حدیث نمبر: 3046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ، وَلَطَمَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا گریبان چاک کرے،رخسار پیٹے اور جاہلیت والی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 3047
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِلَفْظِ: ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)جو شخص رخسار پیٹے، یا گریبان چاک کرے یا جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’وہ ہم سے نہیں ہے۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یا مکمل دین پر نہیںہے، یہ معنی نہیں کہ وہ دین سے خارج ہو گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3048
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ: ((لَكِنْ حَمْزَةَ لَا بَوَكِيَ لَهُ))، فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَجِئْنَ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَسَمِعَهُنَّ وَهُنَّ بَاكِيَاتٍ فَقَالَ: ((وَيَحَهُنَّ، لَمْ يَزَلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احد سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری خواتین کی آواز سنی، جو اپنے شوہروں کی شہادت پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ، اس کے لیے تو رونے والیاں کوئی نہیں ہیں۔ جب یہ بات انصاری خواتین کو پہنچی تو وہ آئیں اور سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور ان کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا: ان پر افسوس ہے، یہ رات سے روتی رہیں، ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کوئی کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’وَیْح‘‘ کا لفظ کبھی رحمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی عذاب کے لیے، سیاق و سباق کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ شروع میں اس قسم کا رونا جائز تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 3049
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن اوس کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب لوگ رونے لگے تو انہوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براءت کا اظہار کیا ، میں بھی اس سے بری ہوں۔ لوگوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن لوگوں سے براءت کا اظہار کیا)۔ اس نے کہا: جو مصیبت کے وقت سرمنڈائے، یا دامن پھاڑے یا ممنوعہ الفاظ کہتے ہوئے بلند آواز میں روئے۔
حدیث نمبر: 3050
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكُوا عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ فَقَالَ: إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صفوان بن محرز کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، لوگ رونے لگے۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براءت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں، یعنی اس سے جو (مصیبت کے وقت) سرمنڈائے یا کپڑے پھاڑے یا بلند آواز سے واویلا کرے۔ (۳۰۵۰) تخریـج: … انظر الحدیث السابق: ۷۰
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ رو رہے تھے، اس وقت سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ میں ان کا ردّ کرنے کی طاقت نہیں تھی، بعد میں جب افاقہ ہوا تو انھوں نے شرعی حکم کی وضاحت کر دی۔
حدیث نمبر: 3051
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا … إِلَى قَوْلِهِ … وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} قَالَتْ: كَانَ مِنْهَا النِّيَاحَةُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِلَّا آلَ فُلَانٍ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِلَّا آلَ فُلَانٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ ان معروف کاموں میں سے ایک نوحہ بھی تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) مگر فلاں خاندان والے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور کر سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو نوحہ کرنے کی اجازت دی، جبکہ شارع کو عام حکم سے تخصیص کرنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی اس رخصت کے علاوہ نوحہ کرنا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 3052
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا نَنُوحَ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي، فَقَالَ: فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَبَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ، وَغَيْرِ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن امور پر ہم سے بیعت لی، ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ ہم نوحہ نہ کریں، لیکن اتنے میں ایک انصاری عورت نے کہا: فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کے سلسلے میں میرا تعاون کیا، اب ان کے ہاں ایک مرگ ہو چکی ہے، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک ان کے تعاون کی طرح ان کی مدد نہ کر آؤں۔ پس وہ چلی گئی، پھر واپس کر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم میں بیعت کرنے والی کسی ایک خاتون نے بھی وفا نہیں کی، ما سوائے اِس عورت اور ام سلیم بنت ملحان کے۔
وضاحت:
فوائد: … مجموعۂ روایات سے پتہ چلتاہے کہ جس عورت کو مبہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا خود ہیں۔
حدیث نمبر: 3053
عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْنَا فِي الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرَ خَمْسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت اس بات کا عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ بھی نہیں کریں گی۔ ہم میں سے صرف ان پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا تھا: ام سلیم، زوجۂ معاذ، بنت ِ ابو سبرہ اور ایک اور خاتون۔
وضاحت:
فوائد: … پانچویں خاتون سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا خود تھیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ جن عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، ان میں سے پانچ نے پوری طرح اس عہد کو نبھایا تھا۔
حدیث نمبر: 3054
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ فَذَكَرَ مِنْ بُكَائِهِنَّ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ الرَّجُلُ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَإِنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اُحْثُوا فِي وُجُوهِهِنَّ التَّرَابَ))، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا قَالَ لَكَ وَلَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب سیّدنا جعفر بن ابی طالب، سیّدنا زید بن حارثہ اور سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک آدمی نے آ کر کہا:اے اللہ کے رسول! جعفر کے خاندان کی عورتیں رو رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کو روکے۔ وہ گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا: میں نے انہیں منع تو کیا ہے، لیکن انھوں نے میری بات نہیں مانی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔ میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے جو حکم دیا، نہ تو تو نے اس پر عمل کیا اور نہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تینوں صحابہ آٹھ سن ہجری میں ہونے والے غزوۂ مؤتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا: ’’تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔‘‘ اس سے مراد رونے پر مبالغہ کے ساتھ انکار کرنا اور منع کرنا ہے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کو چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو رونے سے روکتا، وگرنہ چپ ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید پریشان نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 3055
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ، فَأَفَضْتُ بُكَاءً فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ))، قَالَتْ: فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: پردیسی تھا اور پردیس میں فوت ہو گیا، پس میں رو پڑی۔ (مدینہ کی) بالائی بستیوں سے ایک خاتون آئی، اس کا ارادہ تھا کہ (نوحہ کرنے میں) میری مدد کرے گی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس گھر سے شیطان کونکال دیا ہے تم دوبارہ اس کو وہاں داخل کرنا چاہتی ہو۔ پس یہ سن کر میں نہ روئی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے تعلق رکھتے تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے، ان کی اہلیہ پردیس سے یہی کچھ مراد لے رہی ہیں۔