کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3042
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … موت کے بعد میت کو ڈھانپ دینے پر اہل علم کا اجماع ہے، اس میں میت کا احترام بھی ہے اور اس کی بے پردگی ہونے سے حفاظت بھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5814، ومسلم: 942 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25088»
حدیث نمبر: 3043
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَبِي وَأُمِّي! وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قَدْ كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دھاری دار یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور رو پڑے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی بھی دوموتیں جمع نہیں کرے گا،جو موت آپ پر لکھی گئی تھی وہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3043
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4452، 4453، 5814، ومسلم: 942 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581، 24863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25375»
حدیث نمبر: 3044
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، وَهُوَ مَيِّتٌ، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جبکہ وہ میت تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو ان کے چہرے پر بہنے لگے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3044
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله،وقد اضطرب فيه أخرجه ابوداود: 3163، والترمذي: 989، وابن ماجه: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24165، 25712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24666»
حدیث نمبر: 3045
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ: فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ أَوْ قَالَ وَهُوَ يَبْكِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جب کہ وہ میت تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو عثمان کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ عبد الرحمن نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بہہ رہی تھیں، یا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سلسلے میں صرف سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دینا ثابت ہے، اہل علم نے کہا ہے کہ چونکہ کسی صحابی نے ان پر انکار نہیں کیا، اس لیے اس کو اجماعِ صحابہ سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی یہ ایک معاملہ ہے، نہ کہ عبادت، اس لیے اگر کسی نص میں اس کی نفی نہیں کی گئی تو اس کو جائز ہی سمجھا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3045
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26231»