں، ایک دن میں نے اچھے بھلے لکھے پڑے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ماموں کو فلاں نواب نے اس کرسی یا مقام پر بٹھایا تھا، جہاں آصف علی زرداری کو بٹھایا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ زرداری عام مالدار آدمی تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کو زرداری کی سیٹ پر بٹھا دیا جائے تو اس سے بیٹھنے والے کو کتنی عظمت ملی، یہ فیصلہ تو منصف حضرات سے کروانا پڑے گا، بھلا بھانجوں کو اس پر اترانے کا کیا حق حاصل ہے۔ ’’تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا‘‘ ہم ’’ابواب الاستسقائ‘‘ کے آخر میں اس پر بحث کر آئے ہیں۔
حدیث نمبر: 3060
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ فِي أُمَّتِي أَرْبَعًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَيْسُوا بِتَارِكِيهِنَّ: الْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ فَإِنَّهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا دِرْعٌ مِنْ لَهَبِ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں، جنہیں وہ ترک نہیں کریں گے:حسب پر فخر کرنا، نسب پرطعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ نیز فرمایا: اگر نوحہ کرنے والی عورت نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اس طرح کھڑی ہو گی کہ اس پر تارکول کے کرتے ہوں گے پھر ان پر آگ کے شعلوں کی قمیص چڑھا دی جائے گی۔